Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ثقافت کے رنگ،دنیا کی دھنک

 
دنیا میں بہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں درجنوں قومیں آباد ہیں
عنبرین فیض احمد۔ ریاض
دنیا میںبہت سارے ممالک ایسے ہیں جہاں درجنوں قومیں آباد ہیں، ہر قوم اور ہر علاقے کی اپنی رسوم و رواج ہوتے ہیں جن میں ان کی دستکاریاں اور پھر ان کے رہن سہن کے انداز ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ ان ثقافوں اور تہذیبوں کے رنگوں نے دنیا کو دھنک جیسے روپ میں تبدیل کردیا۔ یہ لوک ورثہ، رسم و رواج اور دستکاریاں دیکھ کر ہر انسان میں ایک کشش پیدا ہوتی ہے۔ ان علاقوں میںبسنے والوں میں شاید اتنی کشش اور جاذبیت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ یہ ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اوروہ ان ثقافتوں کو دیکھنے اوربرتنے کے عادی ہوتے ہیں۔ان چیزوں کی خوبصورتی کا ان کو احساس تک نہیں ہوپاتا البتہ مغربی ممالک کے لوگوں کے لئے یہ روایات، رسم و رواج اور لوک ورثہ بڑی اہمیت اور کشش کا باعث ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی روایات،ثقافت ، تہذیب ، لوک ورثہ اور اپنے فنون کی حفاظت کرنا ہم پر لازم ہے کیونکہ یہ روایات و ثقافت ہی قوموں کی پہچان ہوا کرتی ہے ۔
یہ درست ہے کہ پاکستان کے لوگ بہت محنتی اور جفاکش ہوتے ہیں۔ اس لئے ملک کے زیادہ تر علاقوں میں دستکاری کا اعلیٰ اور معیاری کام نسل در نسل ہوتا چلا آرہا ہے ۔عام طور پر خواتین اپنے گھروں میں اس قسم کی دستکاریاں کرتی ہیں مثلاً سندھ میں کپڑوں اور دوسرے لباس پر شیشہ سازی، کنندہ کاری کا نفیس کام نہایت ہی عمدگی سے ہوتا ہے جو اپنی جگہ بڑا منفرد ہے۔ سندھی اجرک بھی دنیا بھر میں بہت مقبول ہے اور بہت پسندکی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں اللہ تعالیٰ نے ایسے ہنرمند پیدا فرمائے ہیں جو اپنی مثال آپ ہیں اورجو ہمارے لئے باعث فخر ہیں۔
پاکستان میں پائے جانے والے مختلف لوک فنون اور دستکاری کی روایات کافی قدیم ہے اور یہاں تو کچھ فن ایسے بھی ہیں جن کی تاریخ قدیم تہذیب سے ملتی ہے ۔ اندرون سندھ دستکاروں کیلئے ان کا فن دستکاری ہی ان کے روزگار کا واحد ذریعہ تھا ۔ کچھ عرصہ پہلے تک شہر وںمیں دستکاری کی دکانیں دکھائی دیتی تھیں جہاں آنے والے خریداروں کی اکثریت غیر ملکیوں کی ہوتی تھی مگر ملک کی موجودہ صورتحال نے مقامی مارکیٹ کو کافی متاثر کیا ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود ان دستکاری اشیاءکی عالمی مارکیٹ میں کافی مانگ نظر آتی ہے۔
دھنک کے صفحے پر جو تصویر شائع کی گئی ہے اس میں دو خواتین ملبوسات پر مختلف ڈیرائن کاڑھ رہی ہیں۔ یہ وہ دستکاریاں ہیں جن میں میز پوش ، تکیہ غلاف، دستی رومال ، پردے ، چادریں، دسترخوان ، کشن اور ایسے دیگر پارچہ جات شامل ہیں۔ بہت سی دیگر مصنوعات جن میں ستارے ٹانکنا، کرن لگانا،گوٹے سے پھول بنانا، کڑھائی کرنا، ریشمی دھاگوں سے نام لکھنا، یہ سب ہماری مشرقی تہذیب کی خاص روایات تصور کی جاتی ہیں اور بہت سی دیگر چیزیں ایسی ہیںجس کی دنیا بھر میں مانگ ہے۔ مثال کے طور پر مٹی کے ظروف، روغنی ٹائلوں اور دیگر آرائشی مصنوعات پر جب کاریگر اپنے ہاتھوں سے خوبصورت اور دلکش نقش و نگار بناتے ہیں تو یہ انتہائی حَسین اور دلکش دکھائی دیتی ہیں۔ انہیں ہم ”بلیو پوٹری “کے نام سے بھی پہچانتے ہیں۔
یہ بالکل درست ہے کہ مشرقی تہذیب و روایات میں نہ صرف بہت ساری خوبیاں ہیں بلکہ اس میں شرم و حیا کے اوصاف بھی پائے جاتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری خواتین بہت ہنرمند ہیں ،وہ گھر میں بیٹھ کر دستکاری کے کام انجام دے سکتی ہیں، مختلف گھریلو اشیاءتیار کرسکتی ہیں ۔ اگر ان کے تمام فنون کو یکجاکرکے ان کو سراہا جائے تو ان کوگھریلو صنعت کی شکل دی جاسکتی ہے۔ جس طرح دوسرے ملکوں میں خواتین گھروں میں چیزیں تیار کرتی ہیں اور انہیں گھریلو صنعت کے طور پر دنیا کے سامنے متعارف کروایا جاتا ہے۔ وہ زندگی کو بہتر انداز میں بسر کررہی ہیں۔ وہ اپنی زندگی میں خوشحالی لانے کی کوشش میں سرگرم عمل ہیں ۔ اس طرح ملک کے لئے زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔ گھریلو صنعت کا رواج ہمارے ملک میں بھی عام ہونا چاہئے اور ان کاریگروں کو بھی سہولتیں دینی چاہئیں ۔
پاکستان میں دستکاری اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کیلئے اقدامات انتہائی ضروری ہیں۔یہ کوشش کرنی چاہئے کہ گھروں میں بیٹھی خواتین کی دستکاری مصنوعات کی منڈی تک رسائی ہوسکے تاکہ ان کی مانگ میں مزید اضافہ ہوسکے۔ دیہی علاقوں کی خواتین کو باقاعدہ تربیت فراہم کر کے مصنوعات کی تیاری میں مدد بھی مل سکتی ہے۔ ان خواتین کو جہاں روزگار کے مواقع بھی فراہم ہونگے ،وہاں ہنرمند افراد کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔
ہمارے وطن میں اللہ تعالیٰ نے ایسے گوہر پیدا فرمائے ہیں جن کی ہنرمندی کے باعث نت نئی مصنوعات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یوں کہئے کہ پاکستان میں ہنرمندوں کی کمی نہیں ہے لہٰذا ایسی حکمت عملی اپنائی جانی چاہئے جس کے تحت ان مصنوعات کو عالمی منڈی تک پہنچایا جاسکے۔یہی نہیں بلکہ گاہے بگاہے نمائش کا بھی اہتمام ہونا چاہئے تاکہ ہنرمند افراد کو اپنی فنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم ہو سکے اور ان ہنرمندوں کو ان کی محنت کا صلہ معقول معاوضے کی صورت میں مل سکے۔ 
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ان دستکاری مصنوعات کی تشہیر نہیں کی جاتی جس کی وجہ سے ان مصنوعات کو مارکیٹ تک رسائی نہیں مل پاتی ۔اس لئے حکومت کو چاہئے کہ ملک کے مختلف شہروں میں نمائشوں کا اہتمام کرے تاکہ ان دستکاریوں کی مناسب تشہیر ہوسکے اور ساتھ ہی ہنرمند وں کی حوصلہ افزائی ہوسکے۔ اس کے علاوہ حکومت اس صنعت کو پروان چڑھائے اور ان جیسی صنعتوں کو اس مقام تک لائے جس طرح دوسرے ممالک نے ان صنعتوں کو اہم مقام تک پہنچایا ہے۔ کوریا اور تائیوان جیسے ممالک میں ان صنعتوں پر خاص توجہ دی گئی ہے جس سے نہ صرف خواتین کے ہنر کو پذیرائی ملی بلکہ ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوئی۔ 
ظاہر ہے دنیا میں جہاں یہ مصنوعات جائیںگی وہاں ہمارے ملک کا نام روشن ہوگا جس سے زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا اور ملک میں خوشحالی بھی دستک دے گی۔سچ یہ ہے کہ نمائش ہونی چاہئے ۔ ایسی نمائشوں کو سیاح بہت پسند کرتے ہیں اور ان میں ضرور شرکت کرتے ہیں۔ 
******

شیئر: