Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان میں ’ایکس‘ کی بندش کو ایک ہفتہ مکمل، ’اختلاف رائے پر قدغن لگانے کی کوشش‘

پاکستان میں ’ایکس‘ کی سروسز سنیچر 17 فروری کو معطل کی گئی تھیں (فائل فوٹو: روئٹرز)
پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کی بندش کو ایک ہفتہ مکمل ہو گیا، ڈیجیٹل حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بندش انتخابات میں دھاندلی کے دعوؤں کے بعد اختلاف رائے پر قدغن لگانے کی کوشش ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایکس جو ماضی میں ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، ایک ہفتہ قبل سنیچر اس وقت بند ہوا تھا جب ایک سینیئر حکومتی عہدیدار (سابق کمشنر راولپنڈی) نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات میں دھاندلی کا اعتراف کیا تھا۔
گذشتہ ہفتے کے دوران ’ایکس‘ کو وقفے وقفے سے بند کیا جاتا رہا اور اس تک رسائی کا انحصار انٹرنیٹ سروس پرووائیڈار پر تھا۔
ویب کی نگرانی کرنے والے ادارے ’نیٹ بلاکس‘ سے منسلک الپ ٹوکر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے اپنا موقف پیش کیا۔
الپ ٹوکر کا کہنا تھا کہ ’یہ واضح ہے کہ پاکستان نے نیٹ ورک کے استعمال پر بندش اور پابندیاں حریف سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنانے اور انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کو رپورٹ ہونے سے روکنے کے لیے لگائی ہیں۔‘
اے ایف پی کو اپنے رپورٹرز سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ایکس سنیچر کو دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ بڑے شہروں لاہور اور کراچی میں بھی بند رہا۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے جب کہ وزارت داخلہ نے رابطہ کرنے پر کوئی جواب نہیں دیا۔
جیل میں بند سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گذشتہ ہفتے انتخابی دھاندلی کے اعتراف کے بعد ملک گیر احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے ’بائٹس فار آل‘ نے کہا ہے کہ ’احتجاج کرنے والی سیاسی جماعتیں آزادی اظہار رائے، معلومات تک رسائی، آن لائن یکجا ہونے اور دیگر حقوق کے لیے ایکس کا استعمال کرتی رہی ہیں۔‘
ادارے نے جمعے کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’شہریوں کے لیے اس بندش کے باعث آن لائن بیانیے، معلومات کے تبادلے اور اختلاف رائے کو ظاہر کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔‘

’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق ’ایکس کی بندش کا مقصد انتخابی بے قاعدگیوں کو رپورٹ کرنے سے روکنا ہے‘ (فائل فوٹو: روئٹرز)

واضح رہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد سے کئی ماہ قبل ہی پی ٹی آئی کو کریک ڈاؤن کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث پارٹی کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے پر مجبور ہوئے۔
پارٹی نے اپنی زیادہ انتخابی مہم آن لائن چلائی جن میں ’ایکس‘ کے علاوہ انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بُک اور یوٹیوب پر بندش کے ذریعے پارٹی کی سوشل میڈیا تقریبات کو سنسر کیا گیا۔
حکومت کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بندش کی ذمہ داری ’تکنیکی عوامل‘ پر عائد کی گئی تھی۔
پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ان پابندیوں کے باوجود کسی بھی دوسری جماعت سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں، تاہم وہ اپنی مخالف جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے سے گریزاں رہی ہے۔
اس وجہ سے مقتدرہ کی حمایت یافتہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
وزارت داخلہ نے سکیورٹی وجوہات کو بنیاد بناتے ہوئے انتخابات کے روز بھی ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر دی تھی۔
انٹرنیٹ کی بندش کے علاوہ ووٹنگ کے نتائج میں طویل تاخیر کے باعث بھی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کو تقویت ملی۔

شیئر: