Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بنوں حملہ: پاکستان نے افغان سفارت کار کو طلب کر لیا، ’حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں‘

پاکستان نے اسلام آباد میں متعین اعلیٰ ترین افغان سفارت کار کو دفترِ خارجہ طلب کر کے بنوں حملے پر شدید احتجاج کیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کا موقف ہے کہ ویک اینڈ پر ہونے والے اس خونریز خودکش حملے کی منصوبہ بندی ’افغانستان میں مقیم دہشت گردوں‘ نے کی تھی۔
حکام کے مطابق سنیچر کو پاکستان کے شمال مغربی علاقے بنوں میں ایک خودکش حملہ آور نے چیک پوسٹ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی تھی جس کے بعد عسکریت پسندوں نے پولیس پر اندھا دھند فائرنگ کی۔
اس حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’افغان ناظم الامور کو طلب کر کے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ واقعے کی تفصیلی تحقیقات، جمع کیے گئے شواہد اور تکنیکی انٹیلیجنس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس حملے کا ماسٹر مائنڈ افغانستان میں مقیم دہشت گرد تھے۔‘
’جدید ہتھیاروں اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال‘
افغان سرحد کے قریب واقع ضلع بنوں کے ایک اعلیٰ انتظامی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس حملے کی شدت غیرمعمولی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’عسکریت پسندوں نے حملے کے دوران بھاری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ’کواڈ کاپٹرز‘ (ڈرونز) کا بھی استعمال کیا۔‘
اہلکار نے مزید انکشاف کیا کہ اس کارروائی میں 100 سے زائد عسکریت پسندوں نے حصہ لیا۔
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بنوں کے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
سفارت خانے کا کہنا تھا ’پاکستان کے شہری امن، سلامتی اور دہشت گردی کی لعنت سے پاک مستقبل کے حق دار ہیں۔‘
پاک افغان تعلقات میں بڑھتی کشیدگی
حالیہ برسوں میں بنوں اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔
پاکستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجو افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔
دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی آئی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات گزشتہ چند ماہ سے انتہائی سرد مہری کا شکار ہیں اور یہ تناؤ بعض اوقات مسلح تصادم کی صورت بھی اختیار کر چکا ہے، جس میں افغانستان کے اندر پاکستانی فضائی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

شیئر: