وسعت اللہ خان کا کالم: تہذیب کی درفنتنی!

جو جتنا بلند آہنگ اس کی دلیل اتنی ہی مضبوط  و جاندار۔ فوٹو: اے ایف پی
نو آبادیاتی انگریزی نظامِ انصاف کے جج اکبر الہ آبادی سے آج تک ہمارے بزرگ نئی تہذیب کے پیچھے لٹھ لیے گھوم رہے ہیں۔ ایک زمانے تک اسے کرسٹان یا فرنگی تہذیب کہا جاتا تھا۔ پھر یہ فیشن ایبل مغرب زدہ اپوا تہذیب ہوگئی۔ برقعے سے باہر ہونے والی ہر لڑکی پرکٹی قرار پائی۔
بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
جس زمانے میں ہم نے قدرے ہوش سنبھالا، اس زمانے میں حسن طارق کی فلم تہذیب کا یہ گانا ’لگا ہے حسن کا بازار دیکھو، نئی تہذیب کے آثار دیکھو‘ بہت مشہور ہوا۔ اس کا پہلا مصرعہ دراصل یہ تھا ’لگا ہے مصر کا بازار دیکھو‘ مگر سنسر بورڈ نے مصر کو حسن سے بدلوا دیا، مبادا برادر مصر سے وہ تعلقات نہ بگڑ جائیں جو تھے ہی نہیں۔
ہمارے ہاں آزادی مارچ والے مولانا فضل الرحمان سمیت جتنے بھی بزرگ مغربی تہذیب کا استعارہ بطور کوڑا لہراتے ہیں تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتی کہ فلاں شخص سائنس، ٹیکنالوجی، مغربی فلسفے، آرٹ، ادب وغیرہ کا دلدادہ ہے بلکہ اس سے مراد فیشن (زنانہ فیشن)، جینز، مخلوط محافل، ناچ گانا، پینا، خواتین کے حقوق کے داعی، این جی اوز، موم بتی مافیا وغیرہ وغیرہ ہوتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں بھی غیرت ظاہر کرنے کا خیبر سے تامل ناڈو اور کراچی سے چٹاگانگ تک ایک ہی انداز ہے؟ فوٹو: اے ایف پی

تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ مغرب میں ہر زن و مرد چوبیس گھنٹے یا تو فحاشی میں مصروف ہے یا مصروف ہونا چاہتا ہے (اگر ایسا ہی ہے تو ان لاکھوں جرات مند مسلمانوں پر سلام جو یورپ اور شمالی امریکہ میں دلدلِ گناہ  کے بیچ خود کو پاک دامن رکھنے کی مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں)۔
اور جب پوچھا جائے کہ مجرا، لواطت، کاروکاری، بد کلامی، کس تہذیب کا حصہ ہیں تو کہا جاتا ہے یہ دراصل سماجی بیماریاں ہیں۔
ویسے جب ہم کہتے ہیں کہ مشرقی تہذیب تو اس سے کیا مراد ہے؟ شرم و حیا؟ مگر کس کے لیے؟ عورت کے لیے؟ کسی مشرقی مرد کے بارے میں کیوں نہیں کہا جاتا کہ جمیل صاحب شرم و حیا کا پیکر ہیں۔ یہ جملہ جمیلہ کے لیے ہی کیوں مخصوص ہے۔
غیرت؟ یہ اصطلاح بھی عورت کے چال چلن کے بارے میں مردانہ ردِعمل کے لیے مخصوص ہے۔ کیا خواتین کو اپنے مردوں کے افعال پر غیرت نہیں آتی؟ اگر آتی ہے تو اس کے لیے متبادل اصطلاح اور بیانیہ کیا ہے؟ مرد کو صرف بے غیرت کہنے سے بےغیرتی کی تلافی ہو سکتی ہے تو یہی لفظ عورت کی بے غیرتی کی تلافی کے لیے کیوں ناکافی ہے؟ وہ قتل کے بعد بھی شریف کیوں نہیں قرار پاتی؟
مغربی تہذیب میں لباس، رہن سہن، عقائد، رسوم و رواج کی بنیاد کم و بیش ایک ہی ہے۔ لیکن جب ہم مشرقی تہذیب کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو کیا اس سے مراد چین و جاپان سمیت کل ایشیائی تہذیب ہے یا محض گنگا جمنی تہذیب  یا پھر عرب و عجم  اور وسطی ایشیائی ملغوبے سے اٹھنے والی خمیری تہذیب؟

گھونگھٹ صرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں تو نہیں ہوتا وہ تو راجھستان، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے ہندوؤں میں بھی ہے۔ فوٹو: اے ایف پی

تقسیم کے بعد سے یہ بات کہنے میں کیوں شرم محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے نزدیک مشرقی تہذیب کا مفہوم دراصل گنگا جمنی اور اسلامی تہذیب سے لی گئی چنیدہ اقدار کا آمیزہ ہے۔ گھونگھٹ صرف جنوبی ایشیا کے مسلمانوں میں تو نہیں ہوتا وہ تو راجھستان، مہاراشٹر اور مدھیہ پردیش کے ہندوؤں میں بھی ہے۔ شادی اور سوگ کی مقامی رسومات جنوبی ایشیا کی غالب ہندو اور مسلمان تہذیب کے اجزائی مجموعے کے سوا  کیا ہیں؟ غیرت کا جو مفہوم جنوبی ایشیا میں ہے کیا باقی ایشیا میں بھی وہی ہے؟ اور خود جنوبی ایشیا میں بھی غیرت ظاہر کرنے کا خیبر سے تامل ناڈو اور کراچی سے چٹاگانگ تک ایک ہی انداز ہے؟
رہی بات بے پردگی کی تو اب سے سو برس پہلے خواتین پالکی میں سفر کرتی تھیں۔ پچاس برس پہلے خواتین کی اکثریت برقع یا چادر میں باہر نکلتی تھی۔ آج 2019 میں دیر کی عورت کا ٹوپی برقعہ پہنے بغیر باہر نکلنا بے پردگی شمار ہوتا ہے مگر کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں کتنی خواتین کسی بھی طرح کے برقعہ میں نظر آتی ہیں اور کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کے پردے کی کیا تشریح ہے؟ ان میں سے آپ کسے شرم و حیا اور مشرقی تہذیب کی کسوٹی پر پرکھیں گے اور کس کے بارے میں غیر مشرقیت  کا فتویٰ دیں گے؟ اور میری جو بہن یا بیٹی چست فلائنگ سوٹ میں پاکستانی سرحدوں پر اس وقت ہم سب نام نہاد مشرقیوں اور غیر مشرقیوں کے تحفظ کے لیے فائٹر جیٹ اڑا رہی ہے وہ؟
تو پھر عریانیت کہاں ہے؟ دماغ میں ، آنکھوں میں یا  کپڑوں میں یا تربیت میں؟

مشرقی مرد کے بارے میں کیوں نہیں کہا جاتا کہ جمیل صاحب شرم و حیا کا پیکر ہیں۔ یہ جملہ جمیلہ کے لیے ہی کیوں مخصوص ہے۔ فوٹو: روئٹرز

مسئلہ یہ ہے کہ اس کنفیوژن سے نکلنے کے لیے بحث کون کرے؟ فوراً کوئی نہ کوئی لیبل چپکنے کو تیار ہے۔ ہم سب  ایک دوسرے کو پوری طرح سمجھنے کے بجائے دلائل کے اونی کپڑے پہن کر برانڈڈ سوچ کے چشمے لگائے ایک دوسرے کو سمجھانے بلکہ چپ کروانے میں لگے ہوئے ہیں۔ جو جتنا بلند آہنگ اس کی دلیل اتنی ہی مضبوط  و جاندار۔
جس طرح کچھ اقدار انسانوں کی مشترکہ میراث ہیں جیسے سچ، رواداری، احترامِ آدمیت، رشک اور صلہ رحمی۔ اسی طرح  کچھ برائیاں بھی مشترکہ میراث ہیں جیسے جھوٹ، منافقت، حسد، تشدد وغیرہ۔ جب ہم ان مشترکہ اقدار یا عیوب کو انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنانے یا ان سے  پرہیز کرنے کی کوشش  کے بجائے انہیں کسی مخصوص تہذیبی،  نظریاتی یا علاقائی مرتبان میں بند  کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو سوائے نفرتی گند اور دوری کے کیا ہاتھ آتا ہے؟  
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں ، نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے۔ اس شعر میں شائد اور تاثیر بھر جاتی اگر اقبال ہائڈل برگ، میونخ  اور لندن کے بجائے پنجاب یونیورسٹی یا علی گڑھ سے فارغ التحصیل ہونا پسند فرما لیتے۔
کالم اور بلاگز واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے ’’اردو نیوز کالمز‘‘ گروپ جوائن کریں

شیئر: