’طلبا یونینز بحالی کا ضابطہ اخلاق دیں گے‘

عمران خان کے مطابق یونینز مستقبل کے لیڈر پیدا کرنے کے عمل کا لازمی حصہ ہوتی ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت طلبا یونین کی بحالی کے لیے ایک جامع اور قابل نفاذ ضابطہ اخلاق تشکیل دے گی تاکہ طلبا یونیز کو بحال کیا جا سکے۔
اتوار کو ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’یونیورسٹیاں مستقبل کے لیڈروں کو پروان چڑھاتی ہیں اور طلبا یونینز مستقبل کے لیڈر پیدا کرنے کے عمل کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں طلبا یونینز پرتشدد ہو گئی تھیں اور کیمپسز میں دانشورانہ ماحول کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا۔‘
عمران خان کے مطابق ’حکومت عالمی سطح کی مشہور یونیورسٹیوں کے اچھے تجربات کا مطالعہ کر کے ایک جامع اور قابل نفاذ ضابطہ اخلاق تشکیل دے گی تاکہ طلبا یونینز کو بحال کیا جا سکے اور یونینز طلبا کو مستقبل کے لیڈروں کے طور پر پروان چڑھانے میں مثبت کردار ادا کریں۔‘

طلبا کے خلاف کریک ڈاؤن بند کیا جائے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے طلبا یکجہتی مارچ کے شرکا کے خلاف کریک ڈاؤن ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل ساؤتھ ایشیا نے اتوار کو ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں پاکستان کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبا کے خلاف کریک ڈاؤن بند کیا جائے۔
ایمنسٹی نے طلبا مارچ کے رہنماؤں کے خلاف درج کیا جانے والا مقدمہ بھی ختم کرنے اور گرفتار طلبا کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مشال خان کے والد اور طلبا یکجہتی مارچ کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ
وزیراعظم عمران خان اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیانات ایسے وقت پر آئے ہیں جب پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی پولیس نے 29 نومبر جمعے کے روز مال روڈ پر ہونے والے طلبا یکجہتی مارچ کے رہنماؤں پر ریاستی اداروں کے خلاف تقاریر کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔

پاکستان میں طلبا یونینز کی بحالی کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

اردو نیوز کو موصول ہونے والی ایف آئی آر میں درج تحریر کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد عمار علی جان، عوامی ورکرز پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل فاروق طارق، ولی خان یونیورسٹی مردان میں مجمعے کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مشال خان کے والد اقبال لالا اور عالمگیر وزیر کو اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
پولیس کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نامزد افراد نے مال روڈ پر ریلی نکالی اور ریاستی اداروں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی اور طالبعلموں کو اکسایا ہے۔
ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 290 اور 291 کا اطلاق کیا گیا ہے جو کہ امن عامہ میں نقص ڈالنے سے متعلق ہیں۔
یہ مقدمہ لاہور کے تھانہ سول لائنز میں درج کیا گیا ہے۔
ایس پی سول لائنز دوست محمد کے مطابق مال روڈ پر کسی بھی قسم کے جلسے جلوسوں پر عدالت کی جانب سے پابندی عائد ہے اور ریلی نکالنا غیر قانونی ہے۔
ان کے مطابق جس طرح کی یہ ریلی نکالی گئی ہے اور اداروں کو نشانہ بنایا اس کی قانون بالکل بھی اجازت نہیں دیتا۔

مشال خان کے والد کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے (فوٹو: اردو نیوز)

عوامی ورکرز پارٹی کے سابق سیکرٹری جنرل فاروق طارق نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’حکومت بائیں بازو کی جماعتوں کی عوامی پذیرائی پر بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ ریلی نکالنا ہمارا آئینی حق ہے اور کوئی اس حق کو ختم نہیں کر سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’مجھے اس دن گورنر پنجاب نے فون کر کے کہا کہ وہ طلبا تنظیموں پر پابندی کے خلاف ہیں، وزرا کے ٹویٹ آئے لیکن مسئلہ اس وقت ہوا جب ان کی توقع سے زیادہ طالب علم باہر نکلے۔ اب حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے۔ ہم ریاستی جبر کا مقابلہ کریں گے۔‘
پنجاب یونیورسٹی کے سابق استاد عمار علی جان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’جن لوگوں نے پورا ملک بند کیا، دھرنے دیے، آج وہ طالب علموں کا ایک اکٹھ برداشت نہیں کر سکے۔ انہیں شرم آنی چاہیے۔‘

طلبا نے 29 نومبر کو ملک بھر میں احتجاج کیا تھا (فوٹو: اردو نیوز)

خیال رہے کہ 29 نومبر کو سٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے ملک بھر میں طالب علموں نے احتجاج  کرتے ہوئے طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ 

شیئر: