سمارٹ ہیلمٹ: ’کان کنوں کی داؤ پر لگی زندگیوں کا محافظ‘

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کوئلے کی کانوں میں حفاظتی آلات اور مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال سینکڑوں کان کن مختلف حادثات میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں یا پھر زندگی بھر کے لیے معذور ہوجاتے ہیں۔ ایسے ہی ایک حادثے میں ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی کے رہائشی علی گل کے بھائی بھی زخمی ہوئے تو انہوں نے کوئلہ کان کنوں کی جانیں بچانے کیلئے کچھ کر دکھانے کا فیصلہ کیا۔
کوئٹہ کی بیوٹمز یونیورسٹی میں کمپیوٹر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرتے ہوئے علی گل نے ایک ایسا ہیلمٹ بنایا جو کان کنوں کی داﺅ پر لگی زندگیوں کی حفاظت کا کام بخوبی کر سکتا ہے۔ کئی خوبیوں کے حامل اس سمارٹ ہیلمٹ کو اب علی گل بڑی پیمانے  پر متعارف کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں اس کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی ان کی مدد کر رہا ہے۔ 
اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے علی گل نے بتایا کہ ان کے بنائے ہوئے ہیلمٹ میں ایسے سینسرز نصب کئے گئے ہیں جن کی مدد سے نہ صرف کان کے اندر موجود میتھین اور دیگر گیسز کی نشاندہی ہو سکے گی بلکہ اس سے درجہ حرارت اور نمی کی مقدار کا بھی علم ہو گا۔ ’یہ گیسز جب کان کے اندر جمع ہوتی ہیں تو کان کن کی موت کا سبب بنتی ہیں اس لیے بروقت نشاندہی سے کان کن کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ اس ہیلمٹ کی یہ بھی خوبی ہے کہ یہ کان کے اندر کام کرنے والے مزدور کے جسم میں آکسیجن کی مقدار سے متعلق بھی بروقت معلومات فراہم کرے گا۔ ہیلمٹ بتائے گا کہ آکسیجن کی جگہ کہیں کان کن گیس تو نہیں لے رہا ۔

علی گل کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 14 ملین روپے کی گرانٹ دی ہے

ہیلمٹ میں نصب جی پی ایس کان کن کی رئیل ٹائم لوکیشن کی ٹریکنگ کرے گا کہ اس وقت وہ کس جگہ کام کر رہا ہے۔ ہیلمٹ کے علاوہ ہم کان کنوں کو ایک ڈسٹ ماسک بھی دیں گے جو گرد و غبار اور گیسز کو فلٹر کرے گا۔
علی گل کے مطابق یہ تمام ڈیٹا ہمارے پاس ایک کلاﺅڈ ریموٹ ایپلیکشن کے ذریعے دستیاب ہو گا جس سے ہمیں پتہ چل سکے گا کہ کان کن اس وقت کس جگہ اور کس حالات میں کام کر رہا ہے، اگر وہاں پر گیس کی کوئی موجودگی پائی گئی ، کان کن کے جسم کے اندر آکسیجن کی مقدار کم ہوئی یا پھر کوئی دوسرا خطرہ ہوا تو یہ ہیلمٹ خود بھی الارم بجا کر کان کن کو خبردار کرے گا اور باہر بھی گراﺅنڈ سٹیشن پر خبردار کرے گا کہ اس کان کن کی حالت خطرے میں ہے، اس طرح ہم انہیں بروقت ریسکیو کر سکیں گے۔
اس کے علاوہ ہم سمارٹ ہیلمٹ کے ذریعے کان کے مستقبل کے ماحول سے متعلق بھی خبردار کر سکیں گے کہ آئندہ آنے والے وقت میں کان کی کیا صورتحال ہو گی تاکہ حفاظتی انتظامات اختیار کر کے کان کنوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
علی گل نے بتایا کہ میں ایسے علاقے سے تعلق رکھتا ہوں جہاں ہمارے قریب بہت ساری کوئلے کی کانیں موجود ہیں۔ وہاں میں نے اس بات کا ادراک کیا کہ کوئلہ کانوں میں بہت زیادہ حادثات ہو رہے ہیں اور اس میں کان کن زخمی ہو رہے ہیں یا پھر مر رہے ہیں ۔ ہمارے گاﺅں کے کئی لوگ کوئلہ نکالتے ہوئے حادثات میں ہلاک ہوئے۔ میرے بھائی خود کوئلہ کان میں کام کرتے ہوئے زخمی ہوئے تو میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ کوئی ایسی چیز بنائی جائے جو ان حادثات کو روک سکے اورمزدور کو فائدہ دے سکے۔

سمارٹ ہیلمٹ کے ذریعے کان کے مستقبل کے حوالے سے بھی خبردار کیا جا سکے گا

خیال رہے کہ بلوچستان میں کوئلے کی کان کنی روزگار کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے۔ مزدور تنظیموں کے مطابق بلوچستان میں قریباً ایک لاکھ افراد کان کنی کا کام کرتے ہیں جن کی جانیں حفاظتی آلات اور انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ داؤ پر لگی رہتی ہیں۔
علی گل کے مطابق بیچلر آف سائنس کے بعد ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرتے ہوئے انہوں نے اس ہیلمٹ کو کمرشلائز کرنے کا سوچا ۔’گذشتہ سال بلوچستان میں 146 کان کنوں کی مختلف حادثات میں اموات ہوئیں اور تین سو مزدور زخمی ہوئے اس لئے میں نے محسوس کیا کہ اس ہیلمٹ کی مزدوروں کو بہت ضرورت ہے اور اسے بڑے پیمانے پر بنا کر مارکیٹ میں لایا جائے۔‘
علی گل کا کہنا ہے کہ  اس ہیلمٹ کی قیمت پندرہ سے بیس ہزار روپے کے قریب ہو گی۔ یہ اتنی بڑی رقم بھی نہیں۔ یہ کمپنی اور کوئلہ کان مالکان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کان کنوں کے حفاظتی آلات بشمول ہیلمٹ دیں۔ یہ ہیلمٹ کمپنیوں اور کوئلہ کان مالکان کو بھی بہت زیادہ فائدہ دے گا کیونکہ کسی کان میں جب حادثہ ہوتا ہے تو اس کمپنی یا پھر کان مالک کا بھی کافی نقصان ہو جاتا ہے۔ انہوں نے زخمی ورکرز کے علاج و معالجے اور ہلاک ہونے والے مزدور کے لواحقین کو بھی مالی امداد دینا ہوتی ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں ان کے کان کا پورے کا پورا ڈھانچہ تباہ ہو جاتا ہے۔ اس کان کو دوبارہ بنانے پر لاکھوں روپے لگتے ہیں اور مہینوں تک وہ کان بند پڑی رہتی ہے۔

علی گل کہتے ہیں کہ کان کنوں کے سمارٹ ہیلمٹ کی قیمت 15 سے 20 ہزار روپے ہو گی

اس ہیلمٹ کے ذریعے نہ صرف وہ کان کنوں کی جانوں کی حفاظت کر سکتے ہیں بلکہ کان کی پیداوار کو بھی بڑھا سکتے ہیں ۔ان کا کام نہیں رکے گا اور مزدور کی جان و صحت بھی محفوظ رہے گی۔
علی گل کا کہنا ہے کہ سالانہ 150 کے قریب  کان کن مرتے ہیں اتنی اموات تو دہشت گردی میں بھی لوگوں کی نہیں ہوتی۔ ’ایک ورکر دور دراز علاقے سے آتا ہے پورے کا پورا خاندان اس پر انحصار کرتا ہے، اس کی موت کی صورت میں پورا خاندان مشکلات میں آجاتا ہے۔ یہ ان کے لیے بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے۔ انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور ہمیں اسے روکنا ہو گا۔ ہمارے کام کا بنیادی مقصد بھی مزدوروں کی جانوں کو بچانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدا میں اس منصوبے کو عملی شکل دینے میں فنڈز کی کمی کا سامنا تھا اب ہمیں ہائر ایجوکیشن کمیشن ٹیکنالوجی ڈویلپمنٹ فنڈ سے 14 ملین روپے کی گرانٹ ملی ہے۔
علی گل کی خواہش ہے کہ جان بچانے کی خوبیوں کے حامل اس سمارٹ ہیلمٹ کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں کان کنوں تک پہنچانے میں حکومت ان کی مدد کرے۔

شیئر: