اسرائیل کی شمولیت پر تنازعہ، یوروویژن 2026 سے سپین سمیت پانچ ممالک دستبردار
’یوروویژن‘ مقابلے کا آغاز سنہ 1956 میں ہوا تھا اور اسے یورپی براڈکاسٹنگ یونین منعقد کرتی ہے (فائل فوٹو: اے ایف پی)
سپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کے سرکاری نشریاتی اداروں نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ وہ اس ہفتے ہونے والا 70واں ’یوروویژن سانگ کانٹیسٹ‘ نشر نہیں کریں گے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ان ممالک نے اسرائیل کی شرکت کے خلاف اس ٹی وی ایونٹ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
ان تینوں ممالک نے نیدرلینڈز اور آئس لینڈ کے ہمراہ ویانا میں ہونے والے رواں سال کے مقابلے سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ایونٹ کا آغاز منگل کو ہوگا جبکہ گرینڈ فائنل سنیچر کو منعقد کیا جائے گا۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جنگ کے طرزِ عمل پر تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ شبہات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ کے شہر بازل میں ہونے والے ’یوروویژن 2025‘ کے دوران اسرائیل کو فائدہ پہنچانے کے لیے ٹیلی ووٹنگ سسٹم میں ہیرا پھیری کی گئی۔ بعض نشریاتی اداروں نے میڈیا آزادی سے متعلق بھی خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ اسرائیل نے ان کے صحافیوں کو غزہ تک رسائی سے روک دیا۔
سلووینیا کے نشریاتی ادارے آر ٹی وی نے کہا کہ ’یوروویژن کے سرکس کے بجائے قومی ٹی وی پر ‘وائسز آف فلسطین’ کے عنوان سے خصوصی پروگرام سیریز نشر کی جائے گی۔‘
آئرلینڈ کے نشریاتی ادارے آر ٹی ای نے اعلان کیا کہ جمعرات کو دوسرے سیمی فائنل کے دوران وہ ’دی اینڈ آف دی ورلڈ ود بینز‘ نشر کرے گا، جس میں 1993 کی ’یوروویژن‘ فاتح نیم کاوانا ناروے میں بارہ سنگھے پالنے والوں کے ساتھ زندگی کا تجربہ کرتی دکھائی دیں گی۔
جبکہ فائنل کے دوران آر ٹی ای سنہ 1990 کی دہائی کے مقبول آئرش کامیڈی سیٹ کام ’فادر ٹیڈ‘ کی یوروویژن تھیم پر مبنی خصوصی قسط نشر کرے گا۔
سپین کے نشریاتی ادارے آر ٹی وی ای کی جانب سے ’دی ہاؤس آف میوزک‘ کے نام سے خصوصی میوزیکل پروگرام نشر کیا جائے گا۔
اگرچہ نیدرلینڈز اور آئس لینڈ نے بھی مقابلے سے دستبرداری اختیار کی ہے، تاہم دونوں ممالک اپنے ہاں اس مقابلے کی نشریات جاری رکھیں گے۔
’یوروویژن سانگ کانٹیسٹ‘ اس سال اپنی 70ویں سالگرہ منا رہا ہے، اور آسٹریا کا دارالحکومت ویانا دنیا کے سب سے بڑے لائیو ٹی وی میوزک ایونٹ کی میزبانی کے لیے بھرپور تیاریاں کر رہا ہے۔
پانچ ممالک کی دستبرداری کے بعد اس سال مقابلے میں صرف 35 ممالک حصہ لیں گے، جو 2004 میں شرکاء کی تعداد بڑھائے جانے کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔
’یوروویژن‘ مقابلے کا آغاز سنہ 1956 میں ہوا تھا اور اسے یورپی براڈکاسٹنگ یونین (ای بی یو) منعقد کرتی ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی پبلک سروس میڈیا یونین سمجھی جاتی ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ ’روس کو 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد مقابلے سے معطل کرنے کے باوجود اسرائیل کو یوروویژن سے خارج نہ کرنا بزدلی اور کھلے دوہرے معیار کی مثال ہے۔‘
ایمنسٹی کی سیکریٹری جنرل ایگنس کالامارڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’اسرائیل کی شرکت ملک کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ مقبوضہ غزہ میں جاری نسل کشی سے توجہ ہٹانے اور اسے معمول کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’گانے اور چمک دمک کو اسرائیلی مظالم یا فلسطینی عوام کی تکالیف سے توجہ ہٹانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘
اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک تحقیقاتی رپورٹ نے ستمبر میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ’غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے‘ تاہم اسرائیل اس الزام کی سختی سے تردید کرتا ہے۔
