سعودی عرب میں رمضان کا تجربہ منفرد اور یادگار، چینی شہری کے تاثرات
سعودی عرب میں گزشتہ 24 برسوں سے مقیم چینی شہری لیو جنگ شی کا کہنا ہے کہ مملکت میں رمضان کا تجربہ محض روزے رکھنے تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی، سماجی اور روحانی تجربہ بھی ہے جو سعودی معاشرے کی اقدار اور منفرد انسانی خصوصیات کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق لیو جنگ شی نے بتایا کہ ’وہ سنہ 2002 سے مملکت میں مقیم ہیں۔ اس طویل عرصے میں یہاں کی معاشرتی اقدار نے انہیں متاثر کیا۔ خاص کر ماہ رمضان معاشرتی اقدار کا مثالی نمونہ ہے۔‘
لیو جنگ شی کا کہنا تھا کہ ’رمضان المبارک کے دوران افطار خیموں کے علاوہ راستوں اور مساجد میں افطاری کے انتظامات کے روح پرور مناظر متاثر کن ہوتے ہیں، یہ مناظر سماجی تعاون اور باہمی یکجہتی کی خوبصورت مثال ہیں۔‘
رمضان کے دوران روز مرہ کی مصروفیت کے حوالے سے چینی شہری کا کہنا تھا کہ ’سحری کے وقت کھانا کھانے سے جسم میں توانائی سٹور ہو جاتی ہے جو سارا دن جسم کی ضرورت کو پورا کرتی ہے، سحری کے بعد اپنے روز مرہ کے کاموں کو انجام دیتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’افطار کے لیے کوشش ہوتی ہے کہ کچھ چینی پکوانوں کو بھی افطار دسترخوان پر مہیا کروں جس کے لیے اہل خانہ کے ساتھ مل کر افطاری کی تیاری میں اپنا حصہ شامل کرتا ہوں۔ عموماً افطار کھجور اور آب زمزم سے کرتا ہوں، سعودی قہوہ بھی انتہائی فرحت بخش ہوتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’سعودی عرب میں رمضان کا تجربہ انتہائی منفرد اور یادگار ہے، قریب سے رمضان کی عوامی روایات کو جاننے اور اس بابرکت مہینے میں معاشرے کے ساتھ مل کر ان روایات کو اپنانے کا موقع فراہم کیا۔‘
