Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’تحریک آزادی زور پکڑے گی، پلوامہ جیسے واقعات ہوں گے‘

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انڈیا نے کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے قائداعظم کے دو قومی نظریے کو درست ثابت کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے اثرات دو ملکوں پر ہی نہیں پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ ’ہم اس کے خلاف اقوام متحدہ دوسرے عالمی فورمز پر اس معاملے کو لے کر جائیں گے۔‘
منگل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہ پہلے بھی انڈیا نے حملے کی کوشش کی تھی جس کا ہم نے بھرپور جواب دیا۔
’اگر آگے بھی کبھی ایسا ہوا تو پھر یہی کچھ ہو گا اور اگر بات روایتی جنگ کی طرف گئی تو ہمارے سامنے دو راستے ہوں ایک بہادر شاہ ظفر والا اور دوسرا ٹیپو سلطان والا، اور ہم دوسرے راستے کا چنائو کریں گے اور خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔‘
۔ قبل ازیں جب عمران خان تقریر کے لیے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن بنچوں کی طرف احتجاج ہوا اور شور شرابہ شروع ہو گیا جس پر عمران خان نے کہا ’اگر اسی طرح شور رہا تو پھر میں بیٹھ جاتا ہوں‘ جس پر اپوزیشن بنچوں کی جانب سے یہ آواز بھی لگائی کہ ’بیٹھ جائیں‘
شور شرابہ بند نہ ہونے پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کھڑئے اور اراکین کو خاموش ہونے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کو تقریر کرنے دیں، اسے سننے کے بعد ہم جواب دیں گے‘
اس کے بعد عمران خان نے پھر سے تقریر شروع کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اول دن سے ہی غربت کا خاتمہ اولین ترجیح تھی اس لیے تمام پڑوسیوں سے تعلقات اچھے کرنے کی کوشش کی اور تمام ہمسایہ ممالک کے دورے کیے لیکن بشکیک میں احساس ہوا کہ انڈیا اس کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے۔
’انڈیا میں انتخابات کے پیش نظر پاکستان مخالف کارڈ استعمال کیا گیا اور جنگی صورت حال پیدا کی گئی جس کا بھرپور جواب دیا گیا اور اس کے باوجود ہم نے خیرسگالی کے جذبہ کے تحت انڈین پائلٹ کو رہا کیا۔‘
 عمران خان نے کہا کہ انڈیا جس قدر کشمیریوں کو دبائے گا اسی قدر مزاحمت بڑھے گی۔ ’کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کیے جانے سے آزادی کی تحریک مزید زور پکڑے گی اور پلوامہ جیسے واقعات ہوں گے جس کے بارے میں میں ابھی سے پیشن گوئی کر دیتا ہوں کہ انڈیا اس کا الزام پھر سے ہم پر لگائے گا۔‘

پاکستان کی فوج کے کمانڈرز نے جی ایچ کیو میں اجلاس میں کے دوران کشمیر کی حالیہ صورتحال پر غور کیا۔

ادھر پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی حمایت میں ہر حد تک جانے کو تیار ہے۔
راولپنڈی کے فوج کے ہیڈ کوارٹر میں کشمیر کی صورتحال پر بلائے گئے کور کمانڈرز کے خصوصی اجلاس کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اجلاس نے حکومت کی طرف سے انڈین اقدام کو مسترد کیے جانے کی مکمل حمایت کی ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے کبھی بھی انڈیا کی طرف آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ذریعے جموں و کشمیر پر اپنے قبضے کو قانونی حثیت دینے کی بھونڈی کوشش کو تسلیم نہیں کیا۔ اب انڈیا نے خود ہی اپنی کوششوں کو ختم کر دیا ہے۔‘
بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ پاکستانی فوج کشمیریوں کی جائز جدوجہد میں آخری تک ان کا ساتھ دے گی۔ ’ہم اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔‘
انڈیا کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے پر بحث کے لیے پاکستان کی پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے۔
اردو نیوز کے نامہ نگار زبیر علی خان کے مطابق سپیکر اسد قیصر کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تو آغاز میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انڈین فوج کی تعیناتی اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر انڈین فوج کی جانب سے کلسٹربم کے استعمال کے خلاف تحریک پیش کی۔
اعظم سواتی کی جانب سے پیش کی گئی تحریک میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کا ذکر نہ ہونے پر اپوزیشن نے اعتراض اٹھا دیا۔  قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ قرارداد میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ذکر نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے بھی حکومت سے تحریک میں ارٹیکل 370 کا ذکر شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔  
اعظم سواتی نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ تحریک میں خصوصی حیثیت کے خاتمے کا ذکر موجود ہے۔ 
جس پر ایوان میں حزب اختلاف کی جانب سے  نعرے بازی شروع ہو گئی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے 'کشمیر کا سودا نا منظور' اور سیلکٹڈ وزیر اعظم کے نعرہ بازی بھی جاری رہی۔ 
وفاقی وزیر اعظم سواتی نے دوبارہ تحریک پیش کی جس میں انڈین حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو بھی شامل کیا گیا۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف انڈیا میں بھی احتجاج ہوا، تصویر: اے ایف پی

سپیکر قومی اسمبلی نے وفاقی وزیر ڈاکٹر شیری مزاری کو بحث کا آغاز کرنے کے لیے مائیک دیا لیکن اپوزیشن کی نعرہ بازی جاری رہی۔ اپوزیشن کی جانب سے نعروں میں شدت آئی تو سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس کی کارروائی 20 منٹ کے لیے ملتوی کر دی۔
پارلیمنٹ کی مشترکہ کارروائی دیکھنے کے لیے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجا فاروق حیدر مہمانوں کی گیلری میں موجود تھے جبکہ اجلاس کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان موجود نہیں تھے۔
اپوزیشن نے جہاں وزیراعظم عمران خان کی ایوان میں عدم موجودگی پر احتجاج کیا وہیں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے طنزیہ انداز میں سپیکر قومی اسمبلی کو ایک خط بھی لکھا گیا۔ خط میں وزیراعظم عمران خان کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈرز جاری کرنا سپیکر کے منصب کا تقاضا بھی ہے۔
 

شیئر: