Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عرب اتحاد کی یمن میں تناؤ کم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والی فوجی نقل و حرکت کے خلاف وارننگ

سعودی عرب نے ایس ٹی سی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ دسمبر کے اوائل میں مشرقی صوبوں سے پیچھے ہٹ جائیں (فائل فوٹو: اے ایف پی)
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد نے  خبردار کیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی فوجی نقل و حرکت سے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر نمٹا جائے گا۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق عرب اتحاد نے یہ انتباہ سنیچر کو جاری کیا ہے۔
عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ انتباہ یمن کی صدارتی قیادت کونسل کی اس درخواست کے بعد سامنے آیا ہے جس میں صوبہ حضرموت میں شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
انہوں نے ان اقدامات کی ضرورت کو جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی) سے وابستہ گروپوں کی جانب سے کی جانے والی سنگین انسانی خلاف ورزیوں کا نتیجہ قرار دیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ اقدامات سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی ان مشترکہ کوششوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد تناؤ کو کم کرنا، افواج کے انخلاء میں سہولت فراہم کرنا، فوجی کیمپوں کی حوالگی اور مقامی حکام کو ان کے فرائض انجام دینے کے قابل بنانا ہے۔‘
ایس پی اے کے مطابق ترکی المالکی نے یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لیے اتحاد کی حمایت کا اعادہ کیا اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور پرامن حل کی طرف رجوع کریں۔
جنوبی عبوری کونسل نے اس ماہ کے دوران جنوب میں وسیع کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کو عدن میں اس کے صدر دفتر سے بے دخل کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے ایس ٹی سی فورسز سے مطالبہ کیا ہے کہ دسمبر کے اوائل میں مشرقی صوبوں حضرموت اور مہرہ کے جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا، وہ وہاں سے پیچھے ہٹ جائیں۔

شیئر: