Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عراق کی جے ایف17 تھنڈر اور سپر مشاق طیاروں میں گہری دلچسپی

پاکستانی  افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ عراق نے پاکستان کے جے ایف-17 تھنڈر اور سپر مشاق طیاروں میں ’گہری دلچسپیظاہر کی ہے۔
آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان ایئر فورس کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اپنے سرکاری دورۂ عراق کے دوران عراقی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ مہند غالب محمد رادی الاسدی سے ملاقات کی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ایئر چیف کو عراقی فضائیہ کے ہیڈکوارٹر میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جو کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی احترام اور مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ مذاکرات میں دو طرفہ فوجی تعاون کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں مشترکہ تربیت، صلاحیت سازی اور عملی تعاون کو بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔
عراقی فضائیہ کے سربراہ نے پاکستان ایئر فورس کی پیشہ ورانہ مہارت اور تکنیکی ترقی کی تعریف کی، پی اے ایف کی عالمی معیار کی تربیت سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کی اور جے ایف-17 تھنڈر لڑاکا طیاروں اور سپر مشاق تربیتی طیاروں میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
خیال رہے حالیہ عرصے خصوصاً گذشتہ سال مئی میں ہونے والی چار روزہ پاک انڈیا فوجی کشیدگی کے بعد سے پاکستان کے دفاعی شعبے میں دلچسپی اور سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اسلام آباد نے اس جھڑپ میں کامیابی کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ اس نے انڈیا کے چھ طیارے مار گرائے، جن میں فرانسیسی ساختہ رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ انڈیا نے نقصانات کا اعتراف تو کیا، تاہم تعداد کی وضاحت نہیں کی۔
اس کے بعد کئی ممالک نے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون میں اضافہ کیا، جبکہ متعدد دیگر ممالک کے وفود نے پاکستان ایئر فورس کی ملٹی ڈومین فضائی جنگی صلاحیتوں سے سیکھنے میں دلچسپی لی، جنہوں نے یہ کامیابی سے دکھایا کہ جدید چینی فوجی ٹیکنالوجی مغربی ہتھیاروں کے مقابلے میں کس طرح کارکردگی دکھاتی ہے۔
پاکستان چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے جے ایف-17 کو کم لاگت والے ملٹی رول لڑاکا طیارے کے طور پر پیش کرتا ہے اور خود کو ایک ایسے سپلائر کے طور پر متعارف کروا رہا ہے جو مغربی سپلائی چین سے ہٹ کر طیارے، تربیت اور دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کر سکتا ہے۔
روئٹرز نے اس ہفتے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان سوڈان کو اسلحہ اور جنگی طیارے فراہم کرنے کے لیے 1.5 ارب ڈالر کے معاہدے کے آخری مراحل میں ہے، جو سوڈانی فوج کے لیے ایک بڑی تقویت ہوگی، جو نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز کے خلاف لڑ رہی ہے۔ اس رپورٹ میں سابق اعلیٰ فضائیہ اہلکار اور تین ذرائع کا حوالہ دیا گیا تھا۔
گذشتہ ماہ روئٹرز نے پاکستانی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان نے لیبیا کی نیشنل آرمی کو چار ارب ڈالر سے زائد مالیت کا فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی تاریخ کی اسلحہ کی فروخت کی سب سے بڑی ڈیلز میں سے ایک ہے، جس میں 16 جے ایف-17 لڑاکا طیارے اور بنیادی پائلٹ تربیت کے لیے 12 سپر مشاق تربیتی طیارے شامل ہیں۔

شیئر: