ٹرمپ کا دورہ، اوباما انتظامیہ کی غلطیوں کا ازالہ

سعودی عرب کے بغیر امریکہ کے مفادات کا تحفظ ممکن نہیں،مملکت کے تعاون کے بغیروہ دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا
* * * * عبد الستارخان* * * * *
یہ سطور جب آپ پڑھ رہے ہوں گے اس وقت تک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب سے روانہ ہوچکے ہوں گے اور سعودی عرب کی کامیاب سفارتکاری کی واضح تصویر سامنے آچکی ہوگی۔ سابق اوباما انتظامیہ کی 8سالہ غلط پالیسیوں کے ازالے کیلئے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاض کا 2روزہ دورہ کیا اور3سربراہ کانفرنسوں میں شرکت کرکے کئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرلیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اس خوبی کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ اس نے آتے ہی اور وقت ضائع کئے بغیر زمینی حقیقت کا ادراک کرلیا کہ خلیجی اور اسلامی ممالک کوامریکہ بہت دیر تک ناراض نہیں رکھ سکتا نیز خلیجی ممالک کوبھی خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے عالمی طاقت کے سہارے کی ضرورت ہے۔
ویسے تو یہ مشترکہ مفادات ہیں مگر بات برابری کی سطح پر ہے۔ سعودی عرب نے واضح کردیا کہ امریکہ اس کی ضرورت ہے مگر امریکہ نے بھی برملا اعتراف کرلیا کہ سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے بغیر اس کا گزارہ ممکن نہیں۔جب اس زمینی حقیقت کو قبول کرلیاگیا ہے تو اب آئیے مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے مستقبل کی طرف پیشقدمی کی جائے۔ ٹرمپ کے دورہ ریاض کے 4بنیادی مقاصد واضح طور پر نظر آرہے ہیں۔ امریکہ کو یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ سعودی عرب کے بغیر امریکہ کے مفادات کا تحفظ ممکن نہیں۔ امریکہ ، سعودی عرب کے تعاون کے بغیر دہشتگردی کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ سعودی عرب وہ ملک ہے جو داعش اور القاعدہ سمیت دیگر دہشتگرد تنظیموں کا مقابلہ فرنٹ لائن میں کر رہاہے۔ وقت نے ثابت کردیا کہ امریکہ کے تحفظ کے لئے سعودی عرب سے بہتر شریک نہیں ہوسکتا۔
ٹرمپ کے دورے کا دوسرا مقصد بھی پہلے مقصد کے ضمن میں ہے کہ امریکی رائے عامہ کی نظر میں سعودی عرب کی حیثیت ، اہمیت اور افادیت واضح نہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لئے سعودی عرب کا انتخاب کرکے امریکی رائے عامہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ اس کے مفادات کا تحفظ سعودی عرب کے بغیر ممکن نہیں۔ ٹرمپ کے دورے کا تیسرا بنیادی مقصد انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ الیکشن مہم کے دوران ٹرمپ کے مختلف بیانات سے یہ سمجھا گیا تھا کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کے مخالف ہیں ۔ ٹرمپ کی خواہش ہے کہ انتہا پسندی اور اسلام کے متعلق ان کے نظریا ت کو خلط ملط نہ کیا جائے۔
وہ چاہتے ہیں کہ انتہا پسندی کیخلاف ان کے بیانات اور فیصلوں کو اسلام کیخلاف نہ سمجھا جائے۔ ان غلط تصورات کو درست کرنے کیلئے اس سے بہتر اور کیا موقع ہوسکتا ہے کہ وہ حرمین کی سرزمین میں پورے عالم اسلام کی قیادت سے خطاب کریں اور اسلام کے متعلق اپنے نظریات کی وضاحت کریں۔ ٹرمپ کے دورہ ریاض کا چوتھا مقصد ایران کو واضح پیغام دینا ہے کہ اوباما انتظامیہ کے زمانے میں امریکہ کے ساتھ اس کی قربت قصۂ ماضی بن چکا ہے۔ امریکہ خلیجی اور اسلامی ممالک کو ناراض کرکے ایران سے قربت حاصل نہیں کریگا۔ ایران کی خطے میں اچھل کود اور پڑوسیوں کے داخلی معاملات میں مداخلت اب براشت نہیں کی جائیگی۔ٹرمپ کا2روزہ دورہ ریاض خطے میں نئی بنیادیں رکھنے کا باعث ہوگا۔
امریکی صدر کو اندازہ ہے کہ اوباما کے 8سالہ دور میں امریکہ کس قدربونا ہوگیا تھا۔ اب اسے اپنااصل کردار ادا کرنا ہے۔ امریکی صدر کا دورۂ ریاض محض عالمی طاقت کے سربراہ کا دورہ ہی نہیں تھا بلکہ اس میں مشترکہ مخالفین کے لئے کئی اہم پیغامات تھے۔ اس میں برملا اعتراف ہے کہ خلیج، عرب اور اسلامی ممالک میں سعودی عرب کی اہمیت اور حیثیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے بھی انتہائی مہارت سے اپنی تمام باتیں منوالیں۔ وہ زمانے لد گئے جب امریکہ سے اسلحہ خریدنے کے لئے نخرے اٹھانے پڑتے تھے۔ آج سعودی عرب نے صرف اسلحہ خریدنے کے معاہدے نہیں کئے بلکہ امریکی انتظامیہ سے اسلحہ کے ساتھ اس کی ٹیکنالوجی بھی خرید لی۔ جدید ہیلی کاپٹر’’ بلیک ہاک‘‘ کی نہ صرف خریداری کا معاہدہ ہواہے بلکہ سعودی عرب میں اسے تیار کرنے اور نوجوانوں کو اس کی تیاری کی تربیت دینے کا بھی معاہدہ ہوا ہے۔
اسی طرح دیگر قسم کے اسلحہ کی خریداری کے معاہدے بھی ہوئے مگر ساتھ یہ شرط بھی عائد کردی کہ یہ ٹیکنالوجی ہمارے نوجوانوں کو سکھائی جائے۔ سعودی عرب کی سفارتی پالیسی میں یہ تبدیلی آنے والی نسلوں کے لئے تحفظ اور بقا کی ضامن ہے۔ ریاض میں ہونے والی 3سربراہ کانفرنسوں کا پیغام بڑا واضح ہے ۔ دیوار پر لکھا جان بوجھ کر نہ پڑھا جائے تو اس میں قصور دیوار کا نہیں بلکہ پڑھنے والے کاہوگا۔ میرا خیال ہے کہ دیوار پر لکھا جسے پڑھانا مقصود ہے وہ اتنا بھولا بھی نہیں۔ اس نے جلی حروف کو نہ صرف پڑھ لیا بلکہ خوب سمجھ بھی لیا ہوگا۔ امریکہ نے گزشتہ 8سال کے دوران دنیا کی قیادت کا جو کام چھوڑ دیا تھا اسے دوبارہ سنبھال لیا اور سعودی عرب جو کل بھی عرب اور عالم اسلامی کا قائد تھا آج ایک مرتبہ پھر زیادہ واضح انداز میں قیادت سنبھال رہا ہے۔ انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے عناصر اس حقیقت سے جتنی جلدی واقف ہوجائیں اتنا اچھا ہے۔ باراک اوباما انتظامیہ کی وجہ سے یہ خطہ 8سال پیچھے چلا گیا ہے ، اب اسے یہ خسارہ جلدی پورا کرنا ہے۔ امریکہ اور سعودی عرب اور کسی کو خطے میں مہم جوئی کی اجازت نہیں دے سکتے۔
اوباما انتظامیہ کے باعث خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا تھا۔ اپنے روایتی حلیفوں کو ناراض کرکے اس نے ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کرلئے جن کا تصور تک ممکن نہیں تھا۔ ان معاہدوں کے بل بوتے پر ایران کی خطے میں اچھل کود بھی ہورہی تھی۔ اب جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے زمینی حقیقت کا ادراک کرلیا ہے تو خطے میں طاقت کا ازسر نو توازن ضروری ہوگیا ہے۔ سعودی عرب کی روایت رہی ہے کہ وہ انتہائی نرم سیاسی پالیسی اختیار کرتا رہا ہے۔ اس نے کبھی بھی دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہیں کی۔ اب حالات تقاضا کررہے ہیں کہ سعودی عرب اپنے، خطے کے اور اسلامی ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لئے اپنا پورا وزن استعمال کرے ۔ ریاض میں ہونے والی کانفرنس میں 55مسلم ممالک کے رہنماؤں اور نمائندوں کی شرکت سے ثابت ہوگیاہے کہ اب سعودی عرب نے اپنی خارجی پالیسی تبدیل کرلی ہے۔
امت کے تحفظ اور خطے کی سلامتی کیلئے وہ اپنا وزن استعمال کر رہا ہے۔ ریاض کانفرنس میں شریک ممالک واضح پیغام دے رہے ہیں۔ ایران کی مداخلت منظور ہے، دہشتگردی اب ناقابل برداشت ہے، انتہا پسند افکار ونظریات کا اس امت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اسلامی ممالک کا یہ اتحاد توسیع پسند نظریات رکھنے والوں سے کہہ رہا ہے کہ انقلاب برآمد کرنے کا خواب کبھی پورانہیں ہوگا۔ خود سعودی عرب کو دل سے یہ بات پسند نہیں مگر دل پر پتھر رکھ کر کیا جارہا ہے کہ اتنے بڑے اسلامی اتحاد میں ایک بڑا اسلامی ملک شامل نہیں۔ سعودی عرب کے بازو کھلے ہیں۔ آج اپنے انقلابی نظریات کو اپنے ملک کی حد تک رکھیں، خطے میں مداخلت ترک کردیں، دہشتگردوں کی پشت پناہی چھوڑدیں اور اپنی نیت صاف کرلیں تو اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہوگی۔

شیئر: