’پلاسٹک کے خلاف جنگ نوجونواں نے لڑنی ہے‘

تھائی لینڈ کی رہائشی لِلی نے پلاسٹک کے استعمال کے خلاف مہم کا آغاز آٹھ سال کی عمر میں کیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی
پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کے خلاف جہاں بیشتر ممالک سرگرم ہیں، وہیں تھائی لینڈ کی بارہ سالہ بچی ’لِلی‘ نے بھی پلاسٹک کے خاتمے کو اپنا مشن بنایا ہے۔
خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق تھائی لینڈ میں ہر شخص اوسطاً آٹھ پلاسٹک کے تھیلے ایک دن میں استعمال کرتا ہے، جبکہ ایک سال میں تین ہزار پلاسٹک تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں جو یورپی یونین کے مقابلے میں بارہ گنا زیادہ ہے۔
سمندر کو آلودہ کرنے میں بھی تھائی لینڈ چھٹا بڑا ملک ہے۔
رواں سال جون میں لِلی نے اپنی کوششوں سے دارالحکومت بینکاک کی مرکزی مارکیٹ کے دکانداروں کو آمادہ کر لیا کے تمام سٹورز ہفتے میں ایک دن پلاسٹک تھیلوں کا استعمال نہیں کریں گے۔
لِلی نے بتایا کے انہوں نے ارادہ کر لیا تھا کہ اگر حکومت نے ان کی بات نہ سنی  تو وہ پلاسٹک کے تھیلے بانٹنے والوں سے براہ راست بات کر کے ان کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں گی۔
رواں مہینے ستمبر میں تھائی لینڈ کے چند بڑے برینڈز اور سٹورز نے بھی پلاسٹک تھیلوں کے استعمال کو اگلے سال جنوری تک ترک کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

لِلی کی کوششوں سے دارالحکومت بینکاک کی مرکزی مارکیٹ کے تمام سٹورز ہفتے میں ایک دن پلاسٹک تھیلے نہیں استعمال کرتے۔ فوٹو: اے ایف پی

لِلی روزانہ بینکاک کی نہر کو بوتلوں، تھیلوں اور کینز سے صاف کرتی ہوئی سکول سے گھر جاتی ہیں۔
’میں پر امید رہنے کی کوشش کرتی ہوں لیکن مجھے بہت غصہ بھی ہے۔ ہماری دینا ختم ہو رہی ہے۔‘
رواں سال لوگوں کے پلاسٹک کے استعمال کی طرف رویے میں تبدیلی آئی ہے۔ بالخصوص بیشتر سمندری جانوروں کی پلاسٹک کے باعث ہلاکتوں کے بعد سے ماہر ماحولیات پلاسٹک کے نقصانات کے حوالے سے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
لِلی نے پلاسٹک کے خلاف مہم آٹھ سال کی عمر میں شروع کی تھی جب وہ جنوبی تھائی لینڈ میں اپنے والدین کے ساتھ ساحل سمندر پر چھٹیاں گزارنے گئیں۔
’میں نے اپنے والدین کے ساتھ مل کر ساحل کی صفائی شروع کر دی، لیکن اس کا خاص فائدہ نہیں تھا کیونکہ لوگ روزانہ ساحل پر کچرا پھینکتے تھے۔‘

 پلاسٹک کے خلاف جنگ میں رکاوٹ تھائی لینڈ کی  پیٹروکیمیکل انڈسٹری ہے جس کا معیشت میں 5 فیصد حصہ ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

لِلی کو اپنا مشن جاری رکھنے اور مزید آگے بڑھانے میں سولہ سالہ سویڈن کی رہائشی گریٹا تھنبرگ سے حوصلہ مل رہا ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنے میں سرگرم ہیں۔  
’گریٹا تھنبرگ نے مجھے اعتماد دیا ہے۔۔۔ یہ ہم نوجوانوں پر منحصر ہے کہ ہم کچھ کریں۔‘
لِلی کا کہنا تھا کہ ان کی لڑائی جنوب مشرقی ایشیا کو آلودگی سے پاک کرنے کی ہے۔
سماجی کارکنان لِلی کے جذبے کی تعریف تو کرتے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ لِلی کی جنگ بڑے کاروباری مفادات کے خلاف ہے۔
پلاسٹک کے خلاف جنگ میں مرکزی رکاوٹ پلاسٹک بنانے والی پیٹروکیمیکل انڈسٹری ہے، جس کا تھائی لینڈ کی معیشت میں پانچ فیصد حصہ ہے اور اس سے ہزاروں لوگوں کا روزگار منسلک ہے۔

شیئر: