’دھرنا‘ ہونے کی منتظر ہے نگاہ

اگر ’بڑے بزرگ‘ خاں صاحب کو لائق ٹیم بھی دلوا دیتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
مرزا غالب کا یہ مصرع ہر دور میں پاکستان پر صادق آتا رہا ہے، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت جب سے بنی ہے اس مصرعے میں بھی ’برکت‘ کا ظہور ہوا اور اس کی صورت یوں ہوگئی کہ 
’کتنے ہنگاموں پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘
معاملہ یوں ہوچکا کہ ’ہوتے ہیں شب و روز تماشے میرے آگے۔‘ کہیں ڈوبتی معیشت کا عالم نزع کا ہنگامہ ہے تو کہیں بے روزگار ہوتے افراد کے گھروں میں اٹھنے والی آہوں کا دھواں ہنگامہ اٹھا رہا ہے۔  سرکاری محکموں میں غدر مچ گیا ہے۔

حکومتی کارکردگی کے گودام سے ایک عدد لنگر کے سوا کچھ برآمد نہیں ہو سکا، فوٹو: وزیراعظم آفس

رشوت کے نرخ پانچ گنا بڑھ گئے۔ یہ اعلان ایک چینل پر کسی تجزیہ کار نے کیا تو میزبان نے شکوہ کیا، یہ تو سخت زیادتی ہے، مہنگائی صرف تین گنا بڑھی ہے تو رشوت پانچ گنا کیوں بڑھی۔ یہ تو غیر متناسب اضافہ ہے۔
یہ خبر بھی ذہنی ہلچل کا باعث بنی کہ عالمی ادارے نے کرپشن کے باب میں پاکستان کا رتبہ ایک درجے بلند کر دیا ہے۔
ایمانداروں، صادقوں اور امینوں کی حکومت میں کرپشن بڑھ گئی؟ یہ پتا نہیں چل سکا کہ کرپشن میں اضافہ رشوت اور مہنگائی میں اضافے کے متناسب ہے یا غیر متناسب۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ شرح یکساں ہی ہونی چاہیے۔

یہ معلوم نہیں کہ صادقوں اور امینوں کی حکومت میں کرپشن میں کس تناسب سے اضافہ ہوا، فوٹو: اے ایف پی

کرپشن ایک طرف، عام مہنگائی نے عوام کی جان نکال کر رکھ دی ہے۔ اب تو لوگوں میں نیا جوتا خریدنے کی ہمت بھی نہیں رہی۔ حکومت کی معاشی ٹیم تسلی دے رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں معیشت اچھی ہو جائے گی اور مثبت نتائج نکلنا شروع ہوجائیں گے۔ حکومتی ٹیم کا مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے، یہ بھی تو پتہ نہیں۔ بہرحال، ٹیم کا مطلب ہے کہ معیشت کی مرغی جلد انڈے دینے لگے گی اور مرغی کا حال یہ ہے کہ اس کے بال و پر اس ٹیم نے نوچ لیے ہیں اور گردن مروڑ کر رکھ دی ہے۔ گردن مروڑی مرغی کو انڈے دیتے آج تک کسی نے دیکھا نہیں ہے، چلیے اب دیکھ لیتے ہیں۔
بہت سے ہنگامے ہیں اور بہت سی ہنگامچیاں لیکن سب پر بازی اس ہنگامے نے مار لی ہے جو مبینہ دھرنے پر دونوں طرف بلکہ ہر طرف مچا ہوا ہے۔ دونوں طرف یعنی حکومت اور اپوزیشن اور تیسری طرف ہوں گے عوام، چوتھا میڈیا۔

کنٹینروں کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے اور ان کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، فوٹو: اے ایف پی

سنا ہے اسلام آباد کو کنٹینروں سے سیل کیا جا رہا ہے تاکہ مولانا کا دھرنا داخل ہی نہ ہو سکے۔ ملک بھر سے کنٹینروں کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا ہے اور بہت سے کنٹینروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ یعنی وہ کنٹینر جو کاروباری ’مندائے شدید‘ کی وجہ سے نہ جانے کب سے اپنے ہینگروں، ڈپوؤں میں کھڑے کھڑے زنگ کھا رہے تھے، وہ بھی بلا لیے گئے ہیں۔ آنے والے دو تین دنوں میں ’نقل و حرکت‘ میں تیزی دیکھنے کو ملے گی۔ سیاسی نجومی، رمّال اور جوتشی اپنے اپنے حساب لگائے بیٹھے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بہت کچھ ہونے والا ہے۔ جو کہتے ہیں کچھ نہیں ہوگا، اندر سے وہ بھی ڈانواڈول ہیں۔ یہ جو اتنا خوف و ہراس ہے، یہ مولانا کا کمال ہے۔ بہرحال۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ ’دھرنا‘ ہونے کی منتظرہے نگاہ

خود خاں صاحب نے فرمایا ہے کہ خراب حکومتی کارکردگی کی وجہ نالائق ٹیم ہے، فوٹو: اے پی پی

عمران خان کی حکومت کو یہ چودھواں مہینہ لگا ہے اور کارکردگی کے گودام سے اب تک مبلغ ایک عدد لنگر کے سوا کچھ برآمد نہیں ہو سکا۔ پی ٹی آئی کے پرجوش حامی، اینکرز، قلم کار اور تجزیہ کار اب ’بے جوش‘ سے ہوتے جا رہے ہیں لیکن گاہے گاہے پینک سے چونک کر اٹھتے ہیں اور کومل اور بوجھل سے سروں میں یہ راگ الاپتے ہیں کہ حضور والا، عمران خان بے چارا کیا کرے، اس کی ٹیم میں سارے کے سارے نالائق اکٹھے ہو گئے ہیں۔
مزے کی بات ہے کہ یہی حضرات کچھ عرصہ پہلے تک فرمایا کرتے تھے کہ آدمی اپنے ہم مجلسوں اور مصاحبوں سے پہچانا جاتا ہے، جیسے چیلے، ویسے گرو۔

مہنگائی کی وجہ سے لوگوں میں نیا جوتا خریدنے کی بھی ہمت نہیں رہی، فوٹو: اے ایف پی

نوجوانوں کے لیے قرضوں کی خیالی سکیم کا افتتاح کرتے ہوئے خود خاں صاحب نے بھی اس کی تصدیق کر دی۔ فرمایا، حکومت کی خراب کارکردگی کی وجہ یہ ہے کہ میری ٹیم نالائق ہے۔ ایک ٹی وی کا ٹِکر تھا کہ مجھے نالائقوں کی ٹیم ملی۔
یہ فقرہ ایک چینل کے سوا کسی نے نہیں چلایا۔ بہرحال سوشل میڈیا کی وجہ سے یہ فقرہ محفوظ ہو گیا کہ مجھے نالائقوں کی ٹیم ملی۔
تو ذمہ دار کون ہوا؟ اگر ’بڑے بزرگ‘ خاں صاحب کو کہیں سے ایک لائق ٹیم بھی دلوا دیتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔ لیکن اب پچھتائے کیا ہووت جب ’ٹیم‘ ہی چگ گئی کھیت۔
کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: