بلوچستان میں پہلی بار جنسی ہراسانی پر آگاہی کی مہم

جنسی ہراسانی کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد بلوچستان میں پہلی بار ہراسانی کے انسداد کے لیے تین سال قبل بنائے گئے قانون سے آگاہی اور عملدرآمد سے متعلق مہم شروع کی گئی ہے۔ یہ مہم ابتدائی طور پر کوئٹہ کے تعلیمی اداروں میں شروع کی گئی ہے جس کے بعد اسے صوبے بھر کے تعلیمی اور سرکاری اداروں تک پھیلایا جائے گا۔
 مہم صوبائی خاتون محتسب صابرہ اسلام ایڈووکیٹ کی سربراہی میں چلائی جارہی ہے جس میں محکمہ ترقی نسواں کے حکام، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکن بھی حصہ لے رہے ہیں۔
خاتون محتسب صابرہ اسلام ایڈووکیٹ نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’چھ روزہ مہم میں کوئٹہ میں بلوچستان یونیورسٹی اور وومن یونیورسٹی سمیت چار بڑی یونیورسٹیوں، لا کالج اور گرلز کالج کے علاوہ بلوچستان جوڈیشل اکیڈمی میں بھی ہراسانی سے تحفظ کے صوبائی قانون سے متعلق آگاہی دی جائے گی۔‘ 

 

انہوں نے بتایا اگرچہ یہ قانون 2016 میں منظور ہوا تھا مگر اس سے متعلق بہت کم لوگوں کو آگاہی تھی۔ بلوچستان یونیورسٹی کا سکینڈل سامنے آنے کے بعد اس قانون کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ 
انہوں نے کہا ’ہم طلبہ و طالبات کو بتارہے ہیں کہ ہراسانی کیا ہوتی ہے اور اگر انہیں ہراساں کیا جاتا ہے تو وہ کس طرح اپنی شکایات متعلقہ حکام تک پہنچا سکتے ہیں۔‘
صابرہ اسلام نے بتایا کہ اس قانون کا نام ’ہراسیت سے تحفظ برائے خواتین بمقام کار‘ ہے مگر اس کا اطلاق تمام سرکاری، نیم سرکاری، نجی اداروں، ہسپتالوں، فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں پر بھی ہوتا ہے۔ اس قانون کے تحت تمام اداروں میں انکوائری کمیٹیاں قائم کی جائیں گی جس میں کم از کم دو خواتین شامل ہوں گی۔ کسی شکایت یا قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں خاتون محتسب سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ 

’جب ہمارے پاس شکایت آتی ہے تو ہم فریقین کو بلاتے ہیں۔‘ (فوٹو:سوشل میڈیا)

انہوں نے کہا کہ یہ مہم صرف خواتین کے لیے ہی نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی ہے کیونکہ لڑکے بھی ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں۔ لڑکیاں تو رو دھو کر پھر بھی بتا دیتی ہیں مگر لڑکے کسی کو بتانے سے بھی کتراتے ہیں اور اس طرح وہ اندر ہی اندر گھٹتے رہتے ہیں۔
صابرہ اسلام کے مطابق زبردستی تعلق رکھنے پر مجبور کرنا، انکار کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دینا، دفتری مراعات و ملازمت کا جھانسا دینا، نمبر کم دینا یا فیل کرنا، ترقی کے مواقع کو ذاتی تعلق سے مشروط کرنا جنسی ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح غیر اخلاقی رویہ رکھنا، آوازیں کسنا، نا پسندیدہ اشارے کرنا، کسی کی جسمانی ساخت کی وجہ سے اس کا توہین آمیز نام رکھنا یا کوئی بھی ایسی حرکت جو خاتون یا مرد کی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے یہ بھی ہراسانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہمارے پاس شکایت آتی ہے تو ہم فریقین کو بلاتے ہیں۔ شکایت کنندہ کو سنا جاتا ہے اور ملزم کو بھی دفاع کا موقع دیا جاتا ہے اس کے بعد شواہد کا جائزہ لے کر سزائیں دی جاتی ہیں۔ اس قانون میں سزا ملازمت سے برطرفی، جبری ریٹائرمنٹ اور ترقی روکنا شامل ہے۔ اگر ہراسیت کی نوعیت سنگین ہو اور اس میں مجرمانہ سرگرمی بھی شامل ہوں تو اس کیس کو سیشن کورٹ کو ریفر کیا جاتا ہے جہاں یہ کیس  509 کرمنل پروسیچر کے تحت چلتا ہے۔ 
صابرہ اسلام کے مطابق بلوچستان میں قانون تین سال قبل بنا مگر رواں سال اپریل میں پہلی مرتبہ اس کے تحت صوبائی خاتون محتسب کی تعیناتی ہوئی۔ چھ سات ماہ کے دوران ہمارے پاس مختلف محکموں سے ہراسیت سے متعلق شکایات آئی ہیں مگر اب تک کسی تعلیمی ادارے سے کوئی درخواست نہیں آئی۔

ڈاکٹر رخسانہ جبین کا ماننا ہے کہ یہ آگاہی مہم والدین کے لیے بھی ہونی چاہیے۔ (فوٹو:سوشل میڈیا)

’میں سمجھتی ہوں جب آگاہی ہوگی اور طلبہ و طالبات کو اعتماد ہوگا کہ یہ ادارہ اور قانون موجود ہے جو ان کی مدد کے لیے ہے تو وہ ہمارے پاس آئیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کے پاس اب تک آٹھ شکایات آئی ہیں جن میں دو شکایات داخل کرائے جانے کے بعد فریقین نے آپس میں راضی نامہ کرلیا اور شکایات واپس لے لیں۔ اس کے علاوہ ہراسانی کے ایک کم نوعیت کے جرم میں معمولی سزا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی کیسز زیر التوا ہیں جس میں جرم کی نوعیت بڑی ہے اوروہ بینک اور انشورنس کمپنی کے علاوہ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ 
خاتون محتسب نے بتایا کہ ’بلوچستان میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کا مسئلہ سب سے زیادہ محکمہ تعلیم اور محکمہ صحت میں ہے کیونکہ ان دونوں شعبوں میں خواتین کی تعداد باقی تمام شعبوں سے زیادہ ہے۔
مہم میں شریک سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کوئٹہ کی  وائس چانسلر ڈاکٹررخسانہ جبین کہتی ہیں کہ جب تک خواتین کو گھر کے اندر والدین اور بھائی اعتماد نہ دیں اس وقت تک وہ گھر کے باہر ناخوشگوار اور غیر اخلاقی رویوں سے نہیں نمٹ سکتیں۔ 
انہوں نے بتایا کہ مسئلہ گھر سے شروع ہوتا ہے ہم گھر کے اندر خواتین کو ڈرا کر رکھتے ہیں کہ اگر آپ کے ساتھ کوئی زیادتی کرتا ہے تو عزت اسی میں ہے کہ آپ چپ کر جائیں۔
ڈاکٹر رخسانہ جبین کا ماننا ہے کہ یہ آگاہی مہم والدین کے لیے بھی ہونی چاہیے انہیں بتایا جائے کہ آپ کی بیٹی اگر آپ کو کچھ کہتی ہیں تو آپ انہیں سنیں۔ آپ اس بندے کو نہ چھوڑیں جنہوں نے آپ کی بچی کو ہراساں کیا ہے، اس طرح بہت سے مسائل خود حل ہوجائیں گے۔
واٹس ایپ پر پاکستان کی خبروں کے لیے ’اردو نیوز‘ گروپ میں شامل ہوں

شیئر: