72 سالہ پاکستانی ڈاکٹر دیر سے کیوں پہنچے؟‎

پاکستان سے تعلق رکھنے والے 72 سالہ ڈاکٹر فریضہ حج کی سعادت حاصل کرنے سعودی عرب پہنچ گئے۔
سبق ویب سائٹ کے مطابق پاکستانی ڈاکٹر وسیع احمد ضعیف العمری میں اپنے بیٹے کے ساتھ حج کرنے سعودی عرب آئے ہیں۔ وہ حج کے مناسک خود ادا نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بیٹے کی مدد سے وہیل چیئرپر خانہ کعبہ کا طواف کیا ۔صفا اور مروہ کی سعی کی، 8 ذو الحج  بمطابق 9 اگست سے حج کا چھ روزہ سفر بھی بیٹے کی مدد سے طے کریں گے۔
ڈاکٹر وسیع احمد سے جب یہ دریافت کیا گیا کہ آپ اس قدر تاخیر سے حج کرنے کیوں آئے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ ہوا یوں کہ میں مریضوں کی مرہم پٹی میں لگا رہا۔ ہرروز میری خواہش اور کوشش ہوتی کہ کوئی نہ کوئی زخمی میرے ہاتھوں ٹھیک ہو جائے۔ کام کا دباؤ اتنا تھا کہ اپنی دلچسپی کا کچھ بھی نہیں کر سکا۔ اب زندگی سے متعلق میرا نظریہ بدل گیا ہے۔ خانہ کعبہ کو پہلی بار دیکھ کر میرے اندر انقلاب برپا ہو گیا ہے۔ اب میرا عزم ہے کہ سال میں کم از کم ایک مرتبہ عمرہ ادا کرنے یہاں ضرور آؤں۔ ارادہ یہ بھی ہے کہ جب تک یہاں رہوں گا خانہ کعبہ سے اپنی نظریں نہیں ہٹاﺅں گا۔
ڈاکٹر وسیع احمد کے بیٹے نے اپنے باپ کے حج کی کہانی یہ کہہ کر بیان کی کہ میرا خواب تھا کہ والدین کو حج کراﺅں، آغاز ابا جان سے کیا ہے آئندہ سال اماں کو حج پر بلاﺅں گا۔

شیئر: