Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

یورپی یونین کے پاس امریکہ کے حالیہ ٹیرف کا جواب دینے کے لیے مناسب راستے موجود ہیں: فرانس

نکولاس فورسیئر نے کہا کہ امریکی صدر کی جانب سے 10 فیصد فلیٹ ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر فرانس یورپی یونین کے ہم منصبوں اور یورپی کمیشن کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ (فائل فوٹو: روئٹرز)
فرانس کے وزیر تجارت نکولاس فورسیئر نے کہا ہے کہ برسلز کے پاس امریکہ کے حالیہ ٹیرف کے جواب دینے کے لیے مناسب راستے موجود ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فورسیئر نے سنیچر کو فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے تجارتی شراکت داروں پر عائد کیے گئے ٹیرف کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے بعد امریکی صدر کی جانب سے عالمی سطح پر 10 فیصد فلیٹ ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے پر فرانس یورپی یونین کے ہم منصبوں اور یورپی کمیشن کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’اگر ضروری ہوا تو یورپی یونین کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے مناسب وسائل موجود ہیں۔‘
اخبار نے فرانسیسی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ یورپی یونین کے جواب میں ’ٹریڈ بزوکا‘ جیسے اختیارات شامل ہو سکتے ہیں، جو ایک اینٹی کوئرشن انسٹرومنٹ (اے سی آئی) ہے اور یہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
اے سی آئی کے پاس وسیع طاقت ہے، جس میں برآمدی کنٹرولز، خدمات پر ٹیرف، اور امریکی کمپنیوں کو یورپی یونین کے خریداری کے معاہدوں سے خارج کرنا شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 90 ارب یورو (106 ارب ڈالر) مالیت کی امریکی مصنوعات پر جو جوابی ٹیرف عائد کیے گئے ہیں، وہ بھی عمل میں لائے جا سکتے ہیں۔
سنیچر کو ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکہ پہنچنے والی عالمی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ وہ ٹریڈ ایکٹ 1974 کی ایک شق کے تحت نئے ٹیرف عائد کر رہے ہیں اور یہ نئے محصول پہلے سے عائد ٹیکس کے علاوہ مزید وصول کیے جائیں گے۔
یہ نئے ٹیکس کچھ حد تک اُن 10 سے 50 فیصد تک کے ٹیکسوں کی جگہ لیں گے جو سنہ 1977 کے ہنگامی معاشی اختیارات کے قانون کے تحت عائد کیے گئے تھے اور جنہیں اعلیٰ عدالت نے غیرقانونی قرار دے دیا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا کہ انہوں نے تمام ممالک پر ٹیرف نافذ کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔
امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے ترجمان نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا کہ بندرگاہوں پر غیرقانونی قرار دیے گئے ٹیرف کی وصولی کب بند کی جائے گی۔

 

شیئر: