’اسلام آباد کو کراچی نہیں بننے دیں گے‘

سپریم کورٹ نے سی ڈی اے سے کہا ہے کہ آگاہ کیا جائے کہ غیرقانونی تعمیرات اور قبضے کب تک ختم ہوں گے؟ فوٹو:سوشل میڈیا
پاکستان کی سپریم کورٹ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غیرقانونی تعمیرات اور قبضے واگزار اور ماسٹر پلان کے خلاف استعمال ہونے والی زمین کی نشاندہی گوگل میپ سے کرانے کا حکم دیا ہے۔
نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے ہیں کہ ’اسلام آباد کو کراچی نہیں بننے دیں گے۔‘
سپریم کورٹ میں سینٹورس مال کی پارکنگ اور اسلام آباد کے ماسٹر پلان سے متعلق سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔   
عدالت نے آج جمعے کی سماعت کے بعد حکم نامہ بھی جاری کیا جس میں سی ڈی اے سے کہا گیا ہے کہ آگاہ کیا جائے کہ غیرقانونی تعمیرات اور قبضے کب تک ختم ہوں گے؟ کیا اسلام آباد کی زمین کا استعمال ماسٹر پلان کے مطابق ہو رہا ہے؟
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ ماسٹر پلان پر عملدرآمد کے معاملے میں سی ڈی اے افسران مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔ ان افسران کے خلاف سول اور فوجداری کارروائی کی جائے۔ عدالت نے سی ڈی کو مالی نقصان پہنچانے والے افسران سے ریکوری کرنے کا حکم دیتے ہوئے چھ ہفتے میں متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ تفصیلی رپورٹ طلب کر لی۔
چیئرمین سی ڈی اے عامر احمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اب سی ڈی اے کے پاس 11ارب روپے سے زائد کے فنڈز موجود ہیں۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ان پیسوں کا کیا فائدہ جب عوام  کی مشکلات دور نہ ہو۔ جہاں جاتا ہوں وہاں کے حالات خراب نظر آتے ہیں۔ جو کچھ دیکھتا ہوں افسوس ہوتا ہے اسلام آباد آج وہ نہیں جو ہونا چاہیے تھا۔ منصوبہ بندی کے تحت ایک شہر بنایا۔ لیکن آج اس کا حشر بگاڑ دیا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات کے خلاف کارروائی ہوتی ہے (فوٹو:سوشل میڈیا)

جسٹس گلزار احمد نے مزید کہا کہ ’ملٹی سٹوری بلڈنگ کی اجازت آپ کیسے دے رہے ہیں، کیا یہاں زلزلے نہیں آتے۔ بلڈنگ کتنا زلزلہ برداشت کرسکتی ہے معاملے کو کون دیکھتا ہے۔ سیاستدانوں کے کہنے پر آپ نے ملٹی سٹوری بلڈنگ کی اجازت دے دی۔ چئیرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ گذشتہ ہفتے ہم نے بلڈنگ  قوائد بنا دیئے ہیں جو پہلے موجود نہیں تھے۔‘
نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ ’ شام کو سینٹورس کے چاروں اطراف دیکھیں تو مچھلی بازار لگتا ہے۔ اسلام آباد میں مچھلی بازار والی حالات کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پارکنگ کہاں سے لانی ہے سینٹورس کا ذاتی معاملہ ہے۔‘
چئیرمین سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ ’سینٹورس سے ملحقہ علاقے کو دوبارہ سیل کردیا گیا ہے۔ عدالت نے بجا طور پر نشاندہی کی، سینٹورس نے سرکاری جالی کاٹ کرموٹرسائیکلوں کی پارکنگ بنا رکھی تھی۔‘
عدالت نے مئیر اسلام آباد سے استفسار کیا کہ آپ  کے پاس بجٹ اور11 ہزار لوگ ہیں پھر بھی آپ کچھ نہیں کر پا رہے۔ مئیر اسلام آباد نے عدالت میں وزارت داخلہ کی مداخلت کی شکایت کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے لوگوں کی تبادلہ وزارت داخلہ کررہی ہے۔ ہمارا بجٹ بھی حصے کے مطابق ہمیں نہیں مل رہا۔
عدالت نے کہا کہ میونسپل کارپوریشن کے ساتھ یہی سلوک کرنا تھا تو بنایا ہی کیوں گیا؟ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام ترقیاتی کام ایم سی آئی کی منظوری سے ہی ہوں گے۔ سیکرٹری داخلہ اسلام آباد کے انتظامی مسائل کا حل نکالیں۔

اسلام آباد کو بنانے کی باقاعدہ سے منصوبہ بندی کی گئی تھی (فوٹو:اے ایف پی)

چئیرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹ بھی عدالتی حکم پر پیش ہوئے۔ جسٹس گلزار احمد نے ان نے پوچھا کہ کیا آپ ہائی وے پر بھی سفر کرتے ہیں یا صرف جہاز پر؟ کیا آپ نے کراچی حیدرآباد موٹروے کا حال دیکھا ہے؟ کیا کراچی حیدرآباد روڈ موٹر وے کہلانے کے لائق ہے؟ کراچی حیدرآباد موٹروے کی حالت عام سڑک سے بھی بدتر ہوچکی؟
عدالت نے پوچھا کہ آپ کو عدالت کے گذشتہ عبوری حکم کا اندازہ ہے؟ سڑک ناقص ہونے کی بنیاد پر جو حادثات ہوئے ان کے  آپ ذمہ دار ہوں گے۔ پولیس کو کہہ دیتے ہیں ناقص سڑک کے باعث حادثہ ہو تو چیئرمین این ایچ اے کو شامل تفتیش کیا جائے۔ ہر ماہ پانچ ہزار سے زائد مقدمات آپ کے اوپر آئیں گے۔ آپ قانون کو سمجھ نہیں رہے یہی قانون پھانسی کے پھندے  تک لے جاتا ہے۔
چئیرمین این ایچ اے نے کہا کہ وقت دیا جائے عدالتی احکامات پر مکمل عمل درآمد کروں گا۔ جسٹس گلزار نے پھر استفسار کیا کہ کیا آپ نے چترال گلگت روڈ پر کبھی سفر کیا ہے؟  یہ منصوبہ دو مرتبہ کاغذوں میں بن چکا ہے۔ حقیقت میں گلگت چترال روڈ کا نام ونشان تک نہیں۔ آپ شاید سمجھتے ہیں ہمیں کچھ علم نہیں۔ آپ کو اپنے چاروں طرف نظر رکھنی ہوگی۔
عدالت نے سماعت چھ ہفتوں تک ملتوی کر دی۔

شیئر: