انڈین چائے پینے والے پاکستانی ’دہشت گرد نہیں ہیں‘

ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ پاکستان نے انڈیا جھوٹ بے نقاب کر دیا، تصویر: ٹوئٹر
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انڈیا ایک اور جعلی آپریشن کا ماحول بنانے کے لیے اوچھی حرکتیں کر رہا ہے اور اسی سلسلے میں انڈین فوج اور میڈیا نے لائن آف کنٹرول پر دو دہشت گردوں کو پکڑنے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔‘
آئی ایس پی آر کی جانب سے ہفتے کو جاری ہونے والے بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ انڈیا 21 اگست کو جن دو مبینہ دہشت گردوں کو پکڑنے کا دعویٰ کر رہا ہے وہ در حقیقت دو کسان ہیں جو کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے رہائشی ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’21 سالہ محمد ناظم اور 30 سالہ خلیل احمد گھاس کاٹتے ہوئے حاجی پیر سیکٹر کے مقام پر غلطی سے سرحد پار کر گئے تھے۔‘ 27 اگست کو دونوں ممالک کے حکام نے ہاٹ لائن پر اس معاملے پر بات بھی کی تھی اور انڈین حکام نے معمول کی قانونی کارروائی کے بعد جواب دینے کو کہا تھا۔

انڈین فوج نے الزام لگایا کہ دونوں افراد کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے، تصویر: اے این آئی

بیان میں کہا گیا ہے کہ 2 ستمبر کو انڈین میڈیا نے دونوں افراد کا ایک کالعدم تنظیم سے تعلق کا جھوٹا دعویٰ کیا جس پر 3 ستمبر کو ہفتہ وار ہاٹ لائن رابطے پر انڈین حکام کے ساتھ غلط میڈیا رپورٹس پر بات کی گئی، جس پر انڈین حکام کی جانب سے یہ یقین دلایا گیا کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے پر پاکستانی حکام کو آگاہ کیا جائے گا۔
پاکستانی فوج کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ انڈین فوج نے اس واقعے سے متعلق پاکستان حکام کو باضابطہ آگاہ کرنے کے بجائے 4 ستمبر کو نیوز کانفرنس میں دونوں کسانوں کو دہشت گرد ظاہر کرنے کے لیے جھوٹی اور من گھڑت کہانی سنائی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ’انڈین فوج نے غلطی سے سرحد پار کرنے والے دونوں کسانوں پر تشدد کر کے زبردستی بیانات لیے اور انہیں راولپنڈی کا رہائشی ہونے کا بیان دینے پر مجبور کیا گیا۔ دونوں شہری عام کسان ہیں اور راولپنڈی نہیں بلکہ لائن آف کنٹرول کے قریب گاؤں تیرہ بن کے رہائشی ہیں۔‘

گرفتار انڈین پائلٹ ابھینندن نے پاکستانی چائے کی تعریف کی تھی، تصویر: ویڈیو گریب

پاکستان فوج نے انڈین حکام کی جانب سے اس اقدام کو ایک اور جعلی آپریشن کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان انڈین جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے شواہد کے ساتھ معاملہ اٹھا رہا ہے۔
واضح رہے کہ انڈیا کی جانب سے دونوں افراد کی گرفتاری کو سوشل میڈیا پر انڈین پائلٹ ابھینندن کی پاکستان میں گرفتاری کے واقعے کے اثر کو زائل کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، اور ایسا انڈین حکام کی جانب سے جاری ویڈیو میں دیکھا بھی جا سکتا ہے کہ ایک گرفتار نوجوان کو چائے کا کپ پکڑا کر اس سے اسی طرح سوال جواب کیا جا رہا ہے جس طرح پاکستانی حکام نے ابھینندن سے کیا تھا۔
یاد رہے کہ رواں برس 27 فروری کو پاکستان نے اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر انڈین ونگ کمانڈر ابھینندن کے جہاز کو مار گرانے کے بعد انھیں گرفتارکر لیا تھا۔ اس دوران پاکستانی حکام نے ان کی ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں انہوں نے پاکستانی چائے کو بہترین قرار دیا تھا۔

شیئر: