روس اور ترکی کا ’تاریخی‘ معاہدہ

ترکی نے شام کے سرحدی علاقوں میں کرد ملیشیا کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز 9 اکتوبر کو کیا تھا۔ فوٹو اے ایف پی
ترکی اور روس نے کرد میلیشیا کو ترک سرحد کے ساتھ شام کے علاقوں سے نکالنے پر اتفاق کیا ہے۔
روس کے جنوبی شہر ’سوچی‘ میں ترک صدر رجب طیب اردوغان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت کرد ملیشیا کے شام کے سرحدی علاقوں سے انخلا کو یقینی بنایا جائے گا۔
ترکی نے شام کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں میں موجود کرد ملیشیا ’وائے پی جی‘ کے خلاف 9 اکتوبر کو فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ترک حکومت نے وائے پی جی کو کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ  روابط کی بنا پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں ملکوں کے مابین منگل کو طے پانے والے معاہدے کو ترک صدر طیب اردوغان نے ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔
صدر طیب اردوغان نے کرد ملیشیا کے خلاف کارروائی کو ’ٓآپریشن پیس سپرنگ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد کو کرد ملیشیا کی موجودگی سے محفوظ بنانا، اور شام کے سرحدی علاقوں میں ’سیف زون‘ قائم کرنا ہے۔ 
روس اور ترکی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق کرد ملیشیا کو ان کے اسلحے سمیت ہٹانے میں روسی ملٹری پولیس اور شام کے بارڈر گارڈز مدد کریں گے۔

ترکی نے وائے پی جی کو کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ  روابط کی بنا پر دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

معاہدے میں طے پایا ہے کہ کرد ملیشیا کا انخلا 150 گھنٹوں کے اندر مکمل کیا جائے گا، اور ترک اور روسی افواج ’سیف زون‘ کا مشترکہ گشت کریں گی۔
ترک افواج شام کے شمالی مشرقی سرحدی علاقوں میں کارروائی کے بعد ’سیف زون‘ پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں، جو شام کے علاقوں تل ابیاد اور راس العین کے درمیان موجود ہے۔
روسی صدر کا کہنا تھا کہ ترکی اور شام کی سرحد پر کشیدگی کے خاتمے کے لیے یہ معاہدہ بہت اہم ہے۔  
اس سے قبل صدر طیب اردوغان نے متنبہ کیا تھا کہ کرد ملیشیا کے سرحدی علاقوں سے منگل کی شام تک انخلا مکمل نہ ہونے کی صورت میں فوجی کارروائی کی جائے گی۔
ایک کرد اہلکار نے اے ایف پی کا بتایا کہ منگل کی ڈیڈلائن سے پہلے ہی کرد ملیشیا کے جنگجو سرحدی علاقوں سے نکل گئے تھے۔

تیس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی

معاہدے کے مطابق دونوں فریق شام میں جاری جنگ کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش کریں گے، اور شام میں علیحدگی پسند تنظیموں کے ایجنڈے کو شکست دیں گے۔
روس اور ترکی کے صدور نے شام کے مہاجرین کی اپنے ملک واپسی کی کوششوں پر بھی اتفاق کیا۔
ترکی کے مطابق 30 لاکھ سے زائد شامی مہاجرین کو ’سیف زون‘ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
ترکی نے وائے پی جی کو کردستان ورکر پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ  روابط کی بنا پر دہشت گرد قرار دیا ہوا ہے۔ شام کی شمال مشرقی سرحدی علاقوں میں کرد ملیشیا کی اکثریت ہے، جو داعش کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی رہ چکے ہیں۔
امریکہ کے شام کی شمالی سرحد سے افواج نکالنے کے بعد، ترکی اور روس کا کردار شام میں بطورغیر ملکی فریق بہت اہم ہو گیا ہے۔
 

شیئر: