اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی جارحیت ہے: اسحاق ڈار
اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی جارحیت ہے: اسحاق ڈار
اتوار 11 جنوری 2026 8:32
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل کے ایک غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو جدہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے ایک غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز، سعودی عرب کے ولی عہد و وزیراعظم محمد بن سلمان اور وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے او آئی سی اور امت مسلمہ کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل تعاون کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’صومالی لینڈ صومالیہ کا غیر متنازعہ اور اٹوٹ انگ ہے۔ کوئی ریاست یا ادارہ قانونی یا اخلاقی طور پر اس حقیقت کو بدلنے کا حق نہیں رکھتا۔ اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ انتہائی تشویش ناک ہے۔‘
وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں بھی اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کی۔
’ہم اس پیش رفت کو صومالیہ کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہِ راست حملہ سمجھتے ہیں جو بین الاقوامی قانون کی کُھلی خلاف ورزی ہے۔
ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت ایسا بنیادی اُصول ہے جس سے انحراف نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ کسی خودمختار ریاست کے لازمی حصے کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنا سفارتی عمل نہیں بلکہ سیاسی جارحیت ہے جو خطرناک مثال قائم کرتا ہے اور ہورن آف افریقہ، بحر احمر کے خطے اور امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے او آئی سی کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ بیان میں اسرائیل کے اس غیرقانونی اقدام کی بھرپور مخالفت کی ہے۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاست کے حصوں کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنا بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’اسرائیلی وزیر خارجہ کا صومالی لینڈ کا دورہ انتہائی تشویش ناک ہے۔‘ (فوٹو:اے ایف پی)
’لہٰذا او آئی سی اور عالمی برادری کی طرف سے اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام کی واضح اور سخت مخالفت نہایت ضروری ہے تاکہ یہ ہٹ دھرمی پر مبنی عمل کسی دوسرے ملک کے لیے مثال نہ بن سکے۔‘
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ہورن آف افریقہ کے خطے میں حالیہ تشویشناک صورتحال اس وقت زیادہ پریشان کن ہیں جب صومالیہ سیاسی اور ادارہ جاتی اصلاحات میں قابلِ ستائش پیش رفت کر رہا ہے۔ وفاقی جمہوریہ صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات، اور ریاستی اداروں کی مضبوطی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان صومالی عوام اور ان کی سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور حوصلے کو بھی سراہتا ہے جنہوں نے الشباب اور اس سے منسلک گروپوں کی خطرناک کارروائیوں کو ناکام بنایا۔ اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات اس خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘
اسحاق ڈار نے کہا کہ ’صومالیہ کی سکیورٹی اور استحکام کی کوششوں کے لیے مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔ اس اہم موقع پر جب صومالیہ انتہا پسندی کو شکست دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، کوئی بھی ایسا اقدام جو توجہ ہٹائے، یکجہتی کو کمزور کرے یا اختلافات کو ہوا دے، نہایت غیر ذمہ دارانہ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان او آئی سی اور عالمی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایک واضح موقف اپنائیں اور ان تمام اقدامات کی بھرپور مخالفت کریں جو صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا مزید کہنا تھا کہ ’آج کا یہ اجلاس ہماری مشترکہ یکجہتی کا شاندار مظہر ہے، جو صومالیہ کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی کے خلاف ہمارا مضبوط موقف پیش کرتا ہے۔ پاکستان صومالیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔‘