کراچی میں صفائی مہم یا سیاسی مہم ؟

کراچی کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ گٹر بھی ابل رہے ہیں۔ (فائل فوٹو:اے ایف پی)
وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے دو روز قبل شہرِ قائد میں وفاقی حکومت کے زیرِ انتظام 'صاف کراچی' مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ابھی تک شہر میں کہیں بھی صفائی کے لیے عملی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے اور رہائشی علاقوں میں کچرے کے ڈھیر جوں کے توں موجود ہیں۔
اس صفائی مہم میں پی ٹی آئی حکومت کا ساتھ ان کی اتحادی جماعت ایم کیو ایم دے رہی ہے، جس کے پاس شہر کی بلدیاتی حکومت ہے تاہم میئر کراچی وسیم اختر ہر بار کی طرح اس بار بھی اختیارات نہ ہونے کا شکوہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب سندھ حکومت کے محکمہ بلدیات کو اس صفائی مہم میں شامل نہیں کیا گیا۔ اس سلسلے میں صوبائی بلدیاتی وزیر سعید غنی کے ترجمان زبیر میمن نے اردو نیوز کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر اس مہم کا آغازکیا ہے، وزیربلدیات سندھ سعید غنی نے وفاقی حکومت کے نمائندوں سے اس حوالے سے بات کرنا چاہی تھی لیکن کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ صفائی مہم کے لیے مشینری تو صوبائی حکومت کی ہی استعمال کی جائے گی جو محکمہ بلدیات کے ذیلی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے ذیر استعمال ہوتی ہیں۔‘

’وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر اس مہم کا آغازکیا ہے۔‘

پی ٹی آئی ایم این اے عالمگیر خان جو ماضی میں اپنی فلاحی تنظیم فکس اِٹ کے تحت صفائی مہم چلاتے رہے ہیں، ان کے حلقہ انتخاب این اے 243 گلشن اقبال کے مختلف علاقوں میں کچرے کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ نکاسی آب کا نظام ابتر ہونے کی وجہ سے جگہ جگہ گٹر ابل رہے ہیں۔ کم و بیش یہی حال کراچی کے تمام علاقوں کا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین حکومتی کارکردگی سے غیرمطمئن

حالیہ صفائی مہم کو لے کر شہریوں میں خاصے تحفظات ہیں جن کا اظہار وہ سوشل میڈیا کے ذریعے کر رہے ہیں۔ صفائی مہم کے اعلان کے بعد سے شہری اپنے اپنے علاقوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر کے حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

نارتھ ناظم آباد یو سی 20 کے رہائشی ہارون ادریس نے اپنی پوسٹ میں حکومت سے علاقے میں نکاسی آب کا مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔
ایک اور شہری حماد انور نے صدر ٹاؤن میں سڑک پر  جمع گٹر کے پانی کی ویڈیو شیئر کی جبکہ محمد برہان نے پی سی ایچ ایس کے علاقے کی تصویر اپلوڈ کی۔
فرید عالم نامی ٹوئٹرصارف نے لکھا کہ ’عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کراچی میں ایک بار پھر سیاسی صفائی مہم کا آغاز کردیاگیا ہے۔‘
واضح رہے کہ حالیہ بارشوں کے بعد سڑکوں اور شاہراہوں سے تو پانی کا نکاس ہو گیا ہے لیکن مختلف علاقوں میں گلیوں اور میدانوں میں بدستور پانی کھڑا ہے جس سے علاقہ مکینوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

شیئر: