انضمام الحق کی سلیکشن کمیٹی پر آنے والے اتار چڑھاؤ

انضمام الحق کی بطور چیف سلیکٹر کارکردگی نشیب و فراز کا شکار رہی (اے ایف پی فوٹو)
کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کے سفر کے اختتام کے ساتھ ہی قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا معاہدہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ انضمام الحق کے مستقبل کا فیصلہ کرکٹ کمیٹی کی سفارشات سے مشروط ہے۔
انضام الحق کے بطور چیف سلیکٹر تین سالہ معاہدے کی مدت اپریل 2019 کو پوری ہو چکی تھی تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ولڈ کپ کے پیش نظر انضمام الحق کو جولائی کے وسط تک بطور چیف سلیکٹر کام جاری رکھنے کو کہا تھا۔
ترجمان پاکستان کرکٹ بورڈ سمیع الحسن برنی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی آئندہ چند روز میں ہونے والے اجلاس میں انضمام الحق اور ان کی کمیٹی کی گذشتہ تین سال کی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔
اس اجلاس کے بعد کرکٹ کمیٹی قومی ٹیم کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ قومی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کے مستقبل کے حوالے سے بھی اپنی سفارشات دے گی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کو سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز شکست کا سامنا کرنا پڑا

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی کرکٹ کمیٹی کے سفارشات کی روشنی میں قومی سلیکشن کمیٹی کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
کرکٹ کمیٹی کی تشکیل چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد دی تھی۔ جس کی سربراہی کے لیے محسن حسن خان، اور اراکین کے طور پر سابق کپتان وسیم اکرم، مصباح الحق اور خواتین کرکٹ ٹیم کی سابق کپتان عروج ممتاز کا انتخاب کیا گیا تھا۔
گذشتہ دنوں محسن حسن خان کی کرکٹ کمیٹی سے مستعفی ہونے کے بعد مینجنگ ڈائیرکٹر وسیم خان اب کرکٹ کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
اپریل 2016 میں اس وقت کے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریار خان نے انضمام الحق کو قومی سلیکشن کمیٹی کی سربراہی کی ذمہ داری سونپی تھی۔ انضمام الحق کی سلیکشن کمیٹی کا دوراتارچڑھاؤ کا شکاررہا۔ تاہم 2017 کی چیمپئینز ٹرافی میں قومی ٹیم کی فتح ان کی بطور چیف سلیکٹر بڑی کامیابی شمار کی جاتی ہے۔ 

امام الحق نے اپنی کارکردگی سے اپنے چچا کے انتخاب کو کافی حد تک درست ثابت کیا

چیف سلیکٹر انضمام الحق تنازعات کے شکار رہے 
کرکٹ کیرئیر میں تنازعات سے دور رہنے والے مڈل آرڈر بیٹسمن انضمام الحق بطور چیف سلیکٹر متعدد بار تنازعات کا شکار رہے۔ چیف سلیکٹر انضمام الحق کے خلاف بڑا تنازع اس وقت سامنے آیا جب لیگ سپنر عبدالقادر نے انضمام الحق پر اپنے بیٹے ابتسام الحق کو قومی جونئیر ٹیم میں شامل کروانے کے لیے جونیئر ٹیم کے چیف سلیکٹر باسط علی سے سفارش کرنے کا الزام عائد کیا۔ تاہم باسط علی اور انضمام الحق دونوں نے نہ صرف اس کی سختی سے تردید کی بلکہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا۔
بعد ازاں چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے ساتھ ملاقات کے بعد ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ۔ 
انضمام الحق کو اپنے بھتیجے امام الحق کو قومی ٹیم میں شامل کرنے  پر بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا  لیکن امام الحق نے اپنی کارکردگی سے اپنے چچا کے انتخاب کو کافی حد تک درست ثابت کیا۔ 

انضمام الحق کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا 

انضمام الحق کی منتخب کردہ ٹیم کی کارکردگی کیسی رہی؟
انضمام الحق کی بطور چیف سلیکٹر کارکردگی پر نظر ڈالیں تو ان کا پہلا امتحان قومی کرکٹ ٹیم کا چار ٹیسٹ میچز پر مشتمل دورہ انگلینڈ تھا۔ قومی ٹیم نہ صرف چار میچز کی ٹیسٹ سیریز دو دو سے برابر کرنے میں کامیاب ہوئی بلکہ 28 سال بعد ٹیسٹ ریکنگ میں بھی پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 
انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر عہد میں پاکستان نے 11 ٹیسٹ سیریز کھیلیں جس میں سے چار میں پاکستان فتح سے ہمکنار ہوا، پانچ میں ناکامی جبکہ دو سیریز برابری کے نتیجے پر ختم ہوئیں۔ 
ٹیسٹ کرکٹ میں انضمام الحق کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب کپتان مصباح الحق اور یونس خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کیا۔
دونوں کی ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان ٹیم نے اب تک مجموعی طور پر چھ ٹیسٹ سیریز کھیلیں جن میں سے پاکستان صرف آئرلینڈ اور متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے خلاف سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا جبکہ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر رہی۔
اس دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کو سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز جبکہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 

انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز برابر رہی

 ون ڈے کرکٹ میں کپتان اظہر علی کی ریٹائرمنٹ کے بعد جہاں سرفراز احمد کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی وہیں انضمام الحق کو نو آموز اور ناتجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ چیپمپیئنز ٹرافی کے لیے ٹیم تیار کرنے کا چیلنج درپیش تھا۔ 
ون ڈے کرکٹ میں انضمام الحق کے بطور چیف سلیکٹر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی جیتنا بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے، کیونکہ پاکستان چیمپیئنز ٹرافی کا کوالیفائنگ راونڈ کھیلنے کے بعد ٹورنامنٹ کا حصہ بنا تھا۔ 
ون ڈے سیریز پر نظر ڈالی جائے تو گذشتہ تین سالوں میں انضمام الحق کی منتخب کردہ ٹیم نے  مجموعی طور پر 12 ون ڈے سیریز اور دو آئی سی سی ٹورنامنٹس میں حصہ لیا۔
 پاکستان آئرلینڈ کے خلاف ایک، ویسٹ انڈیز کے خلاف دو، سری لنکا اور زمبابوے کے خلاف ایک ایک سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا۔  جبکہ انگلینڈ اورآسٹریلیا کے ہاتھوں دو، دو، جنوبی افریقہ کے اور نیوزی لینڈ کے خلاف ایک، ایک سیریز میں شکست کا سامنا رہا۔  نیوزی لینڈ کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی جانے والی ایک روزہ سیریز برابر کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 

2017 کی چیمپئینز ٹرافی میں قومی ٹیم کی فتح ان کی بطور چیف سلیکٹر بڑی کامیابی شمار کی جاتی ہے

اسی دوران پاکستان نے متحدہ عرب امارات میں 2018 میں ایشیا کپ میں شرکت کی جس میں پاکستان صرف افغانستان اور ہانگ کانگ سے ہی میچ جیتنے میں کامیاب رہا جبکہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 
گذشتہ تین سالوں میں پاکستان ٹیم کی ٹی 20 کارکردگی کا جائزہ لیں تو اس دوران پاکستان نے 13 ٹی 20 انٹرنیشنل سیریز کھیلیں جس میں پاکستان 11 سیریز جیتنے میں کامیاب ہوا۔ اس دوران پاکستان ٹیم نے مسلسل 11 میچز جینتے کا ریکارڈ بھی قائم کیا اور آئی سی سی انٹرنیشنل ریکنگ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 
انضمام الحق نے جب بطور چیف سلیکٹرعہدہ سنبھالا تو پاکستان ٹیسٹ رینکنگ میں تیسرے، ون ڈے میں نویں، اور ٹی 20 میں ساتویں نمبر پر تھا۔ آج پاکستان ٹیم ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں، ون ڈے میں چھٹے جبکہ ٹی 20 میں پہلے پوزیشن پر موجود ہے۔ 
 

شیئر: