Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سعودی عرب، امارات اور اتحادی ملکوں کی غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت

سعودی عرب، امارات، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکیہ نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
سعودی عرب اور اتحادی ملکوں نے غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کی مذمت کی  ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے دوران کیے گئے ان حملوں کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ایک مشترکہ بیان میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں ایک خطرناک رجحان کا مظہر ہیں جس سے کشیدگی کو ہوا دیے جانے اور امن و استحکام کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
پانچ اسلامی ملکوں کے اِس مشترکہ بیان سے قبل قطر، اردن اور مصر نے سنیچر کو غزہ میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اِن سے کشیدگی میں کمی کی کوششوں کو نقصان اور علاقائی استحکام کو خطرہ ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تازہ ترین پیش رفت ایک نازک موقع پر ہوئی ہےجب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تجویز کردہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کو نافذ کرنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بار بار ہونے والی خلاف ورزیاں سیاسی عمل کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور غزہ میں استحکام اور انسانی بنیادوں پر کاموں کے لیے مزید مستحکم مرحلے کے حالات پیدا کرنے کی کوششوں کو پٹڑی سے اتار سکتی ہیں۔
وزرائے خارجہ نے امن منصوبے کے اگلے مرحلے کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے جنگ بندی کی مکمل پابندی کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں تمام فریقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس حساس مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں، زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ بندی کو برقرار رکھیں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے موجودہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچے۔ بیان میں غزہ کی پٹی میں جلد بحالی اور تعمیرِنو میں سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات پر بھی زور دیا گیا ہے۔
منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے ہے جو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور ’عرب امن اقدام‘ کے مطابق ہونا چاہیے۔

 

شیئر: