Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا کے ساتھ ٹی20 ورلڈ کپ تنازع: ’دباؤ‘ کے آگے نہیں جھکیں گے، بنگلہ دیش

بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس نے کہا کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ٹیم ورلڈ کپ میں حصہ لے گی یا نہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ ’دباؤ‘ کے آگے نہیں جھکے گا اور انڈیا میں اپنے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچ نہیں کھیلے گا۔
بنگلہ دیش کے سخت موقف کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں اس کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے، جبکہ کرکٹ کی عالمی تنظیم نے تاحال اس تعطل پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے انڈیا میں ورلڈکپ میچز کھیلنے سے انکار کر رہا ہے اور اس نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے درخواست کی ہے کہ اگلے ماہ ہونے والے ٹورنامنٹ کے لیے اس کے میچ شریک میزبان سری لنکا منتقل کیے جائیں۔
ہفتے کے آخر میں آئی سی سی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھی تعطل کو ختم نہیں کیا جاسکا۔
انڈین میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کو کہا گیا ہے کہ وہ بدھ تک انڈیا میں کھیلنے پر رضامندی ظاہر کرے، ورنہ اسے ٹورنامنٹ سے باہر کیا جا سکتا ہے۔
تاہم بنگلہ دیش کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنے مؤقف پر نظرِ ثانی کے لیے دباؤ قبول نہیں کرے گی۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کے مشیر آصف نظرل نے منگل کی شب سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کو بتایا، ’ہم نے جائز وجوہات کی بنیاد پر منطقی انداز میں مقام کی تبدیلی کی درخواست کی ہے۔ ہمیں غیر منطقی دباؤ یا غیر معقول جبر کے ذریعے انڈیا میں کھیلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔‘
ٹی20 ورلڈ کپ 7 فروری کو شروع ہو رہا ہے، یعنی اب اس میں صرف دو ہفتے سے کچھ زیادہ وقت باقی ہے، اور بنگلہ دیش کے گروپ کے چاروں میچ کولکتہ اور ممبئی میں شیڈول ہیں۔
بنگلہ دیش کے کپتان لٹن داس نے کہا کہ انہیں خود بھی معلوم نہیں کہ ٹیم ورلڈ کپ میں حصہ لے گی یا نہیں۔

ک تجویز یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا جائے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

منگل کو ایک مقامی میچ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جہاں میں کھڑا ہوں، میں غیر یقینی کا شکار ہوں، سب غیر یقینی کا شکار ہیں۔‘
انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا، ’کیا آپ کو یقین ہے کہ ہم ورلڈ کپ کھیلیں گے؟‘
ڈھاکہ کے اخبار پروتھوم آلو کے مطابق انہوں نے مزید کہا ’میرے خیال میں اس وقت پورا بنگلہ دیش ہی غیر یقینی صورتحال میں ہے۔‘
کولمبو میں موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ سری لنکا سے بنگلہ دیش کے میچوں کی میزبانی کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔
ایک تجویز یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کی جگہ سکاٹ لینڈ کو شامل کر لیا جائے، جو ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہ کرنے والی ٹیموں میں سے سب سے بہتر رینکنگ والی ٹیم ہے۔
بی بی سی کے مطابق کرکٹ سکاٹ لینڈ سے بھی آئی سی سی نے رابطہ نہیں کیا، تاہم اگر آخری وقت پر بلایا گیا تو وہ شرکت کے لیے تیار ہیں۔
یہ تنازع 3 جنوری کو اس وقت شروع ہوا جب انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو انڈین کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مصطفیض الرحمان کو ٹیم سے نکالنے کا حکم دیا، جس کے بعد ڈھاکہ میں شدید غصہ پھیل گیا اور ورلڈ کپ لیے انڈیا جانے سے انکار سامنے آیا۔
ورلڈ کپ کے دوران بنگلہ دیش میں 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد پہلے انتخابات ہوں گے، جس میں اس وقت کی وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، جو نئی دہلی کی قریبی اتحادی تھیں، اقتدار سے ہٹا دی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے انڈیا اور بنگلہ دیش کے سیاسی تعلقات کشیدہ ہیں۔

شیئر: