Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سول اور فوجی افسران کو ملنے والے غیر ملکی تحائف کی تفصیلات طلب

سرکاری سطح پر اعلیٰ عہدیداروں سے ملنے والے تحائف کو توشہ خانہ میں جمع کروایا جاتا ہے (فوٹو: کابینہ ڈویژن)
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائیکورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کے بعد احکامات جاری کیے ہیں کہ ملک کے تمام سول اور فوجی افسران کو پچھلے پانچ سالوں میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں۔
عدالت نے یہ احکامات ایک وکیل کی درخواست پر دیے ہیں جس میں انہوں نے گذشتہ مہینے ہونے والی توشہ خانہ کی نیلامی کو روکنے کی استدعا کی تھی۔ 
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد نومبر میں ہونے والی نیلامی تو روک دی تھی تاہم سرکاری رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ مقدمے کی دوسری سماعت کے بعد عدالت نے پچھلے پانچ سالوں کے تحائف کی تفصیلات طلب کر لی ہیں جو سول اور فوجی افسران کو دیے گئے۔
درخواست گزار ایڈووکیٹ عدنان پراچہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ انہوں نے یہ درخواست عوامی مفاد میں دائر کی ہے۔ ’عوام کو پتہ ہونا چاہیے کہ ریاست کے پاس موجود قیمتی تحائف قوم کی امانت ہیں اور ان کو محض افسران میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔‘

سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب توشہ خانہ کیس میں طلب کر رکھا ہے۔ فوٹو روئٹرز

خیال رہے کہ اس سے پہلے پاکستان میں دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف توشہ خانہ کے حوالے سے مقدمات نیب میں چل رہے ہیں۔ ایک مقدمے میں سابق صدر آصف علی زرداری جبکہ ایک مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نیب نے طلب کر رکھا ہے۔ اسی طرح ان دونوں سابق سربراہان کو توشہ خانہ سے تحائف دینے کے الزام میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر بھی مقدمہ چل رہا ہے۔
 جبکہ ان دو مقدمات کے علاوہ لاہور ہائیکورٹ میں چلنے والا یہ تیسرا مقدمہ ہے، جس میں ملک کے توشہ خانہ کو زیر بحث لایا گیا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق  نومبر میں 172 تحائف کی نیلامی کے لیے جو نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا اس میں یہ کہا گیا تھا کہ صرف سرکاری اور فوجی افسران کو یہ تحائف نیلامی میں فروخت کیے جا سکتے ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

توشہ کانہ سے تحائف دینے پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر بھی مقدمہ چل رہا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

توشہ خانہ بنیادی طور پر گفٹ چیسٹ کو کہتے ہیں اور یہ سرکاری طور دوسری ریاستوں سے ملنے والے تحائف کو رکھنے کی جگہ ہوتی ہے۔
پاکستان میں توشہ خانہ کیبنٹ ڈویژن کی عمارت میں واقع ہے۔ اور کیبنیٹ کے رولز آف بزنس کے تحت ایک خاص وقت کے بعد ان تحائف کو نیلام کر دیا جاتا ہے۔ تاہم موجودہ رولز کے تحت اس نیلامی میں صرف فوجی اور سول افسران حصہ لے سکتے ہیں۔  لاہور ہائیکورٹ میں چلنے والے اس مقدمے میں ان رولز کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

شیئر: