Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سیاحت، ثقافت اور سوگ: کیا کیلاش قبیلے کو سرکاری مالی سہارا مل گیا؟

خیبرپختونخوا حکومت نے کیلاش قبیلے کی ثقافت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے خصوصی  فنڈ منظور کیا ہے جس کے لیے باقاعدہ قانون سازی کی گئی ہے۔
اس نئے قانون کے تحت صوبائی حکومت کسی کیلاشی کے فوت ہو جانے پرآخری رسومات کے لیے مالی مدد کی جائے گی۔
کیلاش انڈوومنٹ فنڈ کی مالیت دس کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں سے رقم کیلاش قبیلے کو ادا کی جائے گی۔ 
خیبرپختونخوا کے صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’کیلاش انڈوومنٹ فنڈ کا مقصد کیلاشی برادری کے ورثے کے تحفظ اور کمیونٹی کی خوشی اور غمی میں مالی معانت فراہم کرنا ہے۔‘
صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق ’دوسری جانب اس اقدام کا مقصد کیلاشی باشندوں کی مالی مدد کرکے ان کو بااختیار بنانا بھی ہے۔ اس  فنڈ سے رقم کی تقسیم کا اختیار 11 رکنی کمیٹی کے پاس ہوگا جو درخواستوں کی جانچ پڑتال بھی کرے گی جبکہ اس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر چترال کے پاس ہوگی۔‘ 
ان کا کہنا ہے کہ ’کیلاش دنیا کی منفرد تہذیب کا حامل قبیلہ ہے جن کی ثقافت کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح چترال کا رخ کرتے ہیں۔‘
وزیر قانون آفتاب عالم کے مطابق صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ان کی ثقافت کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ اس قبیلے میں سیاحتی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیا جائے۔
کیلاش قبیلہ کہاں آباد ہے؟ 

کیلاش کی ثقافت کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح چترال کا رُخ کرتے ہیں: فوٹو اے ایف پی 

خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر چترال میں صدیوں سے آباد کیلاش قبیلے کے منفرد رسم و رواج دنیا بھر میں مشہور ہیں۔
ان کی شادی بیاہ ، خوشی اور غم منانے کے طور طریقے بھی باقی دنیا سے بالکل مختلف ہیں۔ اس قبیلے کی مجموعی آبادی تقریباً چار ہزار  ہے۔
وادیٔ کیلاش تین دیہات پر مشتمل ہے جن میں بریر ، رمبور اور بمبوریت شامل ہیں۔ کیلاش سے تعلق رکھنے والے اقلیتی رہنما اور وزیراعلیٰ کے سابق معاون خصوصی وزیرزادہ کا موقف ہے کہ ’کیلاش قبیلے میں شادی سے زیادہ فوتگی پر خرچ آتا ہے اور سوگواران کو زیادہ اخراجات اٹھانے پڑتے ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’کسی کیلاشی کے فوت ہوجانے پر پورے قبیلے کے افراد تین دن تک سوگ مناتے ہیں۔ فوتگی والے گھر میں تمام آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔‘
’سوگوران کے گھر پر 30 بکرے ذبح کیے جاتے ہیں جبکہ دیسی گھی اور پنیر سے کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’کچھ گھرانوں میں 50 بکرے تک قربان کرکے آنے والے مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے۔‘
وزیرزادہ کیلاشی نے کہا کہ ’کیلاش قبیلے میں تین دن تک تین وقت کا کھانا تیار ہوتا ہے جس کو کھانے کے لیے پورے گاؤں کو بلایا جاتا ہے۔ ایک فوتگی پر 10 لاکھ سے زیادہ خرچہ آتا ہے جو برداشت کرنا ایک غریب کیلاشی شہری کے لیے مشکل ہوچکا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’غریب شہری کی وفات پر گائوں کے صاحبِ حیثیت لوگ سوگواران کی مالی معاونت کرتے ہیں تاکہ رسم و رواج کے مطابق سوگ منایا جا سکے۔‘ 

ضلع لوئر چترال میں صدیوں سے آباد کیلاش قبیلے کے منفرد رسم و رواج دنیا بھر میں مشہور ہیں: فوٹو اے ایف پی

کیلاش سے تعلق رکھنے والی خاتون سوہا ولی نے صوبائی حکومت کے اقدام کو قبیلے کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کیلاش قبیلے میں فوت ہونے والے شخص کی پوری جمع پونچی یا قیمتی اشیا اس کے سرہانے رکھی جاتی ہے۔ مرحوم کی آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے قبیلے کے افراد کا موجود ہونا ضروری ہے۔ تمام افراد میت کے لیے مرثیہ پیش کرتے ہیں جبکہ خواتین اور بچے روایتی گیت گا کر مرنے والے شخص کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔‘
سوہا ولی نے کہا کہ ’کیلاش برادری کے سوگ میں مقامی لوگوں سمیت غیر مقامی افراد اور سیاحوں کی بڑی تعداد بھی شریک ہوتے ہیں۔‘
ان کے مطابق کیلاشی لوگ کھتی باڑی کے پیشے سے منسلک ہیں جن کے لیے آج کے دور میں فوتگی کے اخراجات برداشت کرنا ناممکن ہو چکا  ہے۔ انڈوومنٹ فنڈ سے نہ صرف فوتگی کے اخراجات کو پورا کیا جاسکتا ہے بلکہ قدیم رسم کے تحفظ کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔
واضح رہے کہ وادیٔ کیلاش میں مختلف مذہبی تہوار منائے جاتی ہیں جو سیاحوں کے لیے فیسٹول کی حیثیت رکھتے ہیں جن میں چلم جوشٹ فیسٹول، چائوموس اور اوچھال مشہور ہیں جنہیں دیکھنے کے لیے ہر سال سیاحوں کی بڑی تعداد کیلاش کا رُخ کرتی ہے۔

 

شیئر: