10 برس کفیل کی قیدمیں رہنے والی خادمہ بالاخر قونصلیٹ کی مدد سے آزاد

 جدہ ..... نیپالی قونصلیٹ کی دانشمندی کے سبب 10 برس سے اپنے گھروالوں سے دور خادمہ کے واپس جانے کی راہ آسان ہو گئی ۔ کفیل نے خادمہ کو حبس بے جامیں رکھا ہوا تھا اسے ٹیلی فون پر بھی اپنے گھروالوں سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ عاجل نیوز کے مطابق طائف میں ایک مقامی شہری نے10 برس قبل نیپال سے خادمہ منگوائی جس پر اس نے پابندیاں عائد کر دیں ۔ خادمہ کو ابتدائی 3 ماہ تک تنخواہ دی گئی بعدازاں اسے کوئی حق نہیں ملا ۔ خادمہ کے آجر نے اس سے ٹیلی فون بھی لے لیا اسے کسی سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ نیپالی اخبار نے گنگا مایا کے حالات بتاتے ہوئے لکھا ، گنگا کو سعودی عرب میں رہتے ہوئے 10 برس گزر چکے تھے اس دوران اس کے باپ اور شوہر بھی چل بسے مگر کفیل نے اسے جانے اور گھروالوں سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی ۔ جب خادمہ کے پاسپورٹ کی میعاد ختم ہو گئی تو کفیل پاسپورٹ تجدید کرانے نیپالی قونصلیٹ پہنچا جہاں اہلکارنے جب یہ دیکھا کہ گنگا اس دوران کبھی وطن نہیں گئی تو اسے شک ہوا ۔ اہلکار نے کفیل سے کہا کہ پاسپورٹ کی تجدید کےلئے خادمہ کا ہونا لازمی ہے ۔ بالاخر کفیل دوسرے دن خادمہ کو قونصلیٹ لے آیا جب اہلکار نے اس سے دریافت کیا کہ وہ اتنے عرصے سے وطن کیوں نہیں گئی تو اس نے عربی میں کہا ©"میں واپس جانا نہیں چاہتی" ۔ قونصل نے نیپالی اخبار کو بتایا کہ خادمہ عربی میں بول رہی تھی کیونکہ کفیل بھی ہمراہ تھا مگر بات کچھ اور تھی جس پر گنگا مایا کو کہا کہ وہ نیپالی میں بتائے کہ اسے کوئی دشواری ہے ۔ قونصل کی زبانی یہ سن کر گنگا مایا نے تمام حالات بیان کردیئے جس میں اس نے بتایا کہ 10 برس سے اسے کس طرح قیدمیں رکھا گیا ۔ کسی سے رابطہ بھی نہیں کروایا جاتا ۔ پاسپورٹ قونصل نے معاملہ قونصل جنرل کو بتایا تو اس نے فوری طور پر گنگا کو قونصلیٹ میں روک لیا اورکفیل سے کہا وہ خادمہ کو نہیں لے جاسکتا ۔ گنگا نے مزید بتایا کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر آئی تھی اب اتنی مدت بعد وہ بڑے ہوگئے ہوںگے ۔ قونصل جنرل نے گنگا کے بچوں سے رابطہ کیا تو انہیں یقین نہیں آیا کہ انکی والدہ زندہ ہیں ۔ نیپالی قونصلیٹ نے لیبر آفیس میں کیس فائل کیا جہاں سے کفیل کے خلاف فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکم دیا گیا کہ خادمہ کی 10 برس کی تنخواہ اور واجبات جو کہ 30 ہزار ریال کے قریب بنتے ہیں انہیں اسے ادا کئے جائیں ۔

شیئر: