Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

انڈیا میں نئے صدر کے لیے ووٹنگ شروع، قبائلی خاتون امیدوار فیورٹ

انڈیا میں صدر کا انتخاب پارلیمنٹ اور علاقائی مقننہ کے پانچ سو ارکان کرتے ہیں۔ (فوٹو: اے ایف پی)
انڈیا کی پارلیمنٹ میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے جس کے لیے پسماندہ قبائلی برادری سے تعلق رکھنے والی خاتون امیدوار کو فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دروپدی مرمو کا تعلق سانتھل قبیلے سے ہے اور ان کا نام حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے اس رسمی عہدے کے لیے دیا گیا ہے اور وزیراعظم نریندر مودی بھی اسی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔
اگر دروپدی منتخب ہو جاتی ہیں تو وہ ملک کی پہلی قبائلی اور دوسری خاتون صدر ہوں گی۔
ملک کے موجودہ صدر رام ناتھ کووند ملک کے دوسرے صدر ہیں جن کا تعلق دلت کمیونٹی سے ہے جس کو انڈیا میں نچلی ذات سمجھا جاتا ہے۔
 64 سالہ مرمو سیاست میں آنے سے قبل مشرقی ریاست اوڈیشہ کے سکول سے بطور ٹیچر وابستہ تھیں۔
وہ اس سے قبل بھی ریاست میں اہم عہدوں پر کام کر چکی ہیں جبکہ قریبی ریاست جارکھنڈ کی گورنر بھی رہیں۔
نامزد کیے جانے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’مرمو نے اپنی زندگی معاشرے کی خدمت اور کمزوروں کو بااختیار کرنے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔‘
صدارتی امیدوار کے لیے ان کے مرکزی حریف سینیئر سیاست دان یشونت سنہا ہیں جو ماضی میں بی جے پی کا حصہ رہے ہیں اور وزیر خزانہ اور خارجہ امور کے وزیر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
یشونت سنہا کی حمایت کانگریس سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں کر رہی ہیں۔

یشونت سنہا کو مارمو کا سخت حریف سمجھا جا رہا ہے۔ (فوٹو: انڈین ایکسپریس)

یشونت اس وقت نریندر مودی حکومت کے سخت ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’اس سال صدارتی انتخاب کے لیے مقابلہ دو افراد نہیں بلکہ دو نظریات کے درمیان ہے۔‘
ان کے مطابق ’صرف ایک فریق چاہتا ہے کہ ہمارے آئین میں درج شقوں اور اقدار کا تحفظ کیا جائے۔‘
انڈیا میں صدر کا انتخاب پارلیمنٹ اور ملک بھر میں پھیلی علاقائی مقننہ کے تقریباً 500 منتخب ارکان کرتے ہیں۔
ہر ووٹ کو حلقے کے سائز کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اگر کوئی بھی امیدوار 50 فیصد سے زیادہ حاصل نہیں کرتا تو سب سے کم ووٹ لینے والے امیدوار کو مقابلے سے باہر کر دیا جاتا ہے اور ان کے ووٹوں کو تب تک دوبارہ تقسیم کیا جاتا ہے جب تک کوئی امیدوار مطلوبہ معیار تک نہ پہنچ جائے۔
نتیجے کا اعلان رواں ہفتے کے آخر میں کیا جائے گا۔

شیئر: