جب عباسی خلیفہ ہلاکو کے سامنے آیا

ہلاکو کی فوجوں نے بغداد میں اس حد تک قتل و غارت کی کہ دریائے دجلہ کا پانی کئی روز تک سرخ رہا (فوٹو: وکی پیڈیا)
762 سال قبل ٹھیک آج ہی کے دن، کئی روز سے بند شاہی فصیل کا دروازہ اندر سے کیا کھلا کہ مسلمانوں پر کچھ اور دروازے کھلے بھی اور بند بھی ہوئے۔ جن میں سے ایک قلوپطرہ کے اس صندوق کی مانند تھا جس میں بلائیں قید تھیں اور بند ہونے والوں میں سرفہرست علوم و فنون کا تھا۔
صندل سے بنا یہ شاہی محل کا وہی دیوہیکل دروازہ تھا جسے جب آگ لگائی گئی تو اس کی مہک نے لاشوں سے اٹھتے تعفن کو وقتی طور پر خوشبو میں بدل دیا تھا۔
ذکر ہو رہا ہے خلیفہ ہارون الرشید اور شہرزاد کے الف لیلوی شہر بغداد کا، سال ہے 1258، عباسی خلافت قائم ہے اور اس کے آخری خلیفہ مستعصم کا دور ہے۔ یہ ہر لحاظ سے ایک شاندار شہر ہے۔ انجنیئرنگ سے لے کر علم و فضل، سائنس، زراعت اور خوشحالی تک سب کچھ موجود ہے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے لیکن ہزاروں میل دور اسے تاراج کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

اس دور کا بغداد

اس کی بنیاد مستعصم بااللہ کے بزرگ ابوجعفر بن المنصور نے سال 762 میں رکھی تھی جو چند ہی عشروں میں دنیا کے عظیم ترین شہروں میں شمار کیا جانے لگا۔ دنیا بھر سے فلسفی، علما، سائنس دان اور ادبا یہاں پہنچنے لگے۔ علم کیمیا کے بانی جابر بن حیان، بابائے الجبرا الخوارزمی، مشہور فلفسی الرازی، الکندی، مشہور مفکر الغزالی سمیت کئی اہم علمی شخصیات یہیں رہائش پذیر رہیں۔

 

اس دور کے ایک شاعر نے اس کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا تھا، ’دجلہ کا کنارہ حسینوں سے پُر تھا اور شہر کا چوک مہ رخوں سے دمکتا تھا‘ ہر طرف شادابی تھی۔ تاہم دوسری طرف کچھ منفی چیزیں بھی تھیں، دولت کی فراوانی نے تن آسانی کو جنم دیا تھا۔ فرقہ واریت عروج پر تھی۔ کوے کے حلال یا حرم ہونے پر مباحث ہوتے تھے۔

مستعصم اور ابن علقمی

مستعصم کا پورا نام ابواحمد المستعصم بااللہ عبداللہ بن منصور المستنصر تھا۔ وہ 37 ویں اور آخری عباسی خلیفہ تھے، سنہ 1213 میں پیدا ہوئے اور 1244 میں خلیفہ بنے۔ ابن علقمی ان کا وزیر خاص تھا تاہم خلیفہ کے بیٹے کے ساتھ رنجش کی وجہ سے وہ اندر سے اس خلافت کے خلاف تھا جب اسے چین اور روس کے وسطی علاقے منگولیا سے اٹھنے والے اس نوجوان کے بارے میں معلوم ہوا جو آئے روز ملکوں پر ملک فتح کیے جا رہا تھا تو اسے پیغام بھجوایا کہ اگر وہ بغداد پر حملہ کرے تو مدد کی جائے گی اور قبضہ کرنے میں زیادہ دقت نہیں ہو گی۔

ہلاکو خان کون تھا؟

ہلاکو خان منگول حکمران چنگیز خان کا پوتا تھا، وہ بھی اپنے دادا اور باپ کی طرح ساری زندگی قتل و غارت میں جتا رہا۔ 1256 میں اس کو اس وقت ایران کا حکمران بنا کر بھیجا گیا جب وہاں ایک باغی گروہ سر اٹھا چکا تھا تاہم ہلاکو خان نے اس کو کچل دیا اور اس کے بعد بھی کئی ممالک پر حملہ آور ہوتا رہا۔

ہلاکو خان لشکر سمیت 29 جنوری 1258 کو بغداد پہنچا اور دریائے دجلہ کے کنارے پڑاؤ ڈالا۔ (فوٹو: وکی پیڈیا)

جب اسے ابن علقمی کا پیغام ملا تو اسے بغداد میں دلچسپی پیدا ہوئی اور دو  لاکھ کی فوج کے ساتھ نکل پڑا، جو منجنیقوں اور بارودی مواد سے لیس تھی۔ ابن علقمی کو علم ہوا تو اس نے خلیفہ سے کہا کہ ہمیں اتنی بڑی فوج ایسے ہی بے کار بیٹھی تنخواہیں لے رہی ہے۔ ان کو دوسرے علاقوں کے سرداروں کے پاس بھیج کر کسی پیداواری کام پر لگائیں جس پر زیادہ تر فوج دوسرے علاقوں میں بھیج دی گئی۔

بغداد کا محاصرہ

ہلاکو خان لشکر سمیت 29 جنوری 1258 کو بغداد پہنچا دریائے دجلہ کے کنارے پڑاؤ ڈالا اور خلیفہ کو خط لکھا:
لوہے کے سُوئے کو گھونسہ مت مارو، سورج کو بجھی ہوئی شمع سمجھنے کی غلطی مت کرو۔ دروازے کھولو، خندقیں بھر دو، حکومت چھوڑ کر ہمارے پاس آ جاؤ۔ اگر ہم نے حملہ کیا تو پاتال میں پناہ ملے گی نہ آسمانوں میں۔
چونکہ اس وقت تک خلیفہ کو امید تھی کہ مراکش اور دوسرے ممالک اس کی مدد کر آئیں گے اس لیے ہلاکو کو جوابی خط لکھا ’چند روز کی خوش قسمتی سے تم نے خود کو کائنات کا مالک سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ مشرق سے مغرب تک اہل ایمان میرے ساتھ ہیں، اس لیے بخیریت لوٹ جاؤ۔
دن پر دن گزرتے رہے اس دوران دریائے فرات کے کنارے آبادی کو ہلاکو خان کے سپاہی نشانہ بناتے رہے جس پر خلیفہ نے فوج کو مقابلے کے لیے بھیجی جو تاتاریوں کے لشکر کے سامنے نہ ٹک سکی اور چند دن کے اندر زیادہ تر فوجی مارے گئے۔
شاہی محل کی اونچی دیواروں اور دیوہیکل دروازے کے پیچھے بیٹھے خلیفہ مستعصم متفکر تھے کہ کیا کیا جائے۔ ایسے میں ابن علقمی نے مشورہ دیا کہ اگر وہ خود ہلاکو خان کا استقبال کرنے چلے جائیں (جیسا کہ اس نے خط میں لکھا ہے) تو شاید بات بن جائے کیونکہ اسے مال ودولت سے غرض ہے جو خلیفہ کے پاس بے تحاشا ہے، وہ لے کر چلا جائے گا۔ خلیفہ نے اس تجویز پر غور شروع کر دیا۔

منگولوں کی روایات کے مطابق کسی بادشاہ کا زمین پر خون بہانا بدشگونی سمجھا جاتا ہے اس لیے سپاہیوں کو حکم دیا گیا کہ خلیفہ کواس طرح سے مارو کہ خون زمین پر نہ گرے (فوٹو: وکی پیڈیا) 

جب شاہی درواز کُھلا

10 فروری 1258 کو خلیفہ چند فوجی افسران اور درباریوں کے ساتھ نکل کر ہلاکو خان کے خیمے کی طرف بڑھے تو ان کے ساتھ آنے والے تمام لوگوں کو خیمے کے باہر ہی روک لیا گیا اور خلیفہ کے اندر جاتے ہی سب کو قتل کر دیا گیا۔ خلیفہ کو وہیں سے پکڑ کر قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ انہیں کئی روز تک بھوکا پیاسا رکھا گیا جب وہ بھوک سے نڈھال ہو گئے تو نکال کر ہلاکو کے سامنے پیش کیا گیا۔

خلیفہ و ہلاکو کے تاریخی مکالمے

جب کئی روز سے بھوکے عباسی خلیفہ نے پیش کیے جانے والے خوان کا ڈھکن اٹھایا تو اس میں ہیرے جواہرات تھے۔
ہلاکو نے کہا ’کھاؤ‘ خلیفہ بولے ’میں یہ کیسے کھا سکتا ہوں۔
جس پر ہلاکو بولا ’تو پھر یہ چیزیں جمع کیوں کیں، اگر تم اس دولت سے جنگ کا سامان خریدتے، سپاہی بھرتی کرتے تو شاید آج میں دریا عبور نہ کر پاتا۔
جس پر عباسی خلیفہ نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا ’خدا کی یہی مرضی تھی

 

ہلاکو خان نے جواب دیا ’اب میں جو تمہارے ساتھ کرنے جا رہا ہوں وہ بھی خدا کی مرضی ہے۔

مستعصم کی موت

منگولوں کی روایات کے مطابق کسی بادشاہ کا زمین پر خون بہانا بدشگونی سمجھا جاتا ہے اس لیے اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس طرح سے مارو کہ خون زمین پر نہ گرے۔ خلیفہ کو قالین میں لپیٹ کر پہلے فوجیوں نے لاتھوں گھونسوں کا نشانہ بنایا اور پھر اس پر اس وقت تک گھوڑے دوڑائے جب تک موت واقع نہ ہو گئی۔
ہلاکو کی فوجوں نے بغداد میں اس حد تک قتل و غارت کی کہ دریائے دجلہ کا پانی کئی روز تک سرخ رہا، کتب خانوں کو جلا دیا گیا، گلیوں میں پڑی لاشوں کے ڈھیر سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے ہلاکو کو رہائشی خیمہ شہر سے باہر لے جانا پڑا۔ ایک اندازے کے مطابق پانچ سے دس لاکھ افراد کو قتل کیا گیا۔

شیئر: