Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’پاک سعودی تعلقات کسی بھی ناکامی سے بالاتر ہیں‘

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
حالیہ دنوں میں پاکستانی میڈیا میں کچھ پریشان کن خبریں شائع ہوئیں جو بعد میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا بھی حصہ بنیں، ان خبروں کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات کو سبوتاژ کرنا تھا۔
بظاہر ان کا مقصد مسلم امہ کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا تھا، اسلامی ممالک کی تنظیم کے کشمیر پر موقف پر سوال اٹھایا گیا اور اس کو سعودی عرب کی پاکستان کی معاشی مدد کے ساتھ جوڑا گیا۔
اس سے بھی زیادہ پریشان کن امر یہ ہے کہ یہ نقصان دہ رپورٹس پاکستان کے وزیر خارجہ کے ایک بیان سے منسلک ہیں جو انہوں نے پانچ اگست کو ایک مقامی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران دیا۔
اس انٹرویو میں، انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس میں پاکستان کی امیدوں پر پورا نہیں اترتی تو وہ ’مجبور ہو کر وزیراعظم عمران خان سے ان اسلامی ممالک کا اجلاس بلانے کا کہہ سکتے ہیں جو مسئلہ کشمیر اور پسے ہوئے کشمیریوں کی مدد کے لیے ہمارا ساتھ دینے کے لیے تیار ہیں۔‘ 
وزیرخارجہ کے بیان کے بعد میڈیا پر سعودی عرب کی پاکستان کو ہنگامی مالی مدد منسوخ کرنے کے بارے میں قیاس آرئیاں کی گئیں۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ اسلامی ممالک کی تنظیم اور اشارتاً اس کے بانی سعودی عرب پر کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے ناکافی کردار ادا کرنے کا الزام لگایا گیا۔
افسوس ناک طور پر، کسی نے بھی دونوں معاملوں پر سعودی موقف جاننے کی کوشش نہیں کی، جو کہ ایک دوسرے سے منسلک ہیں نہ حقیقی طور پر درست۔ چنانچہ، اس بارے میں ریکارڈ کی درستی کے لیے وضاحت ضروری ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہمیشہ بے مثالی سطح کی ہم آہنگی اور دوستی رہی ہے جس کی بنیاد مشترکہ مذہب، ثقافت اور سماجی اقدار پر ہے۔

پاکستان کے آرمی چیف نے سعودی نائب وزیر دفاع سے ملاقات کی ہے (فوٹو: ایس پی اے)

ان کے منفرد تعلقات کی جڑیں عوام کے لیے مشترکہ پیار میں ہیں، اور چنانچہ کسی بھی حکومت یا لیڈرشپ کی تبدیلی ان دونوں عظیم اقوام پر تاریخی طور پر اثر انداز نہیں ہوئی۔
اسی لیے، ہر گزرتی دہائی کے ساتھ ساتھ، سعودی پاک اشتراک نے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی میدان میں عظیم منازل طے کی ہیں۔
فروری 2019 میں یہ سٹریٹجک تعلق مزید ابھر کر سامنے آیا جب ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، جہاں وزیراعظم عمران خان انہیں شفیق انداز میں خود ڈرائیو کرتے ہوئے اسلام آباد ایئرپورٹ سے وزیراعظم ہاؤس تک لے کر گئے تھا۔
اس سے ایک سال قبل کئی ملاقاتوں میں ان میں ذاتی کیمسٹری بن گئی، جو مفید بھی ثابت ہوئی، جب ولی عہد نے پاکستان کے لیے 6.2 ارب ڈالر کے ہنگامی معاشی ریلیف پیکج پر دستخط کیے، جس میں تین ارب ڈالر کا قرضہ اور 3.2 ارب ڈالر کی رقم تین سال کے لیے دی گئی، تاکہ پاکستان اپنے فارن ایکسچینج اثاثے بڑھا سکے اور بیرونی قرضہ جات کی ادائیگیوں کے بحران سے نکل آئے۔
یہ ہنگامی ریلیف پیکج گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری ایسے ہی اقدامات کا تسلسل تھا، جب کبھی پاکستان معاشی مشکلات کا شکار ہوا تو سعودی عرب نے تاخیری ادائیگیوں پر تیل فراہم کیا۔ البتہ اس بار معاشی بحران کہیں زیادہ شدید تھا، جب پاکستان کو بیرونی قرضوں کی عدم ادائیگیوں کا سامنا کرنے کا خطرہ تھا۔
چنانچہ سعودی عرب اس صورت حال میں سب سے پہلے مدد کے لیے آیا جب نومبر 2018 میں 6.2 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کی پیشکش کی۔ متحدہ عرب امارات نے بھی بعد بھی ہاتھ بٹایا۔ یہ سب جولائی 2019 میں پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے چھ ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری سے سات ماہ قبل ہوا تھا۔
تاہم، اس سے زیادہ کہیں زیادہ اہم اقدام ولی عہد کے دورے کے اختتام پر پاکستان میں 20 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری کے معاہدے تھے، جن میں گوادر میں دس ارب ڈالر مالیت کی آئل ریفائنری اور بقیہ پیٹروکیمیکل کمپلیکس، معدنیات اور قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے مختص تھے۔
یہ واضح ہے کہ سعودی عرب اب پاکستان کے طویل المدتی معاشی ترقی کے منصوبے، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک)  کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتا تھا، جس کا اختتام سٹریٹجک گوادر بندرگاہ پر ہوتا ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ چین سعودی عرب سے تیل درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، اور سعودی عرب بھی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹیو اور ایشیا کی دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھاتے ہوئے اپنے عالمی معاشی تعلقات میں تنوع لا رہا ہے۔

سعودی عرب کے ساتھ رشتے کی بنیاد مشترکہ مذہب، ثقافت اور سماجی اقدار پر ہے (فوٹو: عرب نیوز)

لہٰذا، سعودی پاک معاشی اشتراک میں حالیہ پھیلاؤ باہمی طور پر تھا اور بی آر آئی یا سی پیک سے متصادم نہیں تھا، یہ بھی بتانا اہم ہے کہ دونوں برادر اسلامی ممالک ہمیشہ مشکل وقت میں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوئے ہیں۔
ِمثال کے طور پر، 1990 میں کویت میں عراق کے حملے کے خلاف پاکستان نے اپنی بری افواج سعودی عرب بھیجیں۔ تین دہائیوں کے بعد، پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف نے دہشت گردی کے خلاف اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی کی جو 41 مسلم ممالک پر مشتمل ہے۔
حرمین شریفین کی حرمت کے دفاع سے لے کر دہشت گردی کو شکست دینے تک، پاکستان سعودی عرب کا ہمیشہ اہم اتحادی اور ایک بڑا مسلم پلیئر رہا ہے۔
پاکستان میں سنہ 2001 سے 2009 کے ہنگامہ خیز دور کے دوران پاکستان میں بطور سعودی سفیر تعینات رہنے کے دوران، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دونوں اقوام نے 9/11 کے بعد کس گہرائی سے دہشت گردی کا سامنا کیا اور ہم نے کس طرح دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک ساتھ اس پر قابو پایا۔
میں نے سول اور فوجی قیادت سے قریبی تعلقات قائم رکھے تاکہ پاکستان محفوظ اور مستحکم رہے۔ مجھے وہ بدقسمت دن بھی یاد ہیں جب  آزاد جموں و کشمیر میں تباہ کن زلزلہ آیا اور سعودی عرب نے فوری طور پر متاثرین کی ہنگامی امداد کے لیے فضائی راہداری قائم کی۔  
سعودی عرب اور پاکستان نے علاقائی امن، افغانستان اور کشمیر میں استحکام کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے قریبی تعاون کیا۔ لہٰذا، میں نے ذاتی طور پر، جب پاکستان نے سرکاری طور پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پانچ اگست کو یوم استحصال کشمیر کا دن منایا، میں نے انہی کالمز میں کشمیری مسلمانوں کی پریشان کن صورت حال کو اجاگر کرنے اور کشمیر کے تنازعے کے جلد حل کے لیے قلم اٹھایا تھا۔  
تاہم، اس کی اگلی صبح، میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے کشمیر پر او آئی سی کے بیان پر افسردہ ہوگیا، جو حقیقت سے کہیں دور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ او آئی سی کی رابطہ کمیٹی برائے کشمیر نے، جس کی سربراہی سعودی عرب کے سفیر یوسف ایم الدوبئے کر رہے ہیں، لائن آف کنٹرول سمیت آزاد جموں و کشمیر کا دورہ کیا، رواں سال مارچ میں تقریباً ایک ہفتہ وہ وہاں رہے تھے۔

گذشتہ برس پاکستان کے وزیراعظم نے شاہ سلمان سے ملاقات کی تھی (فوٹو: اے ایف پی)

بعد ازاں رابطہ کمیٹی نے جون میں ورچوئل اجلاس منعقد کیا، جس کا افتتاح او آئی سی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر يوسف بن احمد العثيمين نے کیا۔ انہوں نے ‘او آئی سی کی جانب سے اسلامی سمٹ، کونسل آف فارن منسٹرز، اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جموں و کشمیر کے معاملے کے پرامن حل کی تلاش کے عزم‘ کو دہرایا۔
اس کے علاوہ، پانچ اگست کے بعد کشمیر پر پاکستانی سنجیدگی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں ’جموں و کشمیر ری اورگنائزیشن آرڈر 2020‘ اور ’جموں و کشمیر گرانٹ آف ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ رولز 2020‘ کو مسترد کیا گیا جس کا مقصد متنازع علاقے میں ڈیموگرافک ڈھانچہ تبدیل کرنا تھا۔
اس میں ‘او آئی سی جموں و کشمیر کے عوام کی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور اقوام متحدہ کے جنرل سکیرٹری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ انڈیا کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کا پابند بنانے کے لیے اپنے دفاتر کا استعمال کریں۔‘
کشمیر کے سانحے سے متعلق او آئی سی کے سیکریٹری جنرل اور رابطہ کمیٹی کا ایسا پرعزم ردعمل، جس کے بعد اس کا فیک فائنڈنگ مشن آزاد جموں و کشمیر گیا، اس سے بہت کونسل آف فارن منسٹرز کی جانب سے ایک اور اعلامیے کی بہت کم گنجائش رہ جاتی ہے۔
اس کے علاوہ، عالمی وبا کی وجہ سے بڑے سفارتی اجتماعات کی گنجائش بھی محدود تھی۔ اس کے باوجود، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کونسل آف فارن منسٹرز کے اجلاس پر او آئی سی کی ساکھ کو داغدار کرنے کا انتخاب کیا۔
ایک سال قبل، پاکستان نے بلاشبہ اس وقت ایک بڑی کامیابی حاصل کی جب وہ انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر کے الحاق اور متنازع علاقے میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی مشاورتی اجلاس طلب کرنے میں کامیاب ہوا۔
بدقسمتی سے اس وقت سے لے کر اب تک، شاہ محمود قریشی کی سربراہی میں وزات خارجہ کشمیر کے معاملے میں اس ابتدائی عالمی سفارتی کامیابی کو مزید آگے نہیں بڑھا سکی۔ چنانچہ، ان کی آئی او سی کو مورد الزام ٹھہرانے کی مایوس کن کوشش کی ایک توجیح یہی ہے کہ وہ اپنی کشمیر پر اپنی ناکامی پر پردہ ڈال رہے ہیں۔  
تاہم، سعودی نکتہ نظر سے، وزیرخارجہ قریشی کی کشمیر پر او آئی سی کے مینڈیٹ کے بغیر ’اسلامی ممالک کا اجلاس‘ منعقد کرنے کی دھمکی زیادہ پریشان کن ہے۔ سعودی عرب اسلام کا قلعہ ہے، جہاں اسلام کے مقدس ترین مقامات مکہ اور مدینہ واقع ہیں۔ چنانچہ، اس نے ہمیشہ ایسی کوششوں یا مسلم امہ کو تقسیم کرنے کے مقاصد کا مقابلہ کیا ہے۔

دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام وقتاً فوقتاً ملتے رہتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

  
گذشتہ دسمبر، پاکستان نے کوالالمپور میں ایک ایسے ہی اجلاس کے بائیکاٹ کا دانشمندانہ قدم اٹھایا تھا، جو بنیادی طور پر ترکی اور ایران کی جانب سے او آئی سی کی قیادت کو چیلنج کرنے کی ایک کوشش تھی۔
اگر شاہ محمود قریشی کا پوشیدہ اشارہ کسی ایسے اجلاس کی جانب ہے تو پھر یہ ایک خطرناک تجویز ہے جس کی ایک برادر اسلامی ملک سے توقع نہیں کی جا سکتی جس کے عوام، ترکی اور ایران کے عوام کی طرح، ہمیشہ امہ کی یکجہتی کے متنمی رہے ہیں۔
ایسا کوئی قدم ترکی اور ایرانی کی موجودہ حکومتوں اور حکمرانوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے، جو امہ کی مزید تقسیم چاہتے ہیں۔ عراق اور شام سے لبنان اور لیبیا تک، ان کے ہاتھ مسلمان آبادیوں پر تکالیف پہنچانے میں خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ وہ دہشت گرد عناصر کی حمایت کرتے ہیں، اور مسلمان علاقوں میں تباہی کے ذمہ دار ہیں۔
40 برسوں تک، ایران عرب معاملات میں گھناؤنے راستوں سے گھستا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کے طور پر انتونیو گتریس نے جون میں سکیورٹی کونسل کو اپنی رپورٹ میں تصدیق کی تھی کہ وہ یمن میں حوثی باغیوں کو ہتھیار فراہم کر رہا ہے، اور سعودی عرب پر ان کے میزائل اور ڈرون حملوں میں تعاون کر رہا ہے۔
گذشتہ ماہ، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی خود اپنے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے فون پر بات کر رہے تھے جس میں سعودی عرب پر مسلح حملوں کے بارے میں پاکستان کی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ پھر وہ کسی ایسی آپشن کے بارے میں کیسے غور کر سکتے ہیں جس کی پشت پناہی ایران کر رہا ہے۔
یہ ترکی کے لیے خاصی بدقسمتی ہے کہ اس کی حکمرانی ایک خبط عظمت کا شکار نوعثمانی کر رہا ہے جس کی مقامی بالادستی اور علاقائی تسلط کے قیام کی پیاس کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ تقریبا دو دہائیوں سے، رجب طیب اردوان نے مقامی امن اور علاقائی جغرافیائی و سیاسی انتشار کے لیے پرانے زخم کریدے ہیں۔ اسلامی دنیا کو تقسیم کرنے کی ان کی ذاتی کوشش حال ہی میں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔
پاکستان اس جال میں کیوں پھنسے؟
دو ممالک کے درمیان سٹریٹجک شراکت داریاں برسوں کی صبر آزما سخت محنت کے بعد قائم ہوتی ہیں۔ چنانچہ، ایک گمراہ شخص کی بے بنیاد بیان بازی سے ان شراکت داریوں کے ناکام ہونے کے امکانات نہیں ہیں، جو سعودی پاک تعلقات میں مبینہ کشیدگی کی بنیاد بنی، جبکہ ریاض اور اسلام آباد دونوں ایک دوسرے کی قومی حساسیات اور حدود کو سمجھتے ہیں۔  
اسی وجہ سے، سعودی عرب نے اس وقت حیرت کا اظہار نہیں کیا جب پاکستانی پارلیمان نے 2015 میں یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی بحالی کے لیے فوجی کوششوں کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ کشمیر کے معاملے میں ستم ظریفی یہ ہے کہ سعودی عرب، نہ اس کے خلیجی اتحادی کوئی ایسا کام نہیں کرنے کی خواہش نہیں رکھتے جو پاکستانی مفادات اور کشمیریوں کی خواہشات کے خلاف ہو۔ پھر، کوئی انہیں کشمیر کے لیے ناکافی کردار ادا کرنے کے الزام کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟ 
بلاشبہ، یہ حقیت یے کہ سعودی عرب نے ایشیا میں اپنے پھلتے پھولتے معاشی تعلقات کے حصے کے طور پر انڈیا میں بھرپور سرمایہ کاری کی ہے۔ انڈیا سے بڑی تعداد میں کارکنان سعودی عرب میں موجود ہیں، یہ تعداد پاکستان سے زیادہ نہیں تو کم از کم 30 لاکھ کے قریب ضرور ہے اور اپنے آبائی ملک میں اربوں ڈالر کی رقوم بھیجتے ہیں۔
کیا یہ گہرا معاشی تعلق یا باہمی انحصار سعودی عرب کو حقیقت پسندانہ اثرورسوخ فراہم نہیں کرتا کہ وہ انڈیا کی کشمیر میں امن کے حوالے سے پالیسی پر اثرانداز ہوسکے؟ اس کے علاوہ، کیا پاکستان نے خود کشمیرکے تصفیے پر یک طرفہ طور پر انڈیا کے ساتھ دوطرفہ عمل ختم نہیں کیا ہوا جبکہ اسی دوران وہ کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈالتا رہا ہے؟
پاکستان کے لیے سعودی ہنگامی معاشی ریلیف پیکج کا معاملہ جس طرح رپورٹ ہوا، سب سے پہلے تو میڈیا نے سرکاری سعودی ذرائع سے تصدیق نہیں کی۔ اپنے خلیجی اتحادیوں کی طرح سعودی عرب کی معیشت بھی کورونا وائرس کی وبا اور تیل کی عالمی قیمتوں میں نشیب کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے، لیکن مقامی شہری اور غیرملکی کارکن اس کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
پھر، پاکستان وبا کے باوجود اس قسم کے معاشی بحران کا سامنا نہیں کر رہا جس طرح وہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاشی معاہدے سے قبل کر رہا تھا۔ تاہم، اگر کسی غلط فہمی کی وجہ سے کسی قسم کے اختلافات ابھرے ہیں تو معیاری رویہ یہ ہے کہ انہیں دونوں ممالک میں دستیاب عوامی، یا سیاسی یا سفارتی راستوں کے ذریعے حل کیا جائے۔
اس قسم کے اختلافات کو عوامی سطح پر لانے سے، جیسا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جذباتی انداز میں او آئی سی کے کشمیر پر موقف سے کیا یا ذرائع ابلاغ میں پاکستان کو سعودی معاشی امداد کی غیرمصدقہ خبروں سے ہوا، ہم نے دونوں ممالک کے مفادات کی مخالف قوتوں کو اپنی تاریخی شراکت داری کو سبوتاژ کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
خوش قسمتی سے سعودی پاک تعلقات کی جڑیں غیر معمولی طور پر گہری مذہبی، سیاسی اور عوام کی سماجی تمناؤں میں ہیں کہ وہ ایسے ناخوش گوار واقعات کا سامنا کر سکتے ہیں جیسا کہ یہ حالیہ واقعہ ہے۔

پاکستانیوں کی بڑی تعداد سعودی عرب میں ملازمت کرتی ہے (فوٹو: اے ایف پی)

دراصل، سعودی پاک دفاعی تعاون اتنا گہرا اور وسیع ہے کہ انہیں نقصان پہنچانے کی حالیہ سازش اتنی ہی تیزی سے بے نتیجہ ثابت ہوگی جتنی تیزی سے یہ منظرعام  پر آئی ہے۔  
تھوڑی سے حیرانی ہے کہ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باوجوہ کی ریاض آمد کے روز، ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز میجر جنرل بابر افتخار نے واضح طور پر کہا تھا: ’سعودی پاک تعلقت تاریخی ہیں، بہت اہم ہیں، ہمیشہ شاندار رہے ہیں اور ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے۔ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔۔۔ کسی کو بھی مملکت سعودی عرب کی مسلم دنیا میں مرکزیت کے بارے میں شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ ہمارے دل سعودی عرب کے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ چنانچہ، ہمارے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوالات اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘
اس کے بعد شاہ محمود قریشی کی تلخ تنقید کی کیا اہمیت ہے؟ کیا وزیراعظم عمران خان انہیں مستقبل میں محتاط رہنے کی یاد دہانی کرائیں گے، کیونکہ ہمارے برادرانہ تعلقات کو نقصان ہمارے انفرادی قومی مفاد اور عوامی خواہشات کے خلاف جائے گا۔
جیسا کہ سعودی عرب وژن 2030 کے تحت تیل کے علاوہ اپنی معیشت میں تنوع لا رہا ہے، جو  ہمارے جوان ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ذہنی تخلیق ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں مزید پاکستانی سعودی انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کی تیاری میں شامل ہوں گے۔ اس موقعے سے مستفید ہونے کے لیے سعودی حکومت پاکستانی نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے سکالرشپس میں بھی اضافہ کر چکی ہے۔
ہمارے پاکستان میں طویل المدتی سیاسی اور معاشی سٹیکس ہیں اور یہ اطمینان بخش بات ہے کہ گذشتہ دو برسوں میں دونوں ممالک کے کاروباری حضرات اور تاجروں کے درمیان دوطرفہ تعلقات بڑھے ہیں۔ کیا یہ حیران کن نہیں کہ حالیہ وبا کے دوران بھی جون میں پاکستان کی سعودی عرب کو برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے؟
میں یہ کہتے ہوئے اختتام کروں گا کہ سعودی پاک تاریخی شراکت کسی بھی ناکامی سے بالاتر ہیں۔ یہ مستقبل میں پھلے پھولے گی، جیسا کہ ماضی میں پھلتی پھولتی رہی ہے، راستے میں اس کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو شکست دیتے ہوئے، ہمارے دونوں ممالک کے عوام کی محبت اور خلوص کے ساتھ۔
ڈاکٹر علی عواض عسیری سابق سینیئر سعودی سفارت کار ہیں۔ وہ پاکستان میں سنہ 2001 سے 2009 تک سعودی عرب کے سفیر کے طور پر تعینات رہے۔ انہوں نے بیروت عرب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور کتاب ’کامبیٹنگ ٹیررازم: سعودی عربز رول ان دی وار آن ٹیرر‘ کے مصنف ہیں۔
 

شیئر: