Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

غیر حتمی نتائج میں مرتضیٰ وہاب کراچی کے میئر منتخب، جماعت اسلامی کا احتجاج

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب کراچی کے میئر منتخب ہو گئے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے 173 جبکہ جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان نے 161 ووٹ حاصل کیے۔
تین دہائیوں سے کراچی کے بلدیاتی نظام پر حکومت کرنے والی سندھ کے شہری علاقوں کی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اس عمل میں شامل نہیں ہے۔
ووٹنگ کے بعد آرٹس کونسل کے باہر پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے کارکنان نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا۔  
پولیس اور رینجرز دونوں جماعتوں کے کارکنان کو پیچھے ہٹا رہی ہے۔
جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ’اس فراڈ عمل کو کالعدم قرار دے اور نیا شیڈول جاری کرے۔‘
جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق ’الیکشن کمیشن انصاف و شفاف انتخابات کروانے میں مکمل طور پر ناکام ہو گیا ہے۔ ‘
انہوں نے الزام لگایا کہ ’سندھ حکومت کے چاق و چوبند دستوں نے پی ٹی آئی کے 29 ارکان کو اغواء کر کے ووٹ ڈالنے سے روک دیا۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کی جانب سے میئر کے امیدوار کے لیے ترجمان سندھ حکومت بیریسٹر مرتضیٰ وہاب کا انتخاب کیا تھا۔ جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے امیر جماعت اسلامی کراچی انجینیئر حافظ نعیم میئر کے امید وار ہیں۔
بلدیاتی الیکشن کے بعد سے ہی دونوں جماعتیں یہ دعویٰ کر رہی ہیں کہ کراچی کا میئر ان کی جماعت سے ہی ہو گا۔
الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت کراچی میں بلدیاتی نمائندوں کی نشستوں پر سب سے زیادہ نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہیں جن کی تعداد 155 ہے۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے پاس اس وقت 130 نشستیں ہیں۔ اور پاکستان تحریک انصاف کے پاس 62 نشستیں ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ نواز کے 14، جے یو آئی کے پاس چار اور ٹی ایل پی کے پاس ایک نشست ہے۔
میئر کے انتخاب میں ایوان میں موجود نمائندے شو آف ہینڈ کے ذریعے میئر کا انتخاب کریں گے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے بھی غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔
سندھ کے ساحلی علاقوں میں طوفان کے باعث اور تیز بارشوں کے پیش نظر میئر کے انتخاب کی تقریب بھی کے ایم سی کی تاریخی بلڈنگ کے بجائے آرٹس کونسل آف پاکستان میں رکھی گئی ہے۔

رفعت سعید کا کہنا ہے کہ اس بار بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ (فوٹو: اے ایف پی)

سینیئر صحافی رفعت سعید نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی بلدیاتی انتخابات میں معاملات اکثر ہی معمول سے مختلف رہے ہیں۔ چاہے 1987 میں ایم کیو ایم کا پہلی بار میئر بننے کا معاملہ ہو یا پھر مشرف دور میں جماعت اسلامی کے ناظم بننے والے نعمت اللہ خان کا معاملہ ہو۔
’2005 میں سابق سٹی ناظم سید مصطفیٰ کمال کے ناظم بننے پر بھی سیاسی جماعتوں نے اعتراض کیا اور پھر ان کی نظامت کے دور کے بعد ایک طویل انتظار رہا اور عدالتی فیصلے پر ایک بار پھر وسیم اختر کی صورت میں کراچی شہر کو میئر ملا۔‘
ان کا کہنا ہے کہ وسیم اختر کے میئر بننے کا عمل بھی آسان نہیں تھا۔ الطاف حسین کی متنازع تقریر کے بعد ایم کیوایم کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ ایم کیو ایم کے امیدوار رو پوشی میں تھے اور کسی بھی مقام پر جمع نہیں ہو پا رہے تھے۔ ایسے میں متحدہ کے رہنما فاروق ستار نے الگ جماعت کا اعلان کیا اور اپنی رہائش گاہ کے قریب واقع گھانچی ہال میں رات گئے تمام بدلیاتی نمائندوں کا اجلاس کیا۔
رفعت سعید  کے مطابق ’اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایم کیوایم کے میئر کے امیدوار وسیم اختر کو سپورٹ کرنے کے لیے تمام امیدوار کام کریں گے۔ میئر کے امیدوار وسیم اختر کو کراچی سینٹرل جیل سے بکتر بند گاڑی میں پولو گراؤنڈ لایا گیا اور حلف برداری کی تقریب مکمل ہونے پر انہیں واپس جیل بھیجا گیا۔ اس دوران ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ نے میئر کراچی کے طور پر خدمات سر انجام دی۔‘

حافظ نعیم الرحمنٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس میئر بننے کے لیے نمبرز پورے ہیں۔ (فوٹو: جے آئی فیس بک)

رفعت سعید کا کہنا ہے کہ ’اس بار بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کو مشکلات کا سامنا ہے۔ خاص کر 9 مئی کے واقعات کے بعد تحریک انصاف کے لیے کام کرنا آسان نہیں رہا ہے۔ رہنماؤں اور کارکنان کی مسلسل گرفتاریوں اور پارٹی سے علحیدگی کے بعد اب پی ٹی آئی تنظیمی طور پر مشکلات کا شکار ہے۔ اور پی ٹی آئی کے کئی اراکین اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف بھی جاتے نظر آ رہے ہیں۔‘
دوسری جانب جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمنٰ نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کی تھی جس کے بعد پی ٹی آئی نے میئر کے انتخاب میں جماعت اسلامی کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں پی ٹی آئی کے چند امیدواروں نے پارٹی فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے میئر کے انتخاب میں جماعت اسلامی کی حمایت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔
جماعت اسلامی کے میئر کے امیدوار حافظ نعیم الرحمنٰ نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس میئر بننے کے لیے نمبرز پورے ہیں۔
انہوں نے سندھ حکومت پر الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت سرکاری مشینری کا استعمال کرتے ہوئے ان کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ ’ہمارے اتحادیوں کے نمائندوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے اور انہیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ میئر کے انتخاب میں وہ جماعت اسلامی کا ساتھ نہ دیں۔‘

رتضیٰ وہاب نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے شہری علاقوں سے ایک بڑی قوت کے طور پر ابھر کر آئی ہے۔ (فوٹو: سندھ حوکمت)

پیپلز پارٹی کی جانب سے میئر کے امیدوار بیریسٹر مرتضیٰ وہاب نے اردو نیوز کو بتایا کہ ان کی جماعت کو کراچی کے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے پاس میئر بننے کے نمبرز پورے ہیں۔
بیریسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی سندھ کے شہری علاقوں سے ایک بڑی قوت کے طور پر ابھر کر آئی ہے۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد کے بعد اب کراچی میں بھی پیپلز پارٹی کا ہی میئر کامیاب ہو کر عوام کی خدمت کرے گا۔‘
سینیئر صحافی عبدالجبار ناصر نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی میں میئر کے انتخاب کے لیے ہونے والا انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی دونوں ہی اپنے امیدوار کو کامیاب کرنے کے لیے کوششیں کر رہی ہیں۔ دونوں جماعتیں چاہتی ہیں کہ کراچی میں سیاسی خلا کو پر کرتے ہوئے سندھ کے سب سے بڑے شہر میں اپنے پنجے مضبوط کریں۔ کیونکہ عام انتخابات بھی قریب ہیں اور کراچی میں ترقیاتی کاموں سمیت عوامی مسائل کو حل کر کے عام انتخابات میں فائدہ اٹھانے کے لیے دونوں جماعتیں سرگرم ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ آج فیصلہ ہوگا کہ کراچی کا اختیار کس کو ملتا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی کامیاب ہوجاتی ہے تو اسے ایک مضبوط اپوزیشن کا بھی سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ جماعت اسلامی کی کامیابی ان کے لیے بھی بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے ہوتے ان کے لیے کام کرنا بھی آسان نہیں ہو گا۔
الیکشن کمیشن نے سکیورٹی کی فراہمی کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھا تھا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے رینجرز کی فراہمی سے انکار پر سیکریٹری الیکشن کمیشن عمر حمید نے سیکریٹری داخلہ کو جوابی خط لکھا جس کے بعد وزارت داخلہ نے میئر و ڈپٹی میئر کراچی کے انتخابات میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رینجرز کی تعداد اور تعیناتی کا مقام الیکشن کمیشن حکام سے مشاورت کے بعد ہو گا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

وزارت داخلہ نے الیکشن کمیشن کو جواب میں لکھا ہے کہ 15 جون کو کراچی کے سات اضلاع میں میئر و ڈپٹی میئر انتخابات میں رینجرز کوئیک رسپانس فورس کے طور پر دستیاب ہو گی۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ رینجرز کی تعداد اور تعیناتی کا مقام الیکشن کمیشن حکام سے مشاورت کے بعد ہو گا۔
اعلان کردہ شیڈول کے تحت میئر کراچی کا انتخاب 15 جون کو ہو گا۔ سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدر آباد کے میئر اور ڈپٹی میئر بلا مقابلہ منتخب ہو گئے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کاشف شورو حیدرآباد کے میئر اور صغیر قریشی ڈپٹی میئر منتخب ہو گئے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے حیدرآباد کے میئر اور ڈپٹی میئر کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔ کاشف شورو اور صغیر قریشی دونوں کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔

شیئر: