قدیم نجدی طرز تعمیر کی جھلک: ریاض ریجن میں ’مسجد القلعہ‘ کی بحالی کا کام مکمل
مسجد کی چھت کے ستونوں کے لیے ’الاثل‘ درخت کے تنوں کا استعمال کیا گیا (فوٹو: ایس پی اے)
مملکت کی ثقافتی شناخت کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے سلسلے میں تاریخی مساجد اور ان کے تعمیری لینڈ مارکس کے تحفظ کے لیے، ’پرنس محمد بن سلمان پروجیکٹ‘ کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد جاری ہے۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مسجد قلعہ الامام ترکی بن عبداللہ کی بحالی کا کام مکمل کرلیا گیا۔ تاریخی مسجد، ریاض ریجن کی کمشنری حوطہ بنی تمیم میں واقع ہے۔
اسے ’مسجد القلعہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو ریاض ریجن کے شہر حوطہ بنی تمیم کے جنوب، مغربی سمت میں 5.9 کلو میٹر دور مرکز الحلوہ میں ہے۔
یہ تاریخی مسجد سعودی عرب کی دوسری ریاست کے بانی امام ترکی بن عبداللہ سے وابستہ ہے۔
مسجد کی تعمیرسال ہجری 1250 بمطابق 1834عیسوی میں کی گئی، دوسری سعودی ریاست کے بانی امام ترکی بن عبداللہ کی نسبت سے مسجد کا نام رکھا گیا،مسجد قلعہ کے اندر تھی اسی لیے عام طور پر اسے مسجد القلعہ بھی کہا جاتا ہے۔

مسجد القلعہ ایک روایتی طرز تعمیر کی حامل ہے جو قدیم نجدی تعمیر کی جھلک پیش کرتی ہے، بنیادوں کی تعمیر میں چٹانی پتھر جبکہ دیواروں کو چکنی مٹی کی اینٹوں سے چنا گیا۔
مسجد کی تعمیر میں دو روایتی طریقوں کو اختیار کیا گیا، پہلا طریقہ ’مدامیک‘ کا ہے جس میں مٹی یا اینٹوں کو تہت در تہہ اس انداز میں رکھا جاتا ہے کہ وہ پرتوں کی شکل اختیار کرلے، جسے عربی میں ’عروق ‘ ( رگیں) کہا جاتا ہے۔
جبکہ دوسرا طریقہ مستطیل شکل کی مٹی کی اینٹوں کے استعمال کا ہوتا ہے جنہیں لکڑی کے سانچوں کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔

مسجد کی چھت کے ستونوں کے لیے ’الاثل‘ درخت کے تنوں کا استعمال کیا گیا جبکہ کھجور کے سوکھے پتوں، ٹہنیوں اور گارے امتزاج سے چھت کو بنایا گیا۔
سال 2022 میں مسجد کو ولی عہد کے تعمیر نو کے منصوبے میں شال کیا گیا۔ اس وقت اس کا مجموعی رقبہ 608 مربع میٹرتھا جو تعمیرِ نو کے بعد بڑھ کر 625 مربع میٹر ہو گیا جبکہ نمازیوں کی گنجائش 180 ہی رکھی گئی۔
