ایران کی سرحد پر باڑ لگانے کا کام جاری

پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی 950 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد پر باڑ لگانے کا کام شروع کر دیا ہے۔
’عرب نیوز‘ کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر داخلہ اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین رحمان ملک نے کہا ہے کہ 950 کلومیٹر طویل سرحد کے مخصوص حصوں پر باڑ لگانے کا کام جاری ہے۔
پاکستان اور ایران کی مشترکہ سرحد ’کوہ مالک صالح پہاڑی‘ سلسلے سے شروع ہوکر گوادرمیں خلیج عمان تک جاتی ہے۔ یہ طویل سرحد چٹیل پہاڑیوں، ندی نالوں اور دریاؤں پر مشتمل ہے۔
پاکستان اور ایران سرحد انسانی سمگلنگ، غیرقانونی تجارت اور سرحد پارسے عسکریت پسندی کے لیے بدنام ہے۔
گذشتہ جمعے کو فرنٹیئر کانسٹیبلری کے کمانڈنٹ معظم جاہ انصاری نے سینیٹ کو بتایا  تھا  کہ ایران سرحد پر باڑ لگانے کے خلاف مزاحمت کر رہا ہے۔

’عرب نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے سینیٹر رحمان ملک نے مزید بتایا کہ باڑ لگانے میں مشکلات پیش آرہی ہیں تاہم ہر صورت سرحد پر باڑ لگائی جائے گی۔
سینیٹر رحمان ملک کے مطابق پوری سرحد پر باڑ لگانے میں تین سے چار سال لگ سکتے ہیں۔
ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے نام نہ بتانے کی شرط پر ’عرب نیوز‘ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ سرحد کے مختلف علاقوں کی باڑ لگانے کے لیے ترجیحات کی بنیاد پر درجہ بندی کی گئی ہے۔ 
ان کا کہنا تھا کہ’ پورے علاقے کی اہمیت اور خطرے کے پیش نظر ترجیحی علاقے نمبر ون، ٹو اور تھری میں تقسیم کیے گیے ہیں۔‘
اہلکار کا کہنا تھا کہ’ ترجیحی علاقے نمبر ون میں سرحد پر باڑ لگانے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ ‘

انہوں نے مزید کہا کہ بارڈر پر باڑ لگانے کا مقصد سرحد پار سے غیر قانونی آمدورفت کو روکنا ہے۔  'ہم نے ان علاقوں کو منتخب کیا ہے جہاں سے دہشت گرد ایک ملک سے دوسرے ملک میں داخل ہو سکتے ہیں۔‘
حالیہ دنوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کشیدہ رہے ہیں اور اس سال اپریل کے مہینے میں وزیر اعظم عمران خان کے دورہ پاکستان کے دوران ایران کے صدر حسن روحانی نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک اپنے مشترکہ بارڈر ایریاز میں عسکریت پسندی کو حتم کرنے کے لیے کوئک ری ایکشن فورس قائم کریں گے۔
مذکورہ اعلان پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ساحلی شاہراہ پر پاکستان کے سکیورٹی فورسز پر دہشت گردانہ حملے میں 14 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آیا ہے۔  
پاکستان کا کہنا تھا کہ حملے میں ملوث دہشت گرد سرحد پار ایران سے آئے تھے اور حکومت پاکستان نے ایران سے شدید احتجاج کیا تھا۔
اس وقت پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں امن کو یقینی بنانے کے لیے ایران کے ساتھ اپنی مشترکہ سرحد پر باڑ لگائیں گے۔  
اس سے پہلے فروری میں پاکستان کی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا تھا کہ ’پاکستان اور ایران اپنی مشترکہ سرحد پر باڑ لگانے پر غور کر رہے ہیں تاکہ کوئی تیسرا فریق دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب نہ کر سکے۔‘
پاکستان گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے صوبہ بلوچستان میں بلوچ علیٰحدگی پسند عسکریت پسندی کا سامنا کر رہا ہے اور مسلح گروہ وقتاً فوقتاً سکیورٹی فورسز اورحکومتی اہداف کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔  

شیئر: