سکول کے پہلے دن ملازمین کو چھٹی

دکان میں ایک طالب علم پسندیدہ رنگ کے قلم دیکھ رہا ہے۔ فوٹو: سعودی پریس ایجنسی
موسمِ گرما کی طویل تعطیلات کے بعد سعودی عرب میں سرکاری اورانٹرنیشنل سکول نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لیے اتوار سے کھل جائیں گے۔
مکہ کے میئر محمد بن عبداللہ القویحص نے سکول کے پہلے دن بچوں کی دلجوئی کیلئے میونسیپلٹی کے ملازمین کو چھٹی دے دی۔ ملازم ماں یا باپ اتوار کو اپنے بچوں اور بچیوں کے ہمراہ گزار سکتے ہیں۔
نرسری اور پرائمری سکول کی پہلی کلاس کے طلبا وطالبات کے والدین کو یہ سہولت ملے گی۔


چند خواتین بچوں کے ہمراہ سٹیشنری کی دکان سے سکول کی اشیا خرید رہی ہیں۔ فوٹو: سعودی پریس ایجنسی

سبق ویب سائٹ کے مطابق مکہ کے میئرنے ٹوئٹر پر اپنے اکاﺅنٹ میں تحریر کیا ہے ’اتوار کو نیا تعلیمی سال شروع ہورہا ہے اس موقع پر مکہ میونسپلٹی کے ملازم نرسری اور پرائمری اسکولوں کی پہلی جماعت میں تعلیم کے لیے جانے والے اپنے بچوں اور بچیوں کے ہمراہ دن گزار سکتے ہیں۔‘
وزارت تعلیم کے ترجمان ابتسام الشہری نے بتایا کہ وزارت تعلیم نے نئے تعلیمی سال کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ تمام صوبوں اور کمشنریوں کے سکولوں کو نصاب تعلیم کی کتابیں فراہم کردی گئیں۔
آتھ کروڑ سے رائد کتابیں نرسری، پرائمری، مڈل اور ثانوی سکولوں کے حوالے کردی گئیں۔


لوگ اپنے بچوں کے ہمراہ اسٹیشنری کی دکان پہنچے ہوئے ہیں۔ فوٹو: سعودی پریس ایجنسی

الشہری نے بتایا کہ کورس کی کتابوں کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑ دیا گیا ہے۔ طالب علموں کو اس کا عادی بنایا جائے گا۔
دوسری جانب جدہ اورسعودی عرب کے دیگر علاقوں میں سٹیشنری کی دکانوں کے علاوہ ریالین (دو ریال والی اشیاء فروخت کرنے والی دکانیں) اور خمسہ ریال (پانچ ریال والی اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں) پرگاہکوں کا رش لگا ہوا ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ کئی ماہ سے سکول بند ہونے کے باعث دکانوں پر وہ رش نہیں تھا جو سکول کے دنوں میں ہوتا ہے۔ اسی طرح فوٹو کاپی کی دکانوں پر بھی رش دیکھا جارہا ہے۔ 
دریں اثناء اتوار سے شروع ہونے والے نئے تعلیمی سال کے لیے محکمہ ٹریفک نے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بہتر کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ چھوٹی اور بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کو رواں دواں رکھنے کیلئے صبح سویرے ہی اہلکار تعینات ہوں گے تاکہ حادثات سے بچا جاسکے جبکہ محکمہ تعلیم نے تعطیلات کے بعد پہلے دن سٹوڈنٹس کی حاضری بہتر بنانے کے لیے بھی مختلف اقدامات کئے ہیں۔

شیئر: