آواز جو مسحور اور قید کر لے

سات دہائیوں تک دلوں کے تار کو چھیڑنے والی آواز کی ملکہ آج 90 سال کی ہو گئی ہیں۔ فوٹو: سوشل میڈیا
انگریزی کے معروف شاعر ولیم ورڈز ورتھ کی ایک نظم 'دی سولیٹری ریپر' یعنی 'تنہا فصل کاٹنے والی' بچپن میں پڑھی تھی اس کا مطلب اس وقت تک سمجھ میں نہیں آیا جب تک کہ معروف گلوکارہ لتا منگیشکر کے ایک گیت نے میرے قدم نہ روک لیے۔
اور یہ گیت فلم 'ممتا' کا تھا جس  کے بول اس طرح تھے 'کبھی تو ملے گی کہیں تو ملے گی ستاروں کی منزل راہی'۔ اس دن پتہ چلا کہ کس طرح آوازیں آپ کو مسحور اور قید کر لیتی ہیں۔
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں لتا منگیشکر کے مداح نہ ہوں۔ لتا منگیشکر کی عظمت کا ایک اور باب اس وقت کھلا جب پاکستان اور اردو زبان کی عظیم شاعرہ پروین شاکر کی نظم 'مشترکہ دشمن کی بیٹی' نظر سے گزری۔
نظم کی کچھ سطریں آپ بھی ملاحظہ کریں:
یہ کیفیت کچھ لمحے رہتی
تو ہمارے ذہنوں کی شریانیں پھٹ جاتیں
لیکن اسی پل آرکسٹرا خاموش ہوا
اور لتا کی رس ٹپکاتی شہد آگیں آواز کچھ ایسے ابھری
جیسے حبس زدہ کمرے میں
دریا کے رخ والی کھڑکی کھلنے لگی ہو!
۔۔۔
میری نیشنلسٹ کولیگز
ہاتھوں کے پیالوں میں اپنی ٹھوریاں رکھے
ساکت جامد بیٹھی تھیں
گیت کا جادو بول رہا تھا!

لتا منگیشکر نے ایک ہزار سے زیادہ فلموں کے لیے گیت گائے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

واقعی لتا منگیشکر کی آواز کا اعجاز جادو اور سحر کے زمرے میں آتا ہے۔ لیکن لتا منگیشکر کا تعارف انڈین فلم انڈسٹری کے 'شہنشاہ جذبات' کہے جانے والے اداکار دلیپ کمار نے لندن کے البرٹ ہال میں منعقدہ ایک پروگرام میں کچھ اس طرح کرایا تھا کہ وہ تعارف بھی جاوداں بن گیا۔
انھوں نے کہا تھا 'حضرات! جس طرح پھول کی خوشبو اور مہک کا کوئی رنگ نہیں ہوتا وہ محض خوشبو ہوتی ہے یا جس طرح بہتے پانی، جھرنے یا ہوا کا کوئی مسکن، گاؤں یا دیس نہیں ہوتا، جس طرح ابھرتے ہوئے سورج کی کرنوں کا یا معصوم بچے کی مسکراہٹ کا کوئی مذہب یا بھید بھاؤ نہیں ہوتا ویسے ہی لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تخلیق کا ایک کرشمہ ہے۔'
سات دہائیوں تک ہر عمر کے لوگوں کے دلوں کے تار کو کسی نہ کسی صورت چھیڑنے والی آواز کی ملکہ لتا منگیشکر آج 90 سال کی ہو رہی ہیں۔ اگر کوئی ان کے گیتوں کے ریکارڈ جمع کرنے لگے تو شاید جمع نہ کر پائے کیونکہ انھوں نے اتنی تعداد میں گیت گائے کہ ریکارڈ رکھنے والے ادارے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے پاس بھی ان کا بالکل درست ریکارڈ نہیں ہے۔
لتا منگیشکر کے پورے خانوادے پر جیسے آواز کی دیوی مہربان رہی ہو۔ وہ انڈیا کی بلا شبہ مقبول ترین اور معزز ترین پلے بیک سنگر رہی ہیں۔ انھوں نے ایک ہزار سے زیادہ فلموں میں مختلف گیتوں کے لیے اپنی آواز دی اور 36 سے زیادہ انڈین اور غیر ملکی زبانوں میں گیت گائے۔ لیکن ان کے سب سے زيادہ گیت ہندی، مراٹھی اور بنگالی زبان میں ملتے ہیں۔

لتا منگیشکر نے پہلی بار 13 سال کی عمر میں مراٹھی فلم کے لیے گیت گایا تھا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

وہ اپنے پانچ بھائی بہنوں میں سب سے بڑی ہیں، ان کی بہن آشا بھونسلے کا ایک زمانے تک ان سے زبردست مقابلہ رہا یہاں تک کہ ان کی زندگی پر مبینہ ایک فلم 'ساز' بھی بنی۔ دوسری دو بہنوں اوشا منگیشکر اور مینا کھاڈیکر نے بھی اپنی آواز کے جادو جگائے جبکہ ان کے بھائی ہردے ناتھ منگیشکر اپنے والد کی طرح موسیقی کے شعبے سے منسلک رہے۔
انہیں ان کے شایان شان اعزاز سے بھی نوازا گیا اور شاید اتنے اعزاز اور ایوارڈ کسی دوسرے کی قسمت میں نہ آسکے، یہاں تک کہ انھیں جب مسلسل فلم فیئر ایوراڈ ملنے لگے تو انھوں نے ان مقابلوں سے خود کو علیحدہ کر لیا اور نئے ٹیلنٹ کو ابھرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کا موقع دیا۔ انہیں 1989 میں فن کے شعبے کے سب سے بڑے ایوارڈ 'دادا صاحب پھالکے ایوارڈ' سے نوازا گیا جبکہ 2001 میں انھیں انڈیا کا سب سے بڑا شہری ایوارڈ 'بھارت رتن' ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گيا۔ دوسرے ممالک میں بھی انہیں اعزاز سے نوازا گیا۔ فرانس نے انہیں 2007 میں اپنے سب سے بڑے شہری ایوارڈ 'آفیسر آف دی لیجن آف آنر' سے نوازا۔
لتا منگیشکر 28 ستمبر 1929 میں اندور میں پیدا ہوئیں لیکن والد کے انتقال کے بعد وہ سب ممبئی منتقل ہو گئے۔ لتا نے سکولی تعلیم پوری نہیں کی اور بچپن میں ہی سکول صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ انہیں اپنی چھوٹی بہن آشا کو لانے کی اجازت نہیں ملی۔ جب لتا 13 سال کی ہوئیں تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور ان کے والد کے دوست ونایک دامودر کرناٹکی نے ان سب کی دیکھ بھال کی۔ لتا نے پہلے پہل مراٹھی فلموں کے لیے اپنی آواز دی اس وقت ان کی عمر محض 13 سال تھی۔

لتا منگیشکر کا بہن آشا بھونسلے کے ساتھ ایک زمانے تک زبردست مقابلہ رہا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

1945 میں ممبئی منتقل ہونے کے بعد وہاں انہوں نے استاد امن علی خان سے کلاسیکل انڈین موسیقی کی تعلیم حاصل کی اور انہوں نے 1946 میں آنے والی فلم کے ایک گیت سے ابتدا کی۔ 1948 میں ونایک کرناٹکی کی موت کے بعد موسیقار غلام حیدر نے پلے بیک سنگر کے طور پر ان کو نکھارا۔ انھوں نے دلیپ کمار کی اداکاری والی فلم 'شہید' کے لیے فلم کے پروڈیوسر سشادر مکھرجی سے لتا کی آواز کے بارے میں کہا اور ان کی آواز لینے کی بات کہی لیکن انھوں نے لتا کی آواز کو 'بہت پتلی' کہہ کر مسترد کر دیا۔ اس وقت غلام حیدر کے منہ سے جو کلمہ نکلا وہ پتھر کی لکیر بن گیا۔ انھوں نے کہا کہ 'آنے والے دنوں میں فلم ساز اور ہدایت کار اپنی فلموں میں ان کی آواز کے لیے ان کے پاؤں پڑیں گے۔'
لتا منگیشکر نے بھی غلام حیدر کو اپنا اصل گاڈ فادر قرار دیا اور کہا 'وہ پہلے موسیقار تھے جنھیں میری صلاحیت پر پورا بھروسہ تھا۔'
20 سال کی عمر میں 1949 میں انہوں نے فلم 'محل' کے لیے جو گیت گایا اس نے راتوں رات انہیں مقبولیت کی بلندی پر پہنچا دیا۔ یہ گیت تھا 'آے گا، آئے گا، آئے گا آنے والا' جسے انڈیا کی حسین ترین اداکارہ مدھوبالا پر فلمایا گيا تھا۔
اس کے بعد لتا منگیشکر نے مڑ کر نہیں دیکھا اور ان کے پاس فلموں کی جھڑی لگ گئی۔ شاید ہی کوئی ایسا موسیقار ہو جس نے ان سے گیت نہ گوائے ہوں۔ ہیمنت کمار کی بین بجاتی ناگن کا گیت 'من ڈولے میرا تن ڈولے' ہو یا پھر نوشاد کی موسیقی سے سجا فلم 'دیدار'، 'بیجو باورا'، 'امر'، 'اڑن کھٹولا' اور 'مدر انڈیا' کا مختلف راگوں پر مبنی گیت ہو۔

انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی لتا منگیشکر کے گیت ’اے میرے وطن کے لوگو‘ پر آنسو جاری ہو گئے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

کہا جاتا ہے کہ انڈیا اور چین کے درمیان جنگ کے پس منظر میں لکھے گیت 'اے میرے وطن کے لوگو' کو جب لتانے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کے سامنے گایا تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
فلم 'پاکیزہ' کے گیت ہوں یا 'مغل اعظم' کے یا پھر 'رضیہ سلطان' کے سب کے سب دھڑکنیں بڑھانے اور بند کرنے والے ان گیتوں میں موسیقار کے فن اور گیت کار کے منتخب الفاظ سے کہیں زیادہ لتا منگیشکر کی آواز کا جادو جلوہ گر ہے۔
لتا منگیشکر کی آواز کی سحر آگیں شیرینی سے قطع تعلق ان کی اپنے زمانے کے بہت سے لوگوں سے معاصرانہ چشمک یا ان بن رہی۔ ایک زمانے تک انہوں نے محمد رفیع کے ساتھ گیت نہیں گائے اور یہ جھگڑا گیتوں کے رائلٹی کے متعلق تھا۔ رفیع درویش صفت انسان تھے اور ان کا خیال لتا سے مختلف تھا جو کہ پیسوں کے بارے میں ذرا سخت ثابت ہوئی تھیں۔
معروف موسیقار ایس ڈی برمن کے ساتھ ان کی نہیں نبھی اور ان کی پسندیدہ گلوکارہ ہونے کے باوجود انہوں نے آشا بھونسلے کی آواز پر ہی اکتفا کیا۔

مہدی حسن کے بارے میں لتا منگیشکر نے کہا تھا 'ان کے گلے میں تو بھگوان بستے ہیں۔‘ فوٹو: سوشل میڈیا

معروف شاعر ساحر سے لتا کی نزدیکیوں کے قصے ایک زمانے میں گردش کرتے تھے لیکن ساحر نے جب اپنے گیت کی فیس لتا سے ایک روپے زیادہ کردی تو لتا اور ساحر کے درمیان اتنی دوریاں بڑھ گئیں کہ ساحر نے اپنے گیت کے لیے یہ شرط رکھ دی کہ اسے لتا نہیں گائیں گی، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کے گیت کے بول لتا کی آواز سے زیادہ اہم ہیں۔
بہرحال لتا منگیشکر کے تعلق سے جہاں چھوٹی چھوٹی چپقلشیں نظر آتی ہیں، وہیں وہ صلاحیتوں کے اعتراف میں پس و پیش نہیں کرتیں اور اس ضمن میں گلوکار مہدی حسن کے بارے میں ان کا معروف قول یاد آتا ہے 'ان کے گلے میں تو بھگوان بستے ہیں۔'
لتا منگیشکر نے 2011 میں جب 'سرحدیں: میوزک بیانڈ باؤنڈریز' نامی البم جاری کیا تو اس میں مہدی حسن کے ساتھ ان کا ایک نایاب دوگانہ 'ترا ملنا بہت اچھا لگا' بھی شامل تھا۔ جو سچ پوچھو تو لتا منگیشکر تمام سرحدوں کو عبور کر چکی ہیں اور اب وہ اپنی زندگی کی نوے کی دہائی میں قدم رکھ رہی ہیں۔ لتا کو سب سے پہلا فلم فیئر ایوارڈ 1958 کی فلم 'مدھومتی' کے گیت 'آ جا رے پر دیسی۔۔۔ میں تو کب سے کھڑی اس پار' کے لیے 1959 میں ملا تھا۔

شیئر: