سعودی عرب میں اقامہ و لیبر قوانین کی 19 ہزار خلاف ورزیاں، 14 ہزار غیرملکی واپس
غیرقانونی طور پر داخل ہونے پر ایک ہزار663 افراد کو گرفتار کیا گیا، (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی مزید 19 ہزار101 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ 14 ہزار 893 غیرقانونی تارکین کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
ایس پی اے کے مطابق’ 12 سے 18 فروری 2026 کے درمیان مجموعی طور پر 12 ہزار 153 افراد کو اقامہ قانون، 4 ہزار 103 کوغیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش اور 548 کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا۔‘
’غیرقانونی طور پر مملکت میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار 663 افراد کو گرفتار کیا گیا، ان میں 54 فیصد ایتھوپین، 44 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
علاوہ ازیں 31 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے مملکت سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 29 افراد کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 21 ہزار 491 تارکین جس میں 20 ہزار 156 مرد اور ایک ہزار 335 خواتین شامل ہیں اس وقت ضوابط پر عملدرآمد کے پروسیجر سے گزر رہے ہیں۔
ضوابط کی خلاف ورزیوں پر 15 ہزار 585 پر حراست میں لیا گیا، انہیں سفری دستاویز ات کے لیے سفارتحانوں یا قونصلیٹ سے رابطہ کرنے، ایک ہزار 270 کو سفری انتظامات کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ 14 ہزار893 کو ان کے ملک واپس بھیجا گیا۔
واضح رہے سعودی عرب میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں۔
سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے’ جو بھی شخص غیر قانونی تارکین کو سعودی عرب میں داخل ہونے کی سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔‘
وزارت داخلہ کے ٹول فری نمبروں پر مملکت میں خلاف ورزیوں کی اطلاع کی جا سکتی ہے۔
