Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

جانچ کے آلات اور عدالتی کارروائی، پاکستانی شہریوں کی صاف فضا کے لیے جدوجہد

پاکستان میں گزرتے برسوں کے ساتھ فضا میں غیرمعمولی آلودگی نے شہریوں کی پریشانی میں اضافہ کیا ہے اور ایک طرف ہوا میں ذرات کی مقدار دیکھنے والے آلات خریدے جا رہے ہیں تو دوسری جانب قانونی جنگ بھی لڑی جا رہی ہے۔
خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی شہریوں نے صاف فضا میں سانس لینے کے حقوق کی لڑائی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔
انجینئر عابد عمر نے دس برس قبل ہی فضا میں کچھ غیرمعمولی محسوس کر لیا تھا اور اُن کو شک تھا کہ یہ وہ کچھ نہیں جس کو حکام موسمیاتی سموگ قرار دیتے ہیں بلکہ کوئی اور شے ہے۔
کراچی شہر میں منتقل ہونے والے 45 سالہ انجینئر نے روئٹرز کو بتایا کہ لاہور میں ’میرے بچپن اور لڑکپن میں ایسا کچھ نہیں تھا۔‘ مگر کراچی میں بھی سمندری ساحلوں سے آنے والی ہوا شہریوں کو سموگ سے نہیں بچا پا رہی۔
عابد عمر کہتے ہیں کہ سرکاری طور پر اس حوالے سے اعداد وشمار دستیاب نہیں تھے تو انہوں نے خود سے پوچھا کہ کیوں نہ فضائی آلودگی کا اپنے طور پر ہی جائزہ لیا جائے۔
اُن کی تنظیم پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹیو نے سنہ 2016 میں فضا میں آلودگی ناپنے کا پہلا آلہ لگایا اور اب اس طرح کے 150 نگرانی کے آلات ملک بھر میں لگے ہوئے ہیں۔

سنہ 2024 میں پاکستان دنیا کے تین آلودہ ترین ملکوں میں شامل ہو گیا تھا۔ فوٹو: اے ایف پی

تنظیم کے نصب کردہ آلات کے اعداد وشمار کے مطابق سنہ 2024 میں پاکستان دُنیا کا تیسرا سب سے آلودہ فضا والا ملک تھا۔
کینسر کا سبب بننے والے پی ایم 2.5 مائیکرو ذرات کی فضا میں تعداد اُس مقدار سے 14 گُنا زیادہ تھی جتنی عالمی محکمہ صحت نے انسانی صحت کے تجویز کی ہے۔
پاکستان میں ہر سال سموگ بڑھنے پر لاکھوں بچوں کے لیے سکول بند کر دیے جاتے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ فضا میں پھیلی اس آلودگی کی بنیادی وجہ غیرمعیاری ڈیزل کا دھواں، زرعی اجناس کی باقیات کا جلایا جانا اور موسم سرما ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ نجی آلات ضروری ہیں تاکہ سرکاری ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔ فوٹو: اے ایف پی

پاکستان ایئر کوالٹی انیشیٹیو کے ڈیٹا نے ملک میں فضائی آلودگی کے حوالے سے پالیسیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ سنہ 2017 میں اسی تنظیم کے ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں شواہد پیش کیے گئے کہ فضائی آلودگی صحت عامہ کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
عابد عمر نے بتایا کہ اُن کی تنظٰم کے ایئر مانیٹر کو استعمال کرتے ہوئے ہائیکورٹ کو یہ بتایا گیا تھا کہ کمرہ عدالت کی ہوا بھی انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد عدالت نے پنجاب حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنے سٹیشن لگائے جہاں فضائی آلودگی پر نظر رکھی جائے اور اس کے ڈیٹا کو پبلک کیا جائے۔ اب صوبے میں اس طرح کے 44 آلات مختلف شہروں میں نصب ہیں۔
تاہم حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ نجی طور پر نصب کیے گئے ایئر مانیٹر پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا اور یہ لوگ میں افراتفری پھیلا رہے ہیں۔

سموگ کے موسم میں لاہور میں شہری گھروں میں ایئر پیوریفائر لگاتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

دوسری جانب ماہرین کہتے ہیں کہ اس طرح کے آلات ضروری ہیں تاکہ سرکاری ڈیٹا کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے۔
عابد عمر کے مطابق انہوں نے بعض سٹیشن اُس وقت بند کر دیے جب فضا میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔
لاہور میں بہت سے شہریوں نے موسم سرما میں ایئر پیوریفائر خریدے تاکہ گھر کے اندر کی ہوا کو صاف رکھا جائے۔

 

شیئر: