سعودی شہری ترکی میں لاپتہ کیوں ہو رہے ہیں؟

سعودی عرب کے محکمۂ سیاحت کے ایک اعلی عہدیدار کے مطابق ترکی میں مبینہ طورپر لاپتہ ہونے والے سعودی شہریوں کی تعداد 1006 ہوگئی۔
محکمہ سیاحت کے اعلی عہدیدار ڈاکٹر احمد بن حسن الشہری نے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'لاپتہ' ہونے والے سعودی شہری سیاحت کی غرض سے ترکی گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی میں سعودی سیاحوں کی تعداد میں کمی کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ترکی سعودیوں کے لیے غیر محفوظ ملک بن گیا ہے اور وہاں امن و امان کی صورتحال زیادہ اچھی نہیں ہے۔
خیال رہے اس سے قبل ترکی میں غیر ملکی سیاحوں کی فہرست میں سعودی شہری چوتھے نمبر پر ہوا کرتے تھے۔
الشہری نے کہا کہ مشرق وسطی کے سیاحوں میں سعودی سیاحوں کی شرح 70فیصد ہے۔ یہ لوگ 20 ارب ڈالر سالانہ سیاحت پر خرچ کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ متعدد سیاحتی ممالک سعودی سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اب سعودی شہریوں نے ترکی کے بجائے دیگر ممالک کا رخ کرنا شروع کردیا ہے۔ 'یہ ممالک نہ صرف پرامن ہے بلکہ سعودی سیاحوں کو متعدد سہولتیں بھی فراہم کررہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں سعودی سیاحوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔'
الشہری نے کہا کہ ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری آنے کے بعد وہاں جانیوالے سیاح غیر محفوظ ہوجاتے ہیں۔ جن سعودی شہریوں کو جرائم پیشہ عناصر سے واسطہ پڑ جاتا ہے ان کی مدد کوئی نہیں کرتا، اور پولیس میں رپورٹ کرانے پر بھی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے متعدد ممالک کی حکومتوں نے اپنے شہریوں کو ترکی جانے سے  منع کیا ہے۔
 
 
 

شیئر: