ایک فلمی کہانی جو فلمی نہیں ہے

انیس سو اکتالیس میں متحدہ ہندوستان کی آخری مردم شماری کے موجودہ بھارتی پنجاب میں مسلم آبادی کا اوسط تناسب 30 فیصد تھا۔ تقسیم کے بعد 1951 میں بھارت میں جو پہلی مردم شماری ہوئی اس کے مطابق مشرقی پنجاب کی 30 فیصد مسلم آبادی گھٹ کے ڈیڑھ فیصد تک رہ گئی۔ یہی حال پاکستان میں شامل ہونے والے مسلم اکثریتی مغربی پنجاب کا ہوا جہاں پارٹیشن سے قبل غیر مسلم آبادی 25 سے 30 فیصد آبادی  پارٹیشن کے نتیجے میں ایک فیصد تک رہ گئی ۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ 73 برس پہلے پارٹیشن کے نتیجے میں پنجاب کے دونوں حصوں سے ہر مذہب کے ماننے والوں کی کتنی عظیم نقلِ مکانی اور مار کاٹ ہوئی مگر میں یہاں خون کے سمندر میں تیرتے ہوئے مالیر کوٹلہ کی کہانی سنانا چاہتا ہوں۔
آج بھی بھارتی پنجاب میں واحد مسلم اکثریتی قصبہ مالیر کوٹلہ ہے۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب 60 فیصد ہے۔ مالیر کوٹلہ ریاست کی کہانی افسانوی و فلمی طرز کی ہے ۔
روایت ہے کہ  جب دلی پر افغان نژاد سلطان بہلول لودھی کی حکومت تھی تو افغانستان سے 1467 میں ایک بزرگ شیخ صدر الدین جہاں حیدر شیروانی تشریف لائے اور سرہند کے علاقے میں ایک ٹیکری پر قیام کیا۔کچھ عرصے بعد بہلول لودھی کے لشکر کا گزر ہوا اور یہاں پڑاؤ کیا۔بہلول کی ملاقات شیخ صدر الدین سے ہوئی اور پوچھا کہ میں جس مہم پر جا رہا ہوں اس میں کامیابی ہوگی یا ناکامی۔ شیخ نے کہا کامیاب لوٹو گے۔واپسی پر بہلول نے کامیابی کی خوشی میں ایک شاہی گھوڑا بطور تحفہ شیخ کی نذر کیا اور دلی روانہ ہوگیا۔ شیخ نے وہ گھوڑا ذبح کر کے لنگر میں ڈلوا دیا۔ سلطان تک جب خبر پہنچی تو خاصا ملول ہوا اور خود یہاں تک پہنچا اور اپنے رنج کا اظہار کیا۔ شیخ  نے کہا میری کٹیا سے باہر نکل کے دیکھ ۔ جو گھوڑا اچھا لگے لے جا۔ بہلول نے دیکھا  کہ چاروں طرف ویسے ہی گھوڑے چر رہے ہیں جیسا گھوڑا اس نے شیخ کو تحفے میں دیا تھا۔بہلول نے اپنی ایک لڑکی کی شادی شیخ سے کر دی اور جہیز میں یہ علاقہ بخشا جو مالیر کوٹلہ کہلایا۔شیخ کے تین لڑکے ہوئے ۔شیخ صدر الدین کا مزار شہر کے بیچوں بیچ ہے جہاں مارچ سے جون تک ہر چودھویں کے چاند پر میلہ لگتا ہے ۔اس میں ہر مذہب کا ماننے والا شریک ہوتا ہے۔
سن سولہ سو پچھتر میں اورنگ زیب نے بغاوت کی پاداش میں سکھوں کے نویں گرو تیج بہادر سنگھ کا سر قلم کردیا ۔ تیج بہادر سنگھ کے نوسالہ فرزند گوبند سنگھ نے دسویں گرو کی گدی سنبھالی اور مغلوں سے لڑائی  جاری رکھی۔گرو گوبند سنگھ نے سولہ سو ننانوے میں خالصہ پنت کی بنیاد رکھی۔
سنہ 1704 میں آنند پور کے مقام پر گرو کی فوج مغلوں کے گھیرے میں آ گئی۔دو لڑکے لڑتے ہوئے مارے گئے ۔گرو کے خاندان کے بقیہ افراد کو آنند پور سے بحفاظت نکلنے کی یقین دہانی کروائی گئی ۔لیکن  جیسے ہی گرو کی والدہ ماتا گجری  دو پوتوں نو سالہ فتح سنگھ اور سات سالہ زور آور سنگھ کو لے کر نکلیں تو مغل کمانڈر وزیر خان  نے انہیں حراست میں لے لیا۔
روایت ہے کہ جب کمانڈر وزیر خان نے گرو گوبند سنگھ کے دونوں کمسن بیٹوں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا تو مالیر کوٹلہ کے نواب شیر محمد خان بھی وہیں موجود تھے۔انہوں نے وزیر خان سے کہا کہ اسلام عورتوں اور بچوں پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر ان بچوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا تو ہر لحاظ سے ظلم ہوگا۔مگر دونوں بچوں کو بہرحال امان نہیں ملی۔انہیں دیوار میں چنوا دیا گیا اور ان کی دادی ماتا گجری صدمے سے جاں بحق ہوگئیں۔
روپوش گرو گوبند سنگھ تک جب یہ خبر پہنچی تو روایت ہے کہ انہوں نے زمین پر پڑی ایک شاخ اٹھاتے ہوئے کہا جیسی یہ شاخ ہری ہے شیر محمد خان اور اس کی اولاد بھی ہری بھری رہے۔وہ دن اور آج کا دن سکھوں کی نظر میں مالیر کوٹلہ نے دائمی احترام حاصل کر لیا۔
اس احترام  کی سب سے بڑی آزمائش 1947 تھا۔ ہر طرف مار کاٹ جاری تھی مگر کسی بلوائی کو مالیر کوٹلہ کی حدود میں گھسنے کی ہمت نہیں ہوئی۔یہ ریاست کئی ماہ تک اردگرد سے پناہ لینے والے لٹے پٹے مسلمانوں کے لئے ایک ٹرانزٹ کیمپ بنی رہی ۔چار سے پانچ لاکھ مسلمانوں کو مالیر کوٹلے والوں نے فوج اور پولیس کے تعاون سے سرحد پار کروانے کا کام  کیا۔خود مالیر کوٹلہ سے بہت کم مسلمانوں نے پاکستان ہجرت کی۔شاہی خاندان کے کچھ لوگ پاکستان گئے اور کہا جاتا ہے کہ لاہور اور مظفر گڑھ میں آباد ہوئے۔
 دو ہزار نو کے لوک سبھا انتخابات کی کوریج کے سلسلے میں مجھے مالیر کوٹلہ جانے کا اتفاق ہوا۔بھارت کے دیگر علاقوں کی نسبت میں نے یہاں کے مسلمانوں کو نسبتاً  آسودہ حال پایا۔یہ شہر فرنیچر اور لوہے کے سامان کا مرکز ہے اور پنجاب کا ویجیٹیبل کیپیٹل کہلاتا ہے۔سابق نوابین کے مزارات اچھی حالت میں ہیں ۔ سن انیس سو ایک میں نواب احمد علی کے دور میں بنا موتی بازار اب بھی جدیدیت کی دستبرد سے خاصا محفوظ ہے۔موہن جنرل سٹور کے برابر حسن ٹیلرز اور اس سے ملا ہوا لابھ سنگھ پریتم سنگھ گارمنٹس مجھے آج بھی یاد ہے۔
 شاہی عیدگاہ بھی دیکھنے کی چیز ہے ۔یہاں عیدین کی نمازیں صوبے کے مفتی اعظم پڑھاتے ہیں اور وزیرِاعلی بھی شریک ہوتا  ہے بھلے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو۔ پٹیالہ کی پنجاب یونیورسٹی کے تحت یہاں نواب شیر محمد خان انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانس سٹڈیز بھی ہے جس میں اردو ، فارسی اور عربی میں ایم فل تک تدریس و تحقیق کا انتظام ہے۔ایک مسلم فٹ بال کلب ہے جو بھارت کے ہر اہم ٹورنامنٹ میں شامل ہوتااور جیتا ہے۔

 

ہے ۔
مالیر کوٹلہ سے ذرا باہر پلونڈ  کلاں کے گاؤں میں میرا  کی درگاہ ہے جسے عرفِ عام میں بے بے کا دربار کہا جاتا ہے۔ یہاں ایک نانک پنتھی فقیر گا رہا تھا۔ مجھے لگا کہ مالیر کوٹلہ کی روح اس فقیر کی صدا میں کھنچ آئی ہے۔
جد لوگ کہن بدکار تے رولا مک جاندا اے
جدوں اندروں چھڑ جان تار تے رولا مک جاندا اے
جد رسیا من جائے یار تے رولا مک جاندا اے

شیئر: