بلوچستان: کلیئرنس آپریشن جاری، حملوں کی منصوبہ بندی بیرونی دہشت گرد عناصر نے کی: آئی ایس پی آر
بلوچستان: کلیئرنس آپریشن جاری، حملوں کی منصوبہ بندی بیرونی دہشت گرد عناصر نے کی: آئی ایس پی آر
ہفتہ 31 جنوری 2026 22:12
آئی ایس پی آر کے مطابق ’شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر بیٹوں نے عظیم قربانی دی‘ (فوٹو: آئی ایس پی آر)
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’31جنوری 2026 کو انڈیا کے زیرِسرپرستی چلنے والے ’فتنۃ الہندوستان‘ کے دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے گرد و نواح میں متعدد دہشت گردانہ کارروائیاں کر کے بلوچستان کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر نے سنیچر کی شب جاری کردہ بیان میں کہا کہ ’اپنے غیرملکی آقاؤں کے ایماء پر دہشت گردی کی ان بزدلانہ کارروائیوں کا مقصد ضلع گوادر اور خاران میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا کر مقامی آبادی کی زندگیوں اور بلوچستان کی ترقی میں خلل ڈالنا تھا۔‘ بیان کے مطابق ’دہشت گردوں نے خواتین، بچوں، بزرگوں اور مزدوروں سمیت 18 بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔‘
’سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مکمل الرٹ رہے اور فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے غیرمتزلزل ہمت اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا۔‘
’ہمارے بہادر جوانوں نے انتہائی درستی کے ساتھ دہشت گردوں کا گھیراؤ کیا اور پورے بلوچستان میں طویل، شدید اور جرأت مندانہ کلیئرنس آپریشن کے بعد تین خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا جس سے مقامی آبادی کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا گیا۔‘
بیان میں بتایا گیا کہ ’افسوس ناک طور پر کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر بیٹوں نے جواں مردی سے لڑتے ہوئے عظیم قربانی دی اور شہادت کا رتبہ پایا۔‘
’ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز مسلسل جاری ہیں اور بے گناہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے والے ان گھناؤنے اور بزدلانہ اقدامات کے ماسٹر مائنڈز، سہولت کاروں اور مددگاروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق ’انٹیلی جنس رپورٹس نے واضح طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور ہدایت کاری پاکستان سے باہر بیٹھے دہشت گرد عناصر نے کی تھی جو واقعے کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھے۔‘
آئی ایس پی آر کے مطابق بیرونی عناصر واقعے کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں تھے (فوٹو: ویڈیو گریب)
’اس سے قبل 30 جنوری کو پنجگور اور ہرنائی میں ’فتنۃ الہندوستان‘ اور ’فتنۃ الخوارج‘ کے 41 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ گزشتہ دو دنوں کے ان کامیاب آپریشنز کے ساتھ بلوچستان میں جاری کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی کل تعداد 133 تک پہنچ گئی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقے میں موجود انڈیا کے زیرِسرپرستی کسی بھی دوسرے دہشت گرد کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشنز جاری ہیں۔
’پاکستان کی سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل اپیکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی یہ انتھک مہم ملک سے غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پوری رفتار سے جاری رہے گی۔‘