ملازم کی تنخواہ بینک میں جمع نہ کرانے پر کتنا جرمانہ؟

ماہانہ 10ہزار ریال جرمانہ لگایا جائے گا۔فوٹو:سوشل میڈیا
ورارت محنت و سماجی بہبود نے انتباہ کیا ہے کہ اگر کسی کمپنی یا ادارے نے اپنے ملازمین کی ماہانہ تنخواہ بینک میں جمع نہ کرائی تو اس پر 10ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ جتنے ماہ تنخواہ جمع نہیں ہوگی اسی حساب سے ماہانہ 10ہزار ریال جرمانہ لگایا جائے گا۔
اخبار 24کے مطابق وزارت محنت و سماجی بہبود نے قانون محنت کی خلاف ورزیوں اور ان پر سزاﺅں کا چارٹ جاری کیا ہے۔ قانون محنت کے لائحہ عمل کی منظوری وزیر محنت نے دی ہے۔

تحریری معاہدے کے بغیرکسی سے ڈیوٹی لی تو اس پر ایک ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔فوٹو:سوشل میڈیا

 قانون محنت کی خلاف ورزی یا متاثرہ کارکنان کی تعداد کے لحاظ سے جرمانوں میں اضافہ ہوگا۔ اگر کمپنی نے کارکن خواتین کے لیے مناسب جگہ مہیا نہ کی تو ایسی صورت میں اس پر 25ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
اگر کمپنی یا ادارے نے ملازماﺅں کے لیے طہارت خانے مختص نہ کیے یا عبادت کے لیے جگہ کا انتظام نہ کیا تو ایسی صورت میں اس پر 20ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
اگر آجر نے ملازمت کی درخواست دینے والے سعودیوں کے درمیان امتیاز برتا اور اس پر یہ الزام ثابت ہوگیا تو بھی اس پر 20ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔

قانون محنت کے لائحہ عمل کی منظوری وزیر محنت نے دی ہے۔فوٹو:سوشل میڈیا

وزارت محنت نے تمام کمپنیوں پر ایک پابندی یہ بھی عائد کی ہے کہ وہ ملازمین پر عائد کیے جانے والے الزامات کی حقیقت جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں۔ اگر کسی ادارے نے اس کی پابندی نہ کی تو اس پر 15ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
اگر کسی کمپنی یا ادارے نے ملازمت کے تحریری معاہدے کے بغیرکسی سے ڈیوٹی لی تو اس پر ایک ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔
 

شیئر: