پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے قانون سازی، گاڑیوں کی رجسٹریشن کا طریقہ کیا ہوگا؟
پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروسز کے لیے قانون سازی، گاڑیوں کی رجسٹریشن کا طریقہ کیا ہوگا؟
بدھ 21 جنوری 2026 16:07
صالح سفیر عباسی، اسلام آباد
سینیٹر سرمد علی نے کہا ’پاکستان میں مسافروں کو آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اکثر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘ (فائل فوٹو: یانگو گروپ)
پاکستان میں آن لائن ٹیکسی سروسز کسی مرکزی اتھارٹی کے تحت رجسٹریشن اور واضح ضوابط کے بغیر کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کی حفاظت اور ڈرائیورز کا ریکارڈ نہ ہونے سے متعلق مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔
لیکن اب سینیٹ نے صوبائی موٹر وہیکلز (ترمیمی) بل 2025 منظور کر لیا ہے، جس کے تحت پاکستان میں آن لائن رائیڈ ہیلنگ سروسز کے لیے قواعد و ضوابط کے تحت رجسٹریشن کروانا لازمی ہو گا۔
اس بل کے تحت آن لائن ڈرائیورز کے لیے اتھارٹی سے رجسٹریشن لازمی ہو گی اور اسلام آباد میں رجسٹریشن کے بغیر رائیڈ سروس چلانا مکمل طور پر ممنوع ہو گا۔ رائیڈ ہیلنگ کمپنی کو آپریشن سرٹفیکیٹ بھی حاصل کرنا ہو گا۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ آن لائن ٹیکسی سروسز پر سروس شروع کرنے سے قبل رجسٹریشن اتھارٹی سے اپنی رجسٹریشن کروانا اور فٹنس سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا، جبکہ ڈرائیورز کے لیے ڈرائیونگ لائسنس اور خصوصی اجازت لینا بھی ضروری ہو گا۔
علاوہ ازیں، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سالانہ فٹنس سرٹیفیکیٹ کے ساتھ، رائیڈ ہیلنگ کمپنی کو ڈرائیورز اور گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا ہو گا اور متعلقہ حکام کو ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرنا لازمی ہو گا تاکہ مسافروں کے تحفظ اور شفاف نظام کو یقینی بنایا جا سکے۔
اردو نیوز نے اس معاملے کی تفصیل جاننے کے لیے بل پیش کرنے والے پیپلز پارٹی کے سینیٹر سرمد علی سے رابطہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں مسافروں کو آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اکثر مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
’رجسٹریشن اور ضوابط نہ ہونے کی وجہ سے جرائم کے واقعات بھی پیش آتے تھے اور حکومتی اتھارٹی کے پاس ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہوتا تھا۔ آن لائن رائیڈنگ ایپس پر چوںکہ زیادہ تر خواتین مسافر اعتماد کرتی ہیں، اس لیے ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے قواعط و ضوابط کا ہونا ضروری تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ بھی ضروری تھا کہ نہ صرف گاڑیوں اور ڈرائیورز کی رجسٹریشن ہو بلکہ ان کے ساتھ ساتھ مناسب حفاظتی اقدامات بھی ہوں، تاکہ چلانے والا اور سوار دونوں محفوظ رہیں۔‘
اس بل کے تحت آن لائن ڈرائیورز کے لیے اتھارٹی سے رجسٹریشن لازمی ہو گی۔ (فائل فوٹو: بلوم پاکستان)
کون سی اتھارٹی رجسٹریشن کرے گی؟
سینیٹر سرمد علی نے بتایا کہ ’یہ بل چوںکہ اسلام آباد میں نافذ ہو گا، اس لیے ضلعی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، جو ضلعی انتظامیہ کے ماتحت کام کرتی ہے، ہی آن لائن کمپنیوں اور ان کی گاڑیوں کی رجسٹریشن کی ذمہ دار ہو گی۔‘
اسی طرح گاڑیوں کے فٹنس سرٹفیکیٹس کے لیے موجود ادارے بھی اس عمل کی نگرانی کریں گے اور گاڑیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔
ان کے مطابق یہ بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے اور امید ہے کہ جلد قومی اسمبلی سے بھی منظور ہونے کے بعد اسے قانونی شکل دے دی جائے گی۔
آن لائن ٹیکسی سروسز کی رجسٹریشن سے متعلق قانون سازی کے حوالے سے سائبر اور انفارمیشن سکیورٹی کے ماہر محمد اسد الرحمان کا کہنا تھا کہ ’آن لائن ٹیکسی سروسز کی نگرانی کے لیے متعلقہ اتھارٹی کا ہونا نہایت ضروری تھا۔ اس اقدام سے مسافروں کو اعتماد حاصل ہو گا اور حکومتی اتھارٹی کے پاس بھی ریکارڈ موجود ہو گا۔‘
تاہم انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پاکستان میں اکثر قانون سازی کے بعد عمل درآمد میں تاخیر یا رکاوٹیں پیش آ جاتی ہیں۔
اسدالرحمان کے مطابق آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے متعلقہ کمپنی اور اتھارٹی کو مناسب اقدامات کرنے چاہییں۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
اسدالرحمان کے مطابق آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کے لیے متعلقہ کمپنی اور اتھارٹی کو مناسب اقدامات کرنے چاہییں، کیونکہ بل میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ڈیٹا کس طرح محفوظ رکھا جائے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد میں کئی سرکاری ملازمین بھی آن لائن ٹیکسی ڈرائیور ہیں، اور ان کا ڈیٹا آن لائن اپ لوڈ ہونے سے ممکنہ خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔