پاکستانی طلبہ کو اے آئی کی تعلیم کے لیے یورپ اور چین بھجوانے کا منصوبہ کیا ہے؟
پاکستانی طلبہ کو اے آئی کی تعلیم کے لیے یورپ اور چین بھجوانے کا منصوبہ کیا ہے؟
ہفتہ 27 دسمبر 2025 5:37
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
وفاقی حکومت کی جانب سے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے لیے بھی الگ الگ کوٹہ مقرر کیا جائے گا (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ملک بھر سے طلبہ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے چین اور یورپ بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ بظاہر ایک اہم اقدام ہے اور پاکستان میں اے آئی کے فروغ کے لیے چین اور یورپی ممالک سے جدید معلومات اور مصنوعی ذہانت سے متعلق مہارتیں حاصل کرنا ایک مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے تاہم اس حوالے سے یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ یہ تعلیم کس نوعیت کی ہوگ ی اور کن شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔
یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ حکومت اپنے اس اعلان کو عملی جامہ کیسے پہنائے گی اور طلبہ کس طریقۂ کار کے تحت بیرونِ ملک جا کر اے آئی کی تعلیم حاصل کر سکیں گے؟
وفاقی حکومت نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا تاہم حکومت کے مجوزہ منصوبے کے تحت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے شعبے میں طلبہ کو بیرونِ ممالک بھیجنے کے لیے باقاعدہ ایک پروگرام یا سکیم لانچ کی جائے گی جس کے تحت درخواستیں طلب کی جائیں گی اور طلبہ کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
اس سلسلے میں ہائر ایجوکیشن کمیشن، وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور نیوٹیک یا پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے باہمی اشتراک سے طلبہ کے چناؤ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کے لیے بھی الگ الگ کوٹہ مقرر کیا جائے گا اور ان علاقوں سے منتخب ہونے والے طلبہ کو بھی چین یا یورپ بھیجا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت مختلف یورپی ممالک، برطانیہ اور چین کی جامعات کے ساتھ سکالرشپس اور حکومت سے حکومت (G2G) معاہدوں کی بنیاد پر طلبہ کے تعلیمی اخراجات اور دیگر ضروری اخراجات یا تو سکالرشپ کے ذریعے پورے کیے جائیں گے یا اسے حکومت خود برداشت کرے گی۔
بیرونِ ملک جانے والے طلبہ کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف کورسز، ڈیٹا اینالیسس، اے آئی مینوفیکچرنگ، مشین لرننگ سائبر سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں جدید اے آئی پروگرامز سے متعارف کروایا جائے گا۔
اس حوالے سے ابھی تک حتمی کورسز کی فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی۔
وفاقی حکومت کا مجوزہ منصوبہ ہے کہ آئندہ سال کے وسط تک طلبہ کے انتخاب اور بیرونِ ممالک کی مختلف یونیورسٹیوں کے ساتھ بات چیت کا عمل مکمل کر کے طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔
اردو نیوز نے اس حوالے سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماہرین سے بھی گفتگو کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ حکومت کا یہ منصوبہ کس حد تک کامیاب ہو سکتا ہے؟
ماہرین سمجھتے ہیں کہ حکومت کو اپنے اعلان کو کامیاب بنانے کے لیے واضح پالیسی کے تحت کام کرنا ہو گا، کیونکہ پاکستان اے آئی کو اپنانے میں اب مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اپنے اعلان کو کامیاب بنانے کے لیے واضح پالیسی کے تحت کام کرنا ہو گا (فائل فوٹو: شٹرسٹاک)
سٹینفورڈ یونیورسٹی میں اے آئی ایتھکس فیلو معیز امان نے اردو نیوز سے گفتگو میں بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی طلبہ کو اے آئی کی تعلیم کے لیے بیرونِ ملک بھیجنے کا ابھی صرف اعلان کیا ہے۔ کوئی واضح پالیسی ابھی سامنے نہیں آئی لیکن اعلان کی حد تک اسے خوش آئند قرار دیا جا سکتا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے لیکن پاکستان میں اس حوالے سے کام دنیا کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔وفاقی حکومت کا یہ اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب پاکستان میں بھی مصنوعی ذہانت کی اہمیت کا ادراک پیدا ہو رہا ہے۔‘
’اگر ہم آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو نہیں سمجھیں گے تو مستقبل میں اے آئی ہم پر حاوی ہو جائے گی، اس لیے ضروری ہے کہ ملک کے تمام شعبوں کو مصنوعی ذہانت سے روشناس کروایا جائے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ حکومت نے یورپ اور چین کا انتخاب ہی کیوں کیا، معیز امان کا کہنا تھا کہ چین اے آئی کی مدد سے جدید مشینری بنانے میں مہارت حاصل کر چکا ہے جبکہ یورپ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے قوانین اور ضوابط کو ریگولیٹ کرنے میں دنیا سے کہیں آگے ہے۔
’امریکہ میں اگرچہ اے آئی تیزی سے فروغ پا رہی ہے اور سیلیکون ویلی دنیا کا ایک بڑا آئی ٹی ہب ہے لیکن وہاں کے بڑے ٹیک ادارے کسی نہ کسی حد تک سیاست سے منسلک ہیں جبکہ چین میں اے آئی کا سیاست میں کردار نسبتاً کم ہے، اسی لیے ان دونوں خطوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔‘
کیا طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجنے کے لیے ایچ ای سی ہی مرکزی کردار ادا کرے گی؟ اس سوال پر اُن کا کہنا تھا کہ ’دنیا میں کہیں بھی ایچ ای سی جیسا کوئی ادارہ موجود نہیں جو جامعات کو اس حد تک ریگولیٹ کرتا ہو۔ دیگر ممالک میں یونیورسٹیوں کو مکمل خودمختاری حاصل ہوتی ہے اور وہ اپنے فیصلے خود کرتی ہیں۔‘
وہ سمجھتے ہیں کہ ’حکومت کو اس منصوبے میں ایچ ای سی کا کردار کم سے کم رکھنا چاہیے اور یونیورسٹیوں کو زیادہ اختیار دینا چاہیے تاکہ یہ معاملات یا تو بین الجامعات (یونیورسٹی ٹو یونیورسٹی) یا براہِ راست یونیورسٹی اور طالب علم کے درمیان طے پائیں اور طلبہ کو بیرونِ ملک بھیجا جا سکے۔‘
اسی طرح اسلام آباد میں مقیم انفارمیشن ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی اور اے آئی کے ماہر محمد اسد الرحمان کا کہنا ہے کہ بلاشبہ یہ حکومت کا ایک اچھا اقدام ہے بشرطیکہ اس کے تحت واقعی اہل اور متعلقہ افراد کو منتخب کیا جائے۔
انہوں نے یہ تجویز دی کہ ’حکومت کو صرف تھیوریٹیکل تجربہ رکھنے والے سکالرز کو بھیجنے کے بجائے ان افراد کو ترجیح دینی چاہیے جو انڈسٹری اور فیلڈ میں عملی تجربہ رکھتے ہوں تاکہ وہ مزید مہارتیں سیکھ کر واپس آ سکیں۔‘