’ان وفاداروں کے بغیر ہم کچھ نہیں‘

انکی قدرکریں جنہو ںنے ہمارے آرام کیلئے سب کچھ چھوڑا۔ فوٹو ، اخبار 24
ایک سعودی خاندان اپنی وفادار خادمہ کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا۔ جذبات کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ ’ان وفاداروں کے بغیر ہم کچھ نہیں جنہوں نے ہمارے آرام کے لیے اپنا وطن، گھر بار اور سب کچھ چھوڑا۔‘
معاشرے میں جہاں نفرت و  حقارت ہے وہاں الفت و محبت اور وفا داروں کے قدردانوں کی بھی کمی نہیں جو لوگوں کے جذبات کو سمجھتے اور ان کی قدر کرتے ہیں۔
قدردانوں میں شامل ایسے ہی ایک سعودی خاندان نے اپنی غیر ملکی خادمہ کے جذبہ وفاداری کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا۔

معاشرے میں وفا شناسوں کی بھی کمی نہیں ۔ فوٹو ، اخبار 24 

 ٹوئٹر پر دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’ان دنوں تصویروں میں 25 برس کا فاصلہ ہے، ہم ان کے بغیر کچھ نہیں جنہوں نے ہمارے آرام و راحت کے لیے اپنا وطن، گھر بار، اہل وعیال اور آرام چھوڑا اور ہمار ی خدمت میں ماہ وسال لگا دیے۔‘
 ٹویٹ میں مزید کہا کہ ’جو دوتصویریں پیش کی جارہی ہیں ان میں وفا و اخلاص کی بھر پور عکاسی ہوتی ہے، میری عزیزہ ’شانی‘ جس نے مجھے ایام طفولت میں چلنا سیکھایا اور میری ہمیشہ رہنمائی کی آج میں اس کے قد کے برابر کھڑی ہوں، مجھے یہ کہنے میں کوئی پریشانی نہیں کہ میں ان کے بغیر کچھ نہیں۔‘
ٹوئٹر پر کی جانے والی پوسٹ پر لوگوں کا کہنا تھا کہ ’بے شک ہمیں ان کی قدر کرنا چاہیے جو ہمارے لیے اپنا وطن اور گھر بار سب کچھ چھوڑ کر یہاں آئے ہیں اور ہماری خدمت میں مصروف کار ہیں۔
ایک اورشخص کا کہنا تھا کہ ’تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے، ایک جانب سے اگر وفا اور محبت ملے گی تو دوسری جانب سے بھی اسی طرح کا جواب ملے گا ، ہمیں چاہیے کہ اپنے ملازموں سے اچھا اور مثالی برتاؤ کریں۔‘
واضح رہے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جانے والی تصویروں میں ایک غیر ملکی خادمہ کم سن بچی کو گود میں اٹھائے کھڑی ہے جبکہ اسی کے ساتھ دوسری تصویر ایک معمر خاتون کے ساتھ ایک نوجوان لڑکی کھڑی ہے۔
دنوں تصویروں میں فرق وقت کا یہ پہلی تصویر 25 برس قبل کی ہے جس میں خادمہ جوان اور بچی شیر خوار تھی جبکہ دوسری تصویر میں خادمہ معمر اور نوجوان لڑکی وہی بچی ہے جسے 25 برس قبل خادمہ نے گود میں اٹھایا ہوا ہے۔

شیئر: