پاک سرزمین شاد باد: قومی ترانے کی کہانی!

زندگی کے میلے اور جھمیلے میں قومی ترانہ ہی وہ طلسماتی اثر رکھتا ہے جو یکایک پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے، سب ہی تعظیماً کھڑے ہو جاتے ہیں جس کے ساتھ ہی ذہن میں ایک فلم بھی چلتی ہے جس میں کبھی قائد اعظم کی شبیہ ابھرتی ہے تو کبھی سبز ہلالی پرچم کی، کچھ مراحل پر آنکھیں بھیگتی ہیں تو کہیں سر فخر سے بلند ہوتا ہے یہ فلیش بیک ’سایہ خدایہ ذوالجلال‘ پر ختم ہوتا ہے تو بندہ پوری تاریخ کا چکر لگا چکا ہوتا ہے۔ 
پاکستان کے قومی ترانے کو دنیا کے چند بہترین ترانوں میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ تہذیب، ثقافت، اقدار، جذبات، احساسات، محل وقوع، طوراطوار، رہن سہن، مشاہیر، بزرگوں اور وطن سے محبت تک سب کا احاطہ کرتا ہے۔
چند مصرعوں اور مختصر دورانیے کی دُھن پر مشمتل یہ ترانہ ’قومی‘ کے درجے پر کیسے فائز ہوا، کن شخصیات کی محنت شامل رہی، کتنے شعرا، موسیقار شامل رہے، کتنے ترانے پیش ہوئے، پہلی بار کب نشر ہوا، کون سے متنازع ایشوز سامنے آئے وغیرہ سے ایک ایسی لمبی کہانی سامنے آتی ہے جس سے کُھلتا ہے کہ یہ کارِآسان نہیں تھا، آئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت قومی ترانہ نہیں تھا یکم مارچ 1949 کو پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی ہدایت پر اس حوالے سے کراچی میں اجلاس ہوا جس کے بعد اخبارات کے ذریعے شعرا کو ترانہ لکھنے اور موسیقاروں کو دھن بنانے کی دعوت دی گئی۔

قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری

قومی ترانے کی دُھن

خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں مزید دو کمیٹیاں بنائی گئیں ایک کو شاعری اور دوسری کو دُھن کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اکیس جولائی 1949 کو کمیٹی ارکان نے قومی ترانے کے لیے ممتاز موسیقار احمد علی غلام علی چھاگلہ کی تیار کردہ دھن منظور کرلی گئی۔ یکم اگست 1949 کو اسے ریڈیو پاکستان پر بہرام رستم جی نے اپنے پیانو پر بجا کر ریکارڈ کرایا۔ اس وقت اس کا دورانیہ 80 سکینڈ تھا۔ اس دھن کو پہلی مرتبہ یکم مارچ 1950 کو پاکستان میں ایران کے سربراہ مملکت کی آمد پر بجایا گیا تھا۔ 

شاعری

دُھن کی تیاری کے بعد اس کی مناسبت سے الفاظ کو اشعار میں ڈھالا جانا ضروری تھا، تمام معروف شعرا کو دھن سنوائی گئی اور ہر رات ریڈیو پر بھی نشر کروائی جاتی رہی۔
چند ہی روز میں کمیٹی کو 723 ترانے ملے جن کا جائزہ لینے کے بعد حفیظ جالندھری، حکیم احمد شجاع اور زیڈ اے بخاری کی شاعری کو چنا گیا اور چار اگست1954 کو پاکستان کی مرکزی کابینہ نے حفیظ جالندھری کے لکھے ہوئے ترانے کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کرلیا۔ 13 اگست 1954 کو یہ ترانہ پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔
قومی ترانے میں تین بند ہیں اور ہر بند میں پانچ مصرعے ہیں یعنی کل پندرہ، تمام مصرعوں کے مختلف ہونے کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ دھن پہلے بنا لی گئی تھی اس کی مناسبت سے الفاظ کا چناؤ کیا جانا تھا جو حفیظ جالندھری نے نہایت خوبصورت انداز میں کیا۔
ترانے میں موسیقار احمد چھاگلہ نے کل 48 ساز استعمال کیے جسے 11 گلوکاروں نے مل کر گایا اس کا دورانیہ ایک منٹ 20 سکینڈ ہے۔

قومی ترانے کو سنتے ہوئے ذہن میں قائداعظم کی شبیہ ابھرتی ہے۔

قومی ترانہ اردو میں نہیں؟

ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ترانہ فارسی میں ہے اور صرف ایک لفظ ’کا‘ اردو کا ہے۔
یہ بحث اس لیے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی کیونکہ جب ہم مانتے ہیں کہ اردو مختلف زبانوں سے مل کر بنی ہے اور اس کا مطلب ہی لشکر ہے تو پھر تو دیگر زبانوں کا اس میں سمونا کوئی انہونی بات نہیں، جتنے بھی الفاظ ترانے میں شامل ہیں وہ سب اردو میں مستعمل اور عام فہم ہیں اور باقاعدہ اردو زبان کا حصہ ہیں۔

پہلا ترانہ کوئی اور تھا؟

کافی برس قبل کچھ لوگ یہ کہتے پائے گئے کہ یہ پاکستان کا موجودہ ترانہ پہلا نہیں، اس سے قبل بھی ایک ترانہ لکھا گیا، سنہ 1987 میں اس حوالے سے ڈاکٹر خلیق انجم نے ’جگن ناتھ آزاد حیات اور ادبی خدمات‘ کے نام سے ایک کتاب لکھی جس کے مطابق ’معروف شاعر جگن ناتھ آزاد پہلے قومی ترانے کے خالق تھے۔ قائد اعظم کی خواہش پر جگن ناتھ آزاد نے یہ ترانہ لکھا تھا۔ قائد اعظم نے اسے منظور کیا تھا اور 18 ماہ تک یہ پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر رائج رہا۔ اس ترانے کے الفاظ تھے ’ذرے ترے ہیں آج ستاروں سے تابناک ۔ ۔ ۔ اے سرزمین پاک‘ قائد اعظم کی وفات کے بعد اسے تبدیل کر دیا گیا۔‘
جس کے جواب میں عقیل عباس جعفری نے ’پاکستان کا قومی ترانہ، کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟ نامی کتاب لکھی انہوں نے لکھا ’ایک طبقے کا خیال ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا تھا، اس ضمن میں جگن ناتھ آزاد کے ایک انٹرویو کا حوالہ دیا جاتا ہے جس کے مطابق جناح صاحب نے انہیں یہ کام سونپا تھا کہ وہ پاکستان کا قومی ترانہ لکھیں۔ تاریخی حقائق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جگن ناتھ آزاد نے کہیں بھی اپنے ترانے کو ترانہ نہیں کہا۔

پاکستان کی مسلح افواج قومی ترانہ سنتے ہوئے۔

عقیل عباس جعفری لکھتے ہیں ’ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور ڈاکٹر صفدر محمود کی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ 14 اور 15 اگست 1947 کی درمیانی شب ریڈیو پاکستان کی اولین نشریات میں جگن ناتھ آزاد کا کوئی نغمہ یا کوئی ترانہ شامل نہ تھا۔ ممکن ہے کہ جگن ناتھ کا تحریر کردہ نغمہ جسے وہ خود ترانہ اور ان کے مداحین قومی ترانہ کہنے پر مصر ہیں، بعد میں کسی اور وقت نشر ہوا ہو، مگر ابھی تک ریڈیو پاکستان کا کوئی ریکارڈ یا ریڈیو پاکستان سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کی کوئی تحریر اس کی بھی تصدیق نہیں کر سکی ہے۔
عقیل عباس جعفری نے اس حوالے سے ’اردو نیوز‘ کو بتایا کہ اگر جگن ناتھ کا لکھا قومی ترانہ ریڈیو پر پیش ہوا ہوتا تو کوئی تو اس کا نشان ملتا کیونکہ اس کی دھن بنی، ریکارڈ ہوا لیکن نہ موسیقار کا نام سامنے آ سکا اور نہ ہی کسی سازندے نے آ کر اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی جبکہ ریکارڈنگ کے عمل سے بہت سے لوگ منسلک ہوتے ہیں کبھی کسی نے ایسی بات نہیں کی اس لیے جو لوگ اس استدلال کے پیچھے پڑے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔ 
جمیل زبیری نے اپنی کتاب ’یاد خزانہ، ریڈیو پاکستان میں 25 سال‘ میں لکھا کہ سندھ کے پہلے ریڈیو سٹیشن نے چار اگست 1947 کو اپنے کام کا آغاز کیا۔ اس کے قیام کا بنیادی خیال ایس کے حیدر نامی شخص کا تھا جن کی کراچی میں ریڈیو کی دکان تھی۔

بعض اوقات قومی ترانہ سنتے ہوئے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے اس سلسلے میں اے ایم چھاگلہ سے مشورہ کیا اس کے بعد وہ دونوں حکومتِ سندھ کے اس وقت کے ایک مشیر اڈنانی سے ملے اور کچھ پرانے ٹرانسمیٹروں کی مرمت کر کے تین کمروں پر مشتمل ایک ریڈیو سٹیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے۔
اس کا نام ’سندھ گورنمنٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن‘ رکھا گیا۔ 10 اگست سے اس کی باقاعدہ نشریات کا آغاز ہوگیا۔ 14 اگست 1947 کو اس سٹیشن سے پاکستان کے قیام اور قائدِ اعظم کے گورنر جنرل کے عہدے کا حلف اٹھانے کی کارروائی کا آنکھوں دیکھا حال نشر کیا گیا۔
اس ریڈیو اسٹیشن کی نشریات صرف دس روز جاری رہیں۔ 20 اگست 1947 کو اسے بند کر دیا گیا کیوں کہ وائرلیس ایکٹ کے تحت کوئی بھی صوبائی حکومت ریڈیو سٹیشن نہیں چلا سکتی تھی۔ سنہ 1996 میں بے نظیر بھٹو کے دور میں احمد علی چھاگلہ کو صدارتی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا جو ان کے فرزند عبدالخالق چھاگلہ نے وصول کیا۔
موسیقار احمد چھاگلہ کا انتقال پانچ فروری 1953 کو ہوا، حفیظ جالندھری کا انتقال 21 دسمبر 1982 کو ہوا مینارِ پاکستان کے باغ میں ان کا مقبرہ بنایا گیا ہے۔

شیئر: