Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لگتا نہیں ہم بھی مشرقی تہذیب کے امیں تھے

ہم دیگر تہذیبوں کی پیروی کرتے ہیں، اپنی ثقافت اور اخلاقی قدروں سے ناآشنائی کافی بڑھ گئی ہے
* * * *عنبرین فیض احمد۔ ریاض* * * *
حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کوئی بھی قوم اپنی زبان، ادب، ثقافت ، تہذیب و روایات سے پہچانی جاتی ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ قومیں انہی اوصاف کی بقاء کیلئے بھرپور کوشش کرتی ہیں۔ یقینا کسی بھی قوم کی بقاء اور عظمت اس کی تہذیب اور ثقافت میں پنہاں ہوتی ہے۔ دنیا کی تمام زندہ قومیں اپنے تہذیبی و روایتی ورثے سے محبت کرتی ہیں اور اسکے تحفظ کیلئے ہر طرح سے اپنے آپ کو تیار رکھتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر قوم کی اپنی ایک شناخت ہوتی ہے جو اسے دوسرے سے ممتاز کرتی ہے۔ ہمارے وطن عزیز میں لوگ اپنی شناخت سے بے نیاز دکھائی دیتے ہیں۔
ہمارے لوگ جدیدیت اور روشن خیالی کے نام پر دیگر قوموں اور تہذیبوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اس لئے ہمارے ہاں اپنی ثقافت اور اخلاقی قدروں سے ناآشنائی اور دوری کافی بڑھ گئی ہے۔ بلاشبہ ہم زوال کی گہری کھائیوں میں جاگرے ہیں اور ان میں مزید اترتے ہی چلے جارہے ہیں۔ ہمارے ہاں بدعنوانی اور جھوٹ عام ہوتا جا رہا ہے جو ملک کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے جبکہ ان خوبیوں کے حامل اہم عہدوں پر براجمان ہیںاور ہمارے کرتا دھرتا بنے ہوئے ہیں۔ہم اپنے معاشرتی تہذیب سے کافی دور نظر آتے ہیں۔ ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ کبھی مشرقی تہذیب کے ہم امین ہوا کرتے تھے۔
ہمارے اردگرد پھیلی بے ہنگم روایات کے اندھیروں سے روشنی کی کوئی کرن پھوٹتی دکھائی نہیں دیتی۔ ہمیں یوں کہنا چاہئے کہ اخلاقی طور پر ہم تنزل کا شکار ہیں، اپنی تہذیب و روایات کو فراموش کرچکے ہیں ۔ ہمارے پاس اتنا بھی وقت نہیں کہ اپنے اخلاقی رویوں پر توجہ دیں۔ لگتا ہی نہیں کہ ہمارے اندر بھی شرافت کی قدریں موجود تھیں۔ آج وطن عزیز میں یہ وتیرہ عام ہے کہ جو شخص اغیار کی جتنی تقلید کرتا ہے وہ کامیابی کی اتنی ہی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے ۔
معاشرے میں خود سری اور بد اخلاقی بیماری کی طرح پھیل رہی ہے۔ خواہ وہ تعلیمی ادارے ہوں یا کھیل کا میدان ، شاپنگ سینٹر ہوں یا کوئی اور مقام، ہمارے نوجوان جا بجا تہذیب و شائستگی کو پامال کرتے رکھائی دیتے ہیں ۔ اس تیزتر تنزل نے تو جیسے ہماری عقل ہی سلب کرلی ہے۔ دھنک کے صفحہ پر شائع شدہ تصویر میں چند بچیاں ہاپوٹاپو کھیل رہی ہیں۔ یہ وہ کھیل ہے جس کو بعض لوگ ’’کیڑی کاڑا‘‘کہا جاتا ہے اور کہیں ’’پہل دوج‘‘ کا نام دیاجاتا ہے ۔ یہ کسی زمانے میں بہت کھیلا جاتا تھا اور بچیاں بہت شوق سے کھیلا کرتی تھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ قوم کے افراد کو اپنی روایات اور ثقافت سے منسلک رہنا چاہئے اور ساتھ ہی اس ثقافت کے فروغ کیلئے کام بھی کرنا چاہئے تاکہ وہ زندہ رہ سکے ، اسے اپنے معاشرے ، ملک اور محلے میں بھی شہرت حاصل ہو اور اگر ہوسکے تو ملک سے باہر بھی اس کی تشہیر کی جانی چاہئے لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ دنیا ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ چکی ہے، وہ ترقی کے میدان میں کتناآگے نکل چکی ہے۔
اردگرد کے لوگ ترقی کے میدان میں کافی آگے نکل چکے ہیں۔ہمیں دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہئے۔ ثقافت سے منسلک رہنا خوددار قوموں کا وتیرہ ہے ۔ تہذیب و ثقافت سے مربوط رہنے کامطلب یہ ہوتا ہے کہ صرف اپنی ہی تہذیب و تمدن و روایات پر زندگی بسر کرنے کو شعار بنایاجائے ۔ ہمیں دوسروں کی طرف بھی نگاہ اٹھاکر دیکھنا چاہئے اور ان کی اچھی چیزوں کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ دوسروں کی اچھی باتوں کو اپنانے میں کوئی حرج نہیں۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنی ثقافت سے منسلک رہنے کے جہاں اتنے فوائد ہیں وہاں نقصانات بھی ہیںکیونکہ اگر یہ سلسلہ دقیانوسیت کی طرف چل پڑے تو پھر دنیاوی ترقی مشکل ہو جاتی ہے اور قومیں ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جاتی ہیں پھر آہستہ آہستہ گمنامی کی طرف چلی جاتی ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ہمیں اغیار کی تقلید نہیں کرنی چاہئے۔
بلا شبہ معاشرے میں شرم و حیا عورت کا زیور ہوتا ہے ۔ عورت کو ہمیشہ اپنے آپ کومستور رکھنا چاہئے۔ آجکل کے آزادانہ اطوارسے معاشرے میں بہت سے منفی اثرات ظاہر ہو رہے ہیں ۔جہاں دیکھیں جرم ، برائی، بے حیائی وغیرہ عام دکھائی دیتی ہے۔ہمیں چاہئے کہ اپنی تہذیب و تمدن اور ثقافت کو ہمیشہ ساتھ لے کر چلیں۔ معاشرے میں شرم و حیا ، سماجی خوبصورتی کا نشان تصور کیا جاتا ہے۔ عورت کا اصل حسن اس کی شرم وحیا میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ حیا صنف نازک کے لئے قیمتی زیور کی طرح ہے ۔اس سے محروم کوئی بھی عورت معاشرے میں عزت و قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھی جاتی۔
کسی قوم کو جب آگے بڑھنا ہوتا ہے تو اسے زمانے کے ساتھ بھی رہنا پڑتا ہے لہٰذا دونوں اطراف دیکھ کر ہی رائے قائم کرنا چاہئے۔ ایک طرف تو یہ ہے کہ بعض لوگ اپنی ثقافت و روایات کو بھلاکر دوسروں کی تہذیب اپنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ شدت پسندی کے زمرے میں آتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم صرف اپنی ہی ثقافت اور تہذیب سے منسلک رہ کر دوسری قوموں سے تعلق توڑ کر بیٹھ جائیں تو ’’کنویں کے مینڈک ‘‘ کہلائیں گے لہٰذا ہمیشہ متوازن راہ اختیار کرنی چاہئے ۔اپنی تہذیب و تمدن کونہیں بھولنا چاہئے ، اس سے منسلک رہنا چاہئے اور ایسا بھی نہیں ہونا چاہئے کہ اپنی ثقافت و روایات کوچھوڑ کر اغیار کی تقلید شروع کردیں۔ متوازن راہ اختیار کرنے میں ہی ترقی ہے۔

شیئر: