گل نبی سوچ رہے ہیں معاشرہ ، حکومت کب سوچیں گے؟

فرشتہ کے والد اپنی بیٹی کے مجرم انصاف کے کٹہرے میں دیکھنا چاہتے ہیں
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آئین بھی ہے، جمہوریت بھی، پارلیمان بھی ہے اور سپریم کورٹ بھی۔ قانون کی عمل داری قائم کرنے کے بلند بانگ دعوے، وعدے اور نعرے بھی ہر طرف ہیں مگر فرشتہ پھر بھی چار دن لاپتہ رہنے کے بعد ماری گئی۔
دس سالہ فرشتہ کی گمشدگی کا مقدمہ اس وقت درج ہوا جب اس کی نعش کو جنگل میں جانور نوچ رہے تھے۔ 
نعش ملی تو پولیس کا کام ختم ہوگیا۔ پھر پارلیمنٹ ہاؤس اور سپریم کورٹ سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پولی کلینک ہسپتال میں ڈاکٹر دستیاب نہیں تھے جو فرشتہ کے نوچے جانے والے پر گنتے اور اس کے زخموں کو کرید کر پولیس کی تفتیشی فائل بھرتے تاکہ عدالت میں پیش کرنے کے لیے مقدمہ بنتا۔
احتجاج ہوا، ڈاکٹر آئے اور پوسٹ مارٹم ہوگیا۔ 
میڈیا پہنچا، کیمرے آن ہوئے، فلیش چمکے، خبر بنی تو سیاست دان آئے۔ 

فرشتہ اسلام آباد  سے 15 مئی کو لاپتہ ہو گئی تھی اور چار روز بعد ان کی نعش ملی تھی

فوجی ترجمان نے بیان دیا، وزیراعظم نے نوٹس لیا مگر فرشتہ کے والد گل نبی اس تمام شور شرابے کے بعد اب یہ سوچتے اور کہتے ہیں کہ ’ اگر یہ لوگ پہلے دن ہی اتنے متحرک ہوتے تو یہ سب نہ ہوتا جو فرشتہ کے ساتھ ہوا۔‘
جمعرات کو ’اردو نیوز‘ سے بات کرتے ہوئے گل نبی نے بتایا کہ اللہ ایسا صدمہ کسی کو نہ دے۔ ’یہ سب لوگ باتیں کرتے ہیں۔ وزیراعظم اور فوج والے بھی بس باتیں کرتے ہیں اس لیے مجھے اعتماد نہیں۔‘
گل نبی کہتے ہیں کہ ان کو اعتبار ہے تو صرف ان لوگوں پر جو فرشتہ کی گمشدگی کے دن سے ان کے ساتھ بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔ ’مجھے نثار مہمند اور ان جیسے وکیل بھائیوں پر اعتماد ہے جنہوں نے مجھ غریب کی مدد کی اور اس وقت کھڑے ہوئے جب کوئی نہ آیا تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر یہ لوگ نہ آتے اور میڈیا متحرک نہ ہوتا تو میرے بس میں کچھ نہیں تھا۔ ’غریب آدمی ہوں۔ قریبی دوستوں، وکیلوں اور میڈیا نے مدد کی تو یہ سارے سیاست دان آئے اور حکومت جاگی۔‘
گل نبی اب کیا چاہتے ہیں؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ ’جو میری بیٹی کے ساتھ ہوا، آئندہ کسی کی بچی کے ساتھ نہ ہو۔‘
’مجرموں کو سزا ملے اور جلد ملے۔ قاتلوں کو عبرت ناک اور سرعام سزا دی جائے۔‘
گل نبی کا کہنا تھا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ جلد انصاف ملے۔ اسی طرح جس طرح زینب کے قاتل کو فوری سزا ملی۔‘

زینب قتل کیس میں بھی انتظامیہ اس وقت متحرک ہوئی تھی جب قصور میں مظاہرے شروع ہوئے تھے

سیاست دانوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اس پر فرشتہ کے غمزدہ والد نے کہا کہ ’میں سیدھا سادہ آدمی ہوں۔ سیاست دانوں کی باتوں کو نہیں سمجھتا۔ صرف تعزیت کو سمجھ لیتا ہوں۔ جو میرا غم بانٹتا ہے اس کے لیے دعا کر سکتا ہوں۔‘
گل نبی کہتے ہیں کہ اس وقت زیادہ اطمینان قریبی لوگوں اور ان دوستوں سے ملتا ہے جو پہلے دن سے میرے ساتھ ہیں اور مجھ غمزدہ کی دلجوئی کر رہے ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ بڑے لوگ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ ’چاہتا ہوں کہ اسی طرح کی مدد کریں جیسے قصور میں قتل کی گئی زینب کے خاندان سے کی گئی۔‘
گل نبی نے بتایا کہ لاچار اور غریب آدمی ہوں۔ ’وسائل نہیں ہیں۔ کرائے کے گھر میں رہتا ہوں۔ دیہاڑی دار مزدور ہوں اور کیا بتاؤں۔‘
فرشتہ چلی گئی اور گل نبی سوچ رہے ہیں کہ معاشرہ اور حکومت کب سوچیں گے؟
جمعرات کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن پولیس نے ایک ملزم کو پیش کیا۔ جج کو فرشتہ قتل کیس میں گمشدگی کی رپورٹ بروقت درج نہ کرنے والا ایس ایچ او غلام عباس یاد آ گیا ۔ انہوں نے ملزم سے پوچھا کہ ’کیا رات آپ کے ساتھ حوالات میں فرشتہ قتل کیس میں گرفتار ایس ایچ او بھی بند تھے؟‘
ملزم نے کہا کہ ایس ایچ او کو حوالات میں نہیں رکھا گیا تھا۔ 
اس دوران خبر آئی کہ وزیراعظم کے نوٹس پر فرشتہ کے پوسٹ مارٹم میں غفلت برتنے والے پولی کلینک ہسپتال کے میڈیکو لیگل افسر کو بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔
کیا گل نبی کو اب اعتماد کرنا چاہیے؟

شیئر: