جتنے کنٹینرز اتنی کہانیاں، احتجاج کا نیا برانڈ

مظاہرین کو روکنے کے لیے کھڑے کیے جانے والے کنٹینرز عام شہریوں کی مشکلات کا بھی باعث بنتے ہیں۔ فوٹو: اے ایف پی
پاکستان میں گذشتہ ایک دہائی سے دھرنے اور لانگ مارچ کی سیاست ایک برانڈ بن چکا ہے۔ اس برانڈ کو تحریک انصاف کے 2014 کے حکومت مخالف طویل ترین دھرنے نے بام عروج پر پہنچا دیا تھا۔ کنٹینر اب اسی سیاست کا ایک جزو لازم بن چکا ہے۔

کنٹینرز کی اقسام

ملکی سیاست میں کنٹینرز کی دو اقسام ہیں، ایک وہ کنٹینرز جو وزیراعظم عمران خان، سابق وزیراعظم نواز شریف (ججز بحالی تحریک میں) اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے اپنے مارچ یا دھرنے میں کیمپ آفس یا رہائش کے لیے استعمال کیے یا ان کو بطور سٹیج استعمال کیا۔
اور اب مولانا فضل الرحمان بھی استعمال کریں گے ان کے لیے پرآسائش اور محفوظ کنٹینر تیار کر لیا گیا ہے۔ کنٹینرز کی یہ قسم پرآسائش، ہر طرح کے مواصلاتی نظام سے منسلک اور سہولیات سے مزین ہوتی ہے جس میں ٹائلٹ اور آرام کے لیے بیڈ بھی ہوتا ہے۔ کنٹینرز کی ایک دوسری قسم بھی ہے جن کو ’رکاوٹی کنٹینرز‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔
رکاوٹی کنٹینرز اصل میں حکومت کا ہتھیار ہوتے ہیں جو وہ ان جلسوں، مارچوں اور دھرنوں کو روکنے یا ان کی شدت میں کمی لانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ حکومت ان رکاوٹی کنٹینرز سے راستے اور سڑکیں بند کر دیتی ہے۔
اگر آپ پاکستان کے کسی بڑے شہر کے رہائشی ہیں تو کسی نا کسی طرح آپ کو ان کنٹینرز سے ضرور واسطہ پڑا ہو گا اگر نہیں تو کسی اسلام آباد والے سے پوچھ لیں بہت تفصیل سے سمجھا دے گا کیوں کہ اسلام آباد والوں نے 126 دن کا دھرنا جھیلنا ہوا ہے ان سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا۔

مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے لیے تیار کیے گئے کنٹینر کا اندرونی منظر۔

یہ وہ کنٹینرز ہیں جو انتہائی بدقسمت ہوتے ہیں کیونکہ ایک تو براہ راست عوام ان سے متاثر ہوتے ہیں اس لیے عوامی غیض و غضب کا نشانہ بننے کے ساتھ ساتھ میڈیا کا بھی آسان ہدف ہوتے ہیں۔ ان کی بدقسمتی یہیں ختم نہیں ہوتی چونکہ یہ کنٹینر اصل میں تو تجارتی مقاصد اور اشیا کی نقل حمل کے لیے استعمال ہوتے ہیں اس لیے ان سے منسلک افراد شدید معاشی دباؤ کو بھی برداشت کرتے ہیں۔
اور سب سے زیادہ متاثر وہ ڈرائیور ہوتا ہے جو اس کنٹینر کو ٹرانسپورٹ کرنے کرنے والے ٹرک کا ہوتا ہے کیوں کہ اس کی جان اس وقت تک شکنجے میں پھنسی رہتی ہے جب تک کنٹینر کی اپنی۔ 

کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ

رکاوٹی کنٹینرز کا پکڑنا بہت آسان ہوتا ہے کیوں کہ یہ سڑک پر سامان لے کر جا رہے ہوتے اور دوچار مسلح پولیس اہلکار اسے کہیں بھی روک سکتے ہیں جہاں مرضی لے جا کر راستہ بند کرنے کے لیے کھڑا بھی کر دیتے ہیں۔
ایسے ہی ایک ڈرائیور محمد رمضان جو 2014 کے دھرنے میں ’قابو‘ آگئے تھے، انہوں نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’میں کمپنی کا سامان لے کر جا رہے تھے تو لاہور کی ملتان روڑ پر مجھے ایک پولیس ناکے پر روک لیا گیا اور اہلکاروں نے کہا کہ یہ کنٹینر اب ہماری تحویل میں رہے گا جب میں نے بتایا کہ مجھے ہر صورت میں 24 گھنٹے میں کراچی پہنچنا ہے تو انہوں نے مجھے دھمکانا شروع کر دیا اور مجھ سے میرا موبائل فون بھی چھین لیا۔
کنٹینر سامان سے بھرا ہوا تھا کچھ گھنٹے وہیں پر گزر گئے اور پھر دو اہلکار میرے ساتھ بیٹھ گئے اور لاہور میں بابو صابو کے قریب ایک سڑک پر کھڑا کردیا اور چابیاں نکال لیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ ’میں نے بہت منتیں کی تو مجھے فون واپس کر دیا گیا تو میں نے کمپنی کو صورت حال سے آگاہ کیا انہوں نے بھی بہت کوششیں کیں لیکن میں تین دن تک ادھر ہی پھنسا رہا عمران خان کا مارچ روانہ ہوا تو مجھے جانے کی اجازت ملی۔‘
یہ کہانی صرف ایک کنٹینر کے ڈرائیور کی نہیں بلکہ جو جو بھی قابو آتا ہے کچھ ایسی ہی کہانی سننے کو ملتی ہے۔

کنٹینرز ملک کے ہر بڑے شہر کے داخلی راستوں پر کھڑے کر کے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔  فوٹو: اے ایف پی

جتنے کنٹینر اتنی کہانیاں

راستے بند کرنے کے لیے حکومت جتنے کنٹینرز زبردستی پکڑ کے استعمال کرتی ہے اس کے پیچھے ایک کہانی ضرور ہوتی ہے۔ آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری طارق نبیل نے اردو نیوز کو بتایا کہ احتجاج دھرنے روکنے کے لیے حکومت کی ’کنٹینر پالیسی‘ نے تاجروں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک کنٹینر جب پکڑا جاتا ہے تو صرف اس کا کرایہ اور ایک دن کا خرچہ تقریبا 20 ہزار روپے ہے، اس کے علاوہ اس کے اندر جو سامان لاکھوں کروڑوں روپے کا ہوتا ہے۔ لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں حکومت گن پوائنٹ پر ہمارے کنٹینر ڈرائیوروں سمیت اغوا کر لیتی ہے اور یہ سب اتنی غیر سنجیدگی سے کیا جاتا کہ یہ تک پروا نہیں کی جاتی کہ اس کے اندر خطرناک کیمیکلز بھی ہوسکتے ہیں جو کسی بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔‘
طارق نبیل کہتے ہیں ان کنٹینرز کا تعلق درآمدات اور برآمدات سے ہے۔ براہ راست اس سے ملکی معیشت وابستہ ہے چھوٹا کاروباری جس کا ایک کنٹینر تین یا چھ مہینے میں آتا ہے یا جاتا ہے اور وہ پکڑا جائے چاہے تین دن کے لیے کیوں نہ ہو اس کو جتنا نقصان ہوتا ہے اس سے بیرون ملک سے آنے کے لیے سال لگتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم حکومت کو بار بار کہ چکے ہیں کہ یہ کنٹینر گردی بند کی جائے۔ اگر حکومت یہ سمجھتی ہے کہ کنٹینرز کا استعمال ان کے روزمرہ سکیورٹی معاملات کا حصہ ہے تو بہتر ہے حکومت اپنے کنٹینر خرید کے رکھ لے لوگوں کے کاروبار تباہ نہ کرے۔‘

بڑی بڑی کمپنیاں جو بحری جہازوں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کا کام کرتی ہیں۔  فوٹو: اے ایف پی

لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ کے ایک تاجر رفاقت شیخ جن کا کاروبار کھانے پینے کی اشیا سے متعلق ہے۔ گذشتہ جمعے کو پولیس نے ان کا سامان سے بھرا ہوا کنٹینر پکڑ لیا کیونکہ شہر میں صوفی بزرگ علی ہجویری کا عرس اور چہلم امام حسین کے باعث اندرون لاہور میں عام گاڑیوں کی آمد رفت کو روکنا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ’مجھے تب پتا چلا جب میرا کنٹینر پولیس اپنے قبضے میں لے چکی تھی اور اسے ایک سڑک بند کرنے کے لیے لگا بھی دیا گیا تھا۔ پولیس کو بہت سمجھایا کہ اس میں لاکھوں کا سامان ہے جو خراب ہو جائے گا پھر بھی صرف اس حد تک اجازت ملی کہ کھڑے کنٹینر سے سامان نکال لیا جائے جس سے میری لاگت میں اور اضافہ ہو گیا اور تین دن کا اضافی کرایہ پڑا اب باہر کی کمپنیوں کو تو نہیں پتا نا کہ ہمارے ملک میں کنٹینروں سے اور بھی کام لیے جاتے ہیں اس لیے ان کو اس تصور کی سمجھ ہی نہیں آتی سارا بوجھ ہمیں ہی اٹھانا پڑتا ہے۔‘
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری طارق نبیل نے بتایا کہ بظاہر حکومت یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ ان کنٹینرز کو استعمال کرنے کا معاوضہ دیتی ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بڑے دھرنے اور مارچ اپنی جگہ اب تو چھوٹی چھوٹی صورت حال میں بھی ’کنٹینر پالیسی‘ استعمال ہونا شروع ہو چکی ہے۔ کسی سیاستدان کی پیشی ہو، محرم و ربیع الاول کے جلوس ہوں، کسی مذہبی جماعت کا احتجاج ہو حکومت کے پاس ہر چیز کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے کنٹینر۔ اور اس سے فرق نہیں پڑتا کہ حکومت کس کی ہے۔ سب سے پہلے پرویز مشرف نے وکلا تحریک میں کنٹینرز کو استعمال کیا بعد میں پیپلزپارٹی نے بھی ججز بحالی تحریک میں، پھر ن لیگ نے اور اب تحریک انصاف کی حکومت بھی انہیں استعمال کرنے جا رہی ہے۔

باہر کی کمپنیوں کو تو نہیں پتا نا کہ ہمارے ملک میں کنٹینروں سے اور بھی کام لیے جاتے ہیں۔  فوٹو: اے ایف پی

کنٹینر ہی آخری آپشن کیوں؟

کنٹینر کہانی سننے کے بعد یہی سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا حکومت کے پاس اس کا کوئی متبادل ہے؟ کہ لوگوں کا کاروبار بھی بچ جائے اور حکومتی خواہش بھی پوری ہو جائے اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے اردو نیوز نے سابق آئی جی پنجاب خواجہ خالد فاروق سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ کوئی حل نہیں سیاسی افراتفری میں اگر روک تھام کے اقدامات نہ کیے جائیں تو اس سے بڑے پیمانے پر نقص امن کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کنٹینرز کا بنیادی کام ہجوم کے زور کو توڑنا ہوتا ہے سڑک بند کرنے سے آمدورفت محدود ہو جاتی ہے۔ لوگ پیدل تو گزر سکتے ہیں لیکن گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ عوام اور تاجر طبقہ اس سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ اقدام نہ کیے جائیں اور مظاہرین خاص طور پر موجودہ صورت حال جب مظاہرین میں مذہب کا عنصر بھی موجود ہو مطلب مذہبی جماعت سے تعلق ہو تو ان کے جذباتی ہونے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کے چانسز بڑھ جاتے ہیں۔‘
مزید پڑھیں
ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری پولیس کے پاس ایسا کوئی اور طریقہ نہیں جس سے اتنے بڑے پیمانے پر سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تو لامحالہ کنٹینر ہی آخری حل رہ جاتا ہے۔‘
تاہم خواجہ خالد کا یہ بھی کہنا تھا کہ کنٹینرز زیر استعمال لانے سے پہلے محتاط طریقے اپنانے چاہییں تاکہ غیر ضروری معاملات سے بچا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر جلوس کو روکنے کے ساتھ ساتھ ان کی حفاظت کا کام بھی کرتا ہے۔ ایسے جلوسوں کو تخریب کار نشانہ بنا سکتے ہیں اور چونکہ ہجوم میں زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے کسی گاڑی کی ضرورت ہوتی ہے جب راستے بند ہوتے ہیں تو یہ اضافی حفاظت بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ حکومت جو معاوضہ ادا کرتی ہے یقینا وہ اتنا نہیں ہوتی جتنا نقصان ہوتا ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے۔

سنہ 2014 کے مارچ اور دھرنے میں کنٹینرز سے رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کرنے کی پالیسی ناکام ہوگئی تھی۔  فوٹو: اے ایف پی

حکمت عملی میں تبدیلی؟

پاکستان میں رسد کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے نوے فیصد کنٹینر شپنگ لائن کے ہیں جس کا مطلب یہ کہ بڑی بڑی کمپنیاں جو بحری جہازوں کے ذریعے ٹرانسپورٹیشن کا کام کرتی ہیں یہ کنٹینر ان کی ملکیت ہوتے ہیں۔
نبیل طارق کے مطابق صرف دس فیصد کنٹینر لوکل کمپنیاں مہیا کرتی ہیں۔ ایک کنٹینر کی رسد میں تین پارٹیاں ہوتی ہیں ایک وہ کمپنی جس کا کنٹینر ہے ایک وہ تاجر جس کا سامان ہے اور ایک ٹرانسپورٹر جس کا ٹرک استعمال ہوتا ہے۔ جب اس کنٹینر کو پکڑ لیا جاتا ہے تو چین ڈسٹرب ہو جاتی ہے۔ مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس بار حکومت نے تھوڑی حکمت عملی تبدیل کی ہے اور اسلام آباد میں لائے جانے والے چھ سو کنٹینرز کے لیے ایک مقامی کمپنی سے پانچ دن کا معاہدہ کیا ہے جس کا انہیں معاوضہ بھی دیا جائے گا۔
تاہم نبیل طارق کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاعات ملی ہیں کہ حکومت نے پنجاب سندھ کے بارڈر پر صادق آباد کے قریب ہمارے کچھ کنٹینرز اور ٹرک پکڑ لیے ہیں جس سے کوٹ سبزل پل کو بند کیا جائے گا اگر حکومتی پالیسی میں کوئی تبدیلی آئی ہے تو ہمیں اس کا علم نہیں ہمیں بس اتنا پتا ہے کہ ایک بار پھر کاروبار میں مندا آنے والا پہلے جو حالت ہے وہ سب کے سامنے ہے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: