Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایف آئی اے کی اعظم سواتی پر تشدد کے الزامات کی مذمت

عمران خان متعدد بار اعظم سواتی پر دوران حراست تشدد کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔ (فائل فوٹو: اے ایف پی)
پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سینیٹر اعظم خان سواتی پر مبینہ تشدد کے الزامات سے انکار کیا ہے۔
منگل کو ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق سوشل اور الیکڑانک میڈیا پر اعظم خان سواتی پر دوران گرفتاری اور جسمانی ریمانڈ کے دوران تشدد کرنے کے الزامات جیسی خبریں زیر گردش ہیں۔
’ایف آئی اے ملزم پر قانونی حراست کے دوران تشدد کے الزامات کی شدید مذمت کرتی ہے۔ پورے قانونی عمل کے دوران سینیٹر کے وقار اور تقدس کو یقینی بنایا گیا۔‘
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایف آئی اے کے سائبر ونگ نے اعظم سواتی کو اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔
عدالت پیشی کے وقت سینیٹر اعظم سواتی نے کہا تھا کہ ’میرے کپڑے پھاڑے گئے۔ مجھے ایک ٹوئٹ کرنے اور ایک نام لینے پر گرفتار کیا گیا، مجھ پر تشدد کیا گیا۔‘
سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان متعدد بار اعظم سواتی پر دوران حراست تشدد کے الزامات عائد کر چکے ہیں۔

عدالت پیشی کے وقت اعظم سواتی نے کہا تھا کہ ’میرے کپڑے پھاڑے گئے، مجھ پر تشدد کیا گیا۔‘ (فائل فوٹو: ٹوئٹر)

گزشتہ روز بھی اپنی پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’اس (اعظم سواتی) کے ساتھ ایسا اس لیے کیا گیا کہ اس نے آرمی چیف پر تنقید کر دی تھی۔ کیا دنیا میں آرمی چیف پر تنقید کرنے سے ایسا ہوتا ہے۔ ساری دنیا میں یہ خبر چھپی۔ آرمی چیف اور فوج کی بدنامی ہوئی۔ کیا آئین ہماری عزت کی حفاظت نہیں کرتا۔‘
سینیٹر اعظم سواتی کی گرفتاری کے خلاف پی ٹی آئی کے ارکان نے بھی سینیٹ اجلاس میں شدید احتجاج کیا تھا۔
ایف آئی اے کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ ’سینیٹر اعظم خان سواتی کے گھر پر چھاپہ اور گرفتاری قانون کے مطابق مجسٹریٹ فرسٹ کلاس کی موجودگی میں تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد عمل میں لائی گئی۔‘
’جوڈیشل مجسٹریٹ ایف آئی اے اسلام آباد کے حکم پر تشکیل کردہ میڈیکل بورڈ نے سینیٹر اعظم خان سواتی کو طبی لحاظ سے فٹ قرار دیا ہے۔‘

شیئر: